صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کرنے کا حکم دیا ھوا ھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا ھے کہ:

1۔ اس سے پہلے بھی ھم آرٹیکل 251 کے مندرجات کی اھمیت کی طرف توجہ دلوا چکے ھیں اور سرکاری امور میں قومی زبان اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی اھمیت کو اجاگر کرچکے ھیں۔

2۔ عدالت نے مشاہدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ' پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

3۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ' ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔

4۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ' اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔

5۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی وقار اور تعلیم باھم مربوط ھیں۔ تعلیم ' جو ایک بنیادی حق ھے ' براہ راست زبان سے تعلق رکھتی ھے۔

6۔ یونیسکو جیسا ادارہ بھی ' جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ' سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ' اس بات کی تائید کرتا ھے کہ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیئے کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔ لیکن حکومت اس اھم معاملے سے بے نیاز دکھائی دیتی ھے۔

حکومتوں کی بے عملی اور ناکامی کو سامنے رکھتے ھوئے ' ھمارے سامنے سوائے اسکے کوئی راستہ نہیں کہ ھم حکم جاری کریں: 

1۔ آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔

2۔ بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باھمی رابط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

3۔ اس فیصلے کے اجراع کے بعد ' اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اھلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا ' اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ھوگا۔

4۔ اس فیصلے کی نقل تمام وفاقی اور صوبائی معتمدین کو بھیجی جائے تاکہ وہ آرٹیکل 5 کی روشنی میں آرٹیکل 251 پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر اقدام اٹھائیں۔ وفاق اور صوبوں کی جانب سے اس ھدایت پر عمل درآمد کی رپورٹ تین ماہ کے اندر تیار ھوکر عدالت میں پیش کی جائے۔

آرٹیکل 251 کا متن ھے:

1۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ھے اور آغاز سے 15 سال کے اندر اندر یہ انتظام کیا جائے کہ اسکو سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

2۔ ذیلی دفعہ (1) کے اندر رھتے ھوئے انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری زبان کے طور پر استعمال کی جاسکے گی جب تک اس کے انتظامات نہیں کیے جاتے کہ اس کی جگہ اردو لے لے۔

3۔ قومی زبان کے مرتبہ پر اثر انداز ھوئے بغیر ایک صوبائی اسمبلی بذریعہ قانون ایسے اقدامات کرسکتی ھے جس کے ذریعہ صوبائی زبان کے فروغ ' تدریس اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کا بھی بندوبست کیا جاسکے۔

سپریم کورٹ کا حکم چونکہ واضح طور پر آرٹیکل 251 کے نفاذ کے لیے ھے ' نہ کہ صرف آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے لیے۔ اس لیے سپریم کورٹ کا حکم صرف اردو زبان کے نفاذ تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ بلکہ آرٹیکل 251 کے نفاذ کا مطلب  " اردو زبان کا بطور سرکاری زبان نفاذ اور قومی زبان کے متوازی صوبائی زبانوں کا فروغ ھے"۔ اس لیے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں اردو زبان استعمال ھوگی  جبکہ پنجاب کے صوبائی اداروں میں پنجابی ' سندھ کے صوبائی اداروں میں سندھی ' خیبر پختونخواہ کے صوبائی اداروں میں ھندکو اور بلوچستان کے صوبائی اداروں میں براھوی استعمال ھوگی۔

سپریم کورٹ کا حکم اگر صرف آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے لیے ھوتا تو اس سے مراد صرف اردو زبان کا بطور سرکاری زبان نفاذ ھوتا لیکن سپریم کورٹ کا حکم چونکہ آرٹیکل 251 کے نفاذ کے لیے ھے اور آرٹیکل 251 کے نفاذ کا مطلب آرٹیکل 251 (1) ' آرٹیکل 251 (2) آرٹیکل 251 (3) کا نفاذ ھے۔ اس لیے پنجاب حکومت اور معزز اراکینِ پنجاب اسمبلی سے پنجاب کے عوام کا مطالبہ ھے کہ پنجاب اسمبلی فوری طور پر پنجابی زبان کو تعلیمی اور دفتری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کرے۔

پنجابی قوم ' سماٹ قوم ' ھندکو قوم اور بروھی قوم کے لیے بھی ضروری ھے کہ اس سازش کی مذمت کریں کہ سپریم کورٹ کے حکم کو صرف اردو زبان کے بطور سرکاری زبان نفاذ تک محدود رکھ کر مشتہر کیا جا رھا ھے۔ جبکہ سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ھے کہ: "آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے"۔

پاکستان کی زمین پر گذشتہ 68 سال سے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کی زبان کو نظر انداز کرکے ' اردو زبان کو  پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر مسلط کرکے وادیِ مہران کی تہذیب و ثقافت کی حامل  پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کو گنگا ' جمنا تہذیب و ثقافت اختیار کرنے پر مجبور کیا جارھا ھے۔ حالانکہ بنگالی قوم جو آبادی کے لحاظ سے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادھ تعداد میں تھی ' اردو زبان اور گنگا ' جمنا تہذیب و ثقافت اختیار کرنے سے انکار کرکے  1971 میں ھی پاکستان سے الگ ھو کر اپنی زمین پر اپنی زبان ' تہذیب ' ثقافت کو بحال کرکے ' اردو زبان کی بالادستی سے نجات حاصل کرچکی ھے اور پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قومیں مستقل مطالبات کررھی ھیں۔

اصل حقیقت یہ ھے کہ اردو کے ساتھ یوپی ' سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں کے علاوھ کسی کو دلچسپی نہیں. پاکستان کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی تو ویسے ھی اردو نہیں بولتے لیکن پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں رھنے والے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی بھی خوشی سے نہیں بلکہ صوبوں میں بھی اردو کے دفتری اور تعلیمی زبان ھونے کی وجہ سے مجبورا اردو بولتے ھیں. اس لیے سپریم کورٹ کے " آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کرنے " کے حکم کے بعد اب فوری طور پر آرٹیکل 251 (3) کے نفاذ کے لیے پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ' سندھ کی سندھی' پختونخواہ کی ھندکو اور بلوچستان کی براھوی کرنے کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 251 (1) کے نفاذ کے ناقابلِ عمل ھونے کی وجہ سے آرٹیکل 251 (1) میں آئینی ترمیم کرکے " پاکستان کی قومی زبان اردو ھے" کے بجائے " پاکستان کی قومی زبان پنجابی' سندھی' ھندکو اور براھوی ھے" کردیا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int