مئی 2021 وچ جے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی ویر Abdul Latif Arain دی ایس لکھت نوں سنجیدہ لیندے تے فیر شاید 2023 دی مردم شماری وچ پنجاب پنجابی نال اے ہتھ ناں ہوندا ، مسلمان اک رڈ چوں دوجی واری نئیں ڈنگیا جا سکدا پنجابیو تسیں کداں دے انسان او اک ای رڈ چوں پچھلے پچھتر سالاں توں آپنے حقاں تے ڈاکہ برادشت کر دے آ رئے پر آپنے تے آن والیاں نسلاں دے مستقبل نوں کالا کرن والیاں خلاف حق سچ نئیں بولدے تہاڈی ایس بیحسی تے افسوس ای کیتا جا سکدا اے ... #PGFInt یہ مردم شماری ہے یا مردم بیزاری حد ہے کہ ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابی لاپتہ یا گمشدہ کر دئیے گئے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی پچھلی مردم شماری جو 1998 میں ہوئی تھی اس کے مطابق پنجابی بولنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کا %44.15 تھی جبکہ اب 2017 میں یہ تناسب گھٹا کر %38.78 بتایا گیا ہے یعنی پنجابی بولنے والوں کی تعداد میں میں %5.37 کی کمی کی گئی ہے اب جبکہ پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہتر ہزار بتائی گئی ہے تو اس کا 5.37 فیصد بنتا ہے ایک کروڑ گیارہ لاکھ اور ستاون ہزار اور یہ پنجابی بولنے والوں کی وہ تعداد ہے جو گنی ہی نہیں گئی یا چھپا لی گئی ہے جبکہ پاکستان میں رہنے والی دیگر زبانیں بولنے والے افراد کی تعداد میں کہیں کم اور کہیں زیادہ لیکن اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے سوائے اردو بولنے والوں کے ،حالانکہ اُن میں سے کئی حلقوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شائد ان کی آبادی کم دکھائی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا یاد رہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کی آبادی بڑھتی ہے لیکن تناسب کم و بیش وہی رہتا ہے اگر کوئی اضافہ یا کمی ہو بھی تو فیصد میں بھی نہیں بلکہ اعشاریہ پوائنٹس میں ہوتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے انیس سال میں پنجاب میں نا تو کوئی قحط آیا نا کوئی طاعون پھیلا نا ہی کوئی خانہ جنگی ہوئی اور نا ہی کسی نے کوئی ایٹم بم مارا ہے تو پھر ان ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابیوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا کوئی دوست یہ بتا سکتا ہے کہ کیا یہ کوئی ڈیجیٹل ایرر ہے ، سسٹمیٹک دھاندلی ہے یا کوئی سوچی سمجھی طویل المدتی منصوبہ بندی ؟؟ #NawazSharif #PMShehbazSharif #BilawalBhuttoZardari #PPP #DGISPR #AmnestyInternational

 مئی 2021 وچ جے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی ویر Abdul Latif Arain دی ایس لکھت نوں سنجیدہ لیندے تے فیر شاید 2023 دی مردم شماری وچ پنجاب پنجابی نال اے ہتھ ناں ہوندا ، 

مسلمان اک رڈ چوں دوجی واری نئیں ڈنگیا جا سکدا پنجابیو تسیں کداں دے انسان او اک ای رڈ چوں پچھلے پچھتر سالاں توں آپنے حقاں تے ڈاکہ برادشت کر دے آ رئے پر آپنے تے آن والیاں نسلاں دے مستقبل نوں کالا کرن والیاں خلاف حق سچ نئیں بولدے تہاڈی ایس بیحسی تے افسوس ای کیتا جا سکدا اے ...

#PGFInt 

یہ مردم شماری ہے یا مردم بیزاری

حد ہے کہ ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابی لاپتہ یا گمشدہ کر دئیے گئے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی

پچھلی مردم شماری جو 1998 میں ہوئی تھی اس کے مطابق پنجابی بولنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کا %44.15 تھی جبکہ اب 2017 میں یہ تناسب گھٹا کر %38.78 بتایا گیا ہے

یعنی پنجابی بولنے والوں کی تعداد میں میں %5.37 کی کمی کی گئی ہے

اب جبکہ پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہتر ہزار بتائی گئی ہے تو اس کا 5.37 فیصد بنتا ہے ایک کروڑ گیارہ لاکھ اور ستاون ہزار اور یہ پنجابی بولنے والوں کی وہ تعداد ہے جو گنی ہی نہیں گئی یا چھپا لی گئی ہے

جبکہ پاکستان میں رہنے والی دیگر زبانیں بولنے والے افراد کی تعداد میں کہیں کم اور کہیں زیادہ لیکن اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے سوائے اردو بولنے والوں کے ،حالانکہ اُن میں سے کئی حلقوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شائد ان کی آبادی کم دکھائی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا

یاد رہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کی آبادی بڑھتی ہے لیکن تناسب کم و بیش وہی رہتا ہے اگر کوئی اضافہ یا کمی ہو بھی تو فیصد میں بھی نہیں بلکہ اعشاریہ پوائنٹس میں ہوتی ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے انیس سال میں پنجاب میں نا تو کوئی قحط آیا نا کوئی طاعون پھیلا نا ہی کوئی خانہ جنگی ہوئی اور نا ہی کسی نے کوئی ایٹم بم مارا ہے تو پھر ان ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابیوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا 

کوئی دوست یہ بتا سکتا ہے کہ کیا یہ کوئی ڈیجیٹل ایرر ہے ، سسٹمیٹک دھاندلی ہے یا کوئی سوچی سمجھی طویل المدتی منصوبہ بندی ؟؟

#NawazSharif 

#PMShehbazSharif 

#BilawalBhuttoZardari 

#PPP 

#DGISPR 

#AmnestyInternational





Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟