پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

 پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی

جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟

اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟


Who Ruled Punjab from 1937 to 1955?


1. Sikandar Hayat Khan (Punjabi)

Prime Minister of Punjab

5 April 1937 to 26 December 1942 

5 years, 265 days Unionist Party


2. Malik Khizar Hayat Tiwana (Punjabi)

Prime Minister of Punjab

30 December 1942 to 5 February 1946 

3 years, 37 days Unionist Party


Governor Rule 

Bertrand Glancy (Britisher)

5 February 1946 to 21 March 1946 

44 days


3.  Malik Khizar Hayat Tiwana (Punjabi)

Prime Minister of Punjab

21 March 1946 to 2 March 1947 

346 days Unionist Party


Governor Rule 

Evan Meredith Jenkins (Britisher)

2 March 1947 to 15 August 1947


List of Chief Ministers of Punjab (since 1947)


01. Nawab Iftikhar Hussain Khan Mamdot (Pathan)

Chief Minister of Punjab

15 August 1947 to 25 January 1949 

1 year, 163 days Muslim League 


Governor's rule

Abdur Rab Nishtar (Pathan)

25 January 1949 to 5 April 1951


02. Mian Mumtaz Daultana (Punjabi)

Chief Minister of Punjab

15 April 1951 to 3 April 1953 

1 year, 353 days Muslim League


03. Sir Feroz Khan Noon (Punjabi)

Chief Minister of Punjab

3 April 1953 to 21 May 1955 

2 years, 48 days Muslim League 


04. Abdul Hamid Khan Dasti (Baloch)

21 May 1955 to 14 October 1955 

146 days Muslim League 


Post Abolished

Part of West Pakistan province

14 October 1955 to 30 June 1970.


*PNF Sindh*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔