میں اپنے تمام ناقدین اور ھم خیال بھائیوں کا مشکور ھوں کہ وہ میری رہنمائی اپنی تنقید اور اصلاح سے کرتے رھتے ھیں ، سپت سندھو دھرتی کے اصل زمین زاد وارثوں کے مسائل کو ایڈریس کرکے علمی انداز میں ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا، سفارشات مرتب اور پیش کرنا سب سپت سندھو واسیوں کا قومی فرض ھے میں چونکہ پنجابی بولنے والا سندھی ھوں اسلئے میری ذمہ داری ھے کہ سندھ میں ایک صدی سے زائد عرصے سے آباد اور مسائل اور مشکلات کا شکار سندھ کے پنجابی بولنے والے سندھیوں اور سپت سندھو دھرتی کے سماٹ حصے کے اصل زمین زاد سماٹ سندھی کے مسائل مشکلات محرومیوں اور استحصال کو ایڈریس کرکے علمی انداز اور دلیل کے ساتھ سفارشات پیش کروں اور شعور بڑھاؤں . میری تحریر اور سفارشات سے میرے ناقدین کے علاوہ میرے چاھنے والوں کو بھی اختلاف ھو سکتا ھے اور یہ ایک صحت مند رویہ ھے. اختلاف برائے اصلاح اور تنقید برائے تعمیر سے ھی ایک اجتماعی تعمیری اور مثبت رویہ جنم لیتا ھے ، لیکن تنقید برائے تنقید اور اختلاف برائے اختلاف ایک تخریبی اور منفی ردعمل ھے جسے سے معاشرے برباد اور لوگوں میں نفرت اور دوریاں پیدا ھوتی ھیں میرے آرٹیکل/تحریریں سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی کی محرومیوں اور مسائل پر ھوتی ھیں اسلئے کچھ دوست اور ناقد یہ تاثر لیتے ھیں کہ شاید میں اور میرا فورم .PGFInt بلوچ اور سید کو ٹارگٹ کرکے سندھ کے واسیوں کو تقسیم یا ایک دوسرے سے ٹکرانا چاھتا ھے سراسر غلط ھے ، سندھ میں غریب طبقے کے بلوچ اور سید بھی ان ھی مسائل کا شکار ھیں جس کا سامنا سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی اور دیگر سندھ واسی کر رھے ھیں ، چونکہ سندھ کے اختیارات اور اقتدار طویل عرصے سے عرب(سید/شاہ) اور کرد( بلوچ) وڈیروں سرداروں کے پاس ھیں اسلئے ان مسائل اور محرومیوں کی ذمہ داری بھی ان پر آتی ھے کسی علاقے یا خطے کی اکثریت کے حق اقتدار و اختیار پر اگر اس علاقے/خطے میں کسی دوسرے علاقے سے آئے اقلیتی لوگ مسلط یا قابض ھوں استحصال کہلاتا ھے اور استحصالی طبقہ چونکہ مال اور اقتدار کی ھوس میں مبتلا ھوتا ھے اسلئے اس علاقے/خطے کے لوگوں کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کے حقوق کا بھی استحصال کرتا ھے اسی وجہ سے سندھ میں غریب بلوچ اور سید بھی ان ھی مشکلات اور مسائل کا شکار ھیں جس کا سندھ کی اکثریت سماٹ سندھی اور پنجابی گجراتی تھری اور باقی قوموں کے غریب لوگ شکار ھیں میری پوسٹ اور آرٹیکلز کو کچھ لاعلم دوست لسانیت اور عصبیت کے کھاتے میں بھی ڈالتے ھیں میری ان سے درخواست ھے کہ قوم پرستی اور عصبیت، لسانیت، علاقائیت میں فرق کو سمجھیں .. قوم پرست آپنی عزت جان مال اور حقوق کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی سماجی عزت معاشی خوشحالی اور سیاسی ترقی کیلئے کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے والے دوسری قوموں کے مظلوم طبقے کے سماجی معاشی سیاسی حقوق کیلئے بھی جدوجہد کرتا اور آواز اٹھاتا ھے جبکہ عصبیت لسانیت علاقائیت پرست جائز ناجائز ہر طریقے سے صرف آپنی ذات اور قوم علاقے کیلئے دوسروں کے حقوق غصب کرتا اور ناجائز طریقے استعمال کرتا ھے . میری پوسٹ اور آرٹیکلز پر کمنٹ کرنے والوں سے درخواست ھے تعمیری اور مثبت تنقید دل کھول کر کریں، لیکن فضول دلیل کے بغیر اور گالم گلوچ والے کمنٹ نہ کیا کریں . پی جی ایف انٹرنیشنل(PGFInt) فورم دنیا کے ہر کونے میں بستے پنجابیوں کے مسائل مشکلات اور ان پر ھونے والے جبر اور زیادتی پر بات کرنے کے ساتھ وہاں کے باشندوں کے حقوق مسائل اور استحصال پر بات کرنے کے ساتھ انکی وکالت بھی کرتا ھے . ھم اپنی ہر بات دنیاوی اور دینی تمام پہلو بغور دیکھنے کے بعد کرتے ھیں پھر بھی غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ، اس لئے تمام دوست اس کی نشاندھی کرکے دلیل کے ساتھ ھماری اصلاح کریں اور لسانیت عصبیت علاقائیت اور غدار جیسے تمغے اور انعام نہ دیں .. جزاک اللہ خیر (افضل پنجابی) #PGFInt پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل

 میں اپنے تمام ناقدین اور ھم خیال بھائیوں کا مشکور ھوں کہ وہ میری رہنمائی اپنی تنقید اور اصلاح سے کرتے رھتے ھیں ،  

سپت سندھو دھرتی کے اصل زمین زاد وارثوں کے مسائل کو ایڈریس کرکے علمی انداز میں ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا، سفارشات مرتب اور پیش کرنا سب سپت سندھو واسیوں کا قومی فرض ھے

میں چونکہ پنجابی بولنے والا سندھی ھوں اسلئے میری ذمہ داری ھے کہ سندھ میں ایک صدی سے زائد عرصے سے آباد اور مسائل اور مشکلات کا شکار سندھ کے پنجابی بولنے والے سندھیوں اور سپت سندھو دھرتی کے سماٹ حصے کے اصل زمین زاد سماٹ سندھی کے مسائل مشکلات محرومیوں اور استحصال کو ایڈریس کرکے علمی انداز اور دلیل کے ساتھ سفارشات پیش کروں اور شعور بڑھاؤں .

میری تحریر اور سفارشات سے میرے ناقدین کے علاوہ میرے چاھنے والوں کو بھی اختلاف ھو سکتا ھے اور یہ ایک صحت مند رویہ ھے. 

اختلاف برائے اصلاح اور تنقید برائے تعمیر سے ھی ایک اجتماعی تعمیری اور مثبت رویہ جنم لیتا ھے ، 

لیکن تنقید برائے تنقید اور اختلاف برائے اختلاف ایک تخریبی اور منفی ردعمل ھے جسے سے معاشرے برباد اور لوگوں میں نفرت اور دوریاں پیدا ھوتی ھیں 

 میرے آرٹیکل/تحریریں سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی کی محرومیوں اور مسائل پر ھوتی ھیں اسلئے کچھ دوست اور ناقد یہ تاثر لیتے ھیں کہ شاید میں اور میرا فورم .PGFInt بلوچ اور سید کو ٹارگٹ کرکے سندھ کے واسیوں کو تقسیم یا ایک دوسرے سے ٹکرانا چاھتا ھے سراسر غلط ھے ، 

سندھ میں غریب طبقے کے بلوچ اور سید بھی ان ھی مسائل کا شکار ھیں جس کا سامنا سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی اور دیگر سندھ واسی کر رھے ھیں ، 

چونکہ سندھ کے اختیارات اور اقتدار طویل عرصے سے عرب(سید/شاہ) اور کرد( بلوچ) وڈیروں سرداروں کے پاس ھیں اسلئے ان مسائل اور محرومیوں کی ذمہ داری بھی ان پر آتی ھے 

کسی علاقے یا خطے کی اکثریت کے حق اقتدار و اختیار پر اگر اس علاقے/خطے میں کسی دوسرے علاقے سے آئے اقلیتی لوگ مسلط یا قابض ھوں استحصال کہلاتا ھے اور استحصالی طبقہ چونکہ مال اور اقتدار کی ھوس میں مبتلا ھوتا ھے اسلئے اس علاقے/خطے کے لوگوں کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کے حقوق کا بھی استحصال کرتا ھے اسی وجہ سے سندھ میں غریب بلوچ اور سید بھی ان ھی مشکلات اور مسائل کا شکار ھیں جس کا سندھ کی اکثریت سماٹ سندھی اور پنجابی گجراتی تھری اور باقی قوموں کے غریب لوگ شکار ھیں 

میری پوسٹ اور آرٹیکلز کو کچھ لاعلم دوست لسانیت اور عصبیت کے کھاتے میں بھی ڈالتے ھیں میری ان سے درخواست ھے کہ قوم پرستی اور عصبیت، لسانیت، علاقائیت میں فرق کو سمجھیں ..

قوم پرست آپنی عزت جان مال اور حقوق کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی سماجی عزت معاشی خوشحالی اور سیاسی ترقی کیلئے کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے والے دوسری قوموں کے مظلوم طبقے کے سماجی معاشی سیاسی حقوق کیلئے بھی جدوجہد کرتا اور آواز اٹھاتا ھے جبکہ عصبیت لسانیت علاقائیت پرست جائز ناجائز ہر طریقے سے صرف آپنی ذات اور قوم علاقے کیلئے دوسروں کے حقوق غصب کرتا اور ناجائز طریقے استعمال کرتا ھے .

میری پوسٹ اور آرٹیکلز پر کمنٹ کرنے والوں سے درخواست ھے تعمیری اور مثبت تنقید دل کھول کر کریں، لیکن فضول دلیل کے بغیر اور گالم گلوچ والے کمنٹ نہ کیا کریں .

پی جی ایف انٹرنیشنل(PGFInt) فورم دنیا کے ہر کونے میں بستے پنجابیوں کے مسائل مشکلات اور ان پر ھونے والے جبر اور زیادتی پر بات کرنے کے ساتھ وہاں کے باشندوں کے حقوق مسائل اور استحصال پر بات کرنے کے ساتھ انکی وکالت بھی کرتا ھے .

ھم اپنی ہر بات دنیاوی اور دینی تمام پہلو بغور دیکھنے کے بعد کرتے ھیں پھر بھی غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ، اس لئے تمام دوست اس کی نشاندھی کرکے دلیل کے ساتھ ھماری اصلاح کریں اور لسانیت عصبیت علاقائیت اور غدار جیسے تمغے اور انعام نہ دیں ..

جزاک اللہ خیر 

(افضل پنجابی)

#PGFInt

پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل


Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int