*سیوا دیس دی جندڑئیے بڑی اوکھی گلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نیں جنہاں دیس سیوا وچ پیر پایا اونھاں لکھ مصیبتاں جھلیاں نیں* ++++++++++++++++++++++++++++++++ قوموں میں حقوق اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا شعور ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مزاحمت کی لہروں کو طاقت پکڑنے میں بہت وقت لگتا ہے ـ اس کےلیے بے شمار چھوٹے بڑے ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو انسانوں کے ضمیر جھنجوڑ کے رکھ دیتے ہیں ـ طبیعت میں مزاحمت و حق گوئی کی موجیں لہریں پیدا کرتی ہیں انسان جتنا بھی ناشناسِ حالات یا کمزور کیوں نہ کیوں ہو، ایک دن ریاستی جبر کو سمجھ جاتا ہے اور ایک متعین حد تک ہی اسے سہہ پاتا ہے ـ اسی بات کو بڑھاتے ہوئے پروفیسر براؤن مزید لکھتے ہیں کہ " ظلم و ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے تو اپنے چھاپہ خانوں سے ایسے مزاحمت کاروں کی تصویریں چھپوا کر مفت بانٹوں کہ جن کے ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں ہوں اور گلے میں لوہے کے طوق ہوں یہ تصویریں اتنا طاقتور پیغام رکھے ہوتی ہیں کہ نسلوں کو ایک آہنی فکری رشتے سے جوڑ دیا کرتی ہیں" ـ کرَتار سنگھ سرابھا پنجاب کی تاریخ کا ایک ایسا ہی روشن کردار ہے کہ جس کی مزاحمت اور جراتمندی پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے کرتار سنگھ سرابھا کے گلے میں جب پھانسی کا پھندا ڈالا گیا تب اس کی عمر صرف انیس برس تھی اور کرتار سنگھ سرابھا تاریخ کا وہ انقلابی کردار ہے جس کی تصویر "بھگت سنگھ" ہر وقت جیب میں رکھا کرتا تھا اور چوم چوم کر ہندوستانی عوام میں حقوق اور مزاحمت کا جذبہ پیدا کیا کرتا تھا ـ کرتار سنگھ سرابھا کے شعور کی بالیدگی اور فکری اڑان کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب 1915 میں اتنی کم سنی میں پھانسی دی جانے لگی تو موت کو سامنے دیکھر گھبرانے کی بجائے، پھانسی گھاٹ پر جانے سے تھوڑی دیر پہلے اپنے ہاتھ کی انگلی کو زخمی کیا اور بہتے لہو سے ایک شعر لکھا اور اپنے ساتھ تحریک کے اور قیدی ساتھی کے حوالے بطور پیغام کیا ـ سیوا دیس دی جِندڑئیے بڑی اوکھی گَلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نیں جِنہاں دیس سیوا وچ پیر پایا اونہاں لَکھ مصیبتاں جھلیاں نیں افسوس کی بات یہ ہے ہماری نصابی کتب میں رائے احمد کھرل دلا بھٹی، ہیمو کالانی، کَرتار سنگھ سرابھا، مولراج، بھگت سنگھ، ڈاکٹر ستیہ پال ڈاکٹر سیف الدین کچلو (وغیرہ وغیرہ)جیسے ناموں سے تو محروم ہے مگر باہر سے آئے غزنویوں، غوریوں، ابدالیوں جیسے لٹیروں اور ظالموں کے جھوٹے قصوں سے بھری پڑی ہیں ـ ترتیب و کاوش ـ عابد وقار «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int

 *سیوا دیس دی جندڑئیے بڑی اوکھی 

گلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نیں

جنہاں دیس سیوا وچ پیر پایا

اونھاں لکھ مصیبتاں جھلیاں نیں*


      ++++++++++++++++++++++++++++++++


قوموں میں حقوق اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا شعور ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مزاحمت کی لہروں کو طاقت پکڑنے میں بہت وقت لگتا ہے ـ

اس کےلیے بے شمار چھوٹے بڑے ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو انسانوں کے ضمیر جھنجوڑ کے رکھ دیتے ہیں ـ طبیعت میں مزاحمت و حق گوئی کی موجیں لہریں پیدا کرتی ہیں انسان جتنا بھی ناشناسِ حالات یا کمزور کیوں نہ کیوں ہو، ایک دن ریاستی جبر کو سمجھ جاتا ہے اور ایک متعین حد تک ہی اسے سہہ پاتا ہے ـ

اسی بات کو بڑھاتے ہوئے پروفیسر براؤن مزید لکھتے ہیں کہ " ظلم و ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے تو اپنے چھاپہ خانوں سے ایسے مزاحمت کاروں کی تصویریں چھپوا کر مفت بانٹوں کہ جن کے ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں ہوں اور گلے میں لوہے کے طوق ہوں یہ تصویریں اتنا طاقتور پیغام رکھے ہوتی ہیں کہ نسلوں کو ایک آہنی فکری رشتے سے جوڑ دیا کرتی ہیں" ـ

کرَتار سنگھ سرابھا پنجاب کی تاریخ کا ایک ایسا ہی روشن کردار ہے کہ جس کی مزاحمت اور جراتمندی پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے کرتار سنگھ سرابھا کے گلے میں جب پھانسی کا پھندا ڈالا گیا تب اس کی عمر صرف انیس برس تھی اور

کرتار سنگھ سرابھا تاریخ کا وہ انقلابی کردار ہے جس کی تصویر "بھگت سنگھ" ہر وقت جیب میں رکھا کرتا تھا اور چوم چوم کر ہندوستانی عوام میں حقوق اور مزاحمت کا جذبہ پیدا کیا کرتا تھا ـ

کرتار سنگھ سرابھا کے شعور کی بالیدگی اور فکری اڑان کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب 1915 میں اتنی کم سنی میں پھانسی دی جانے لگی تو موت کو سامنے دیکھر گھبرانے کی بجائے، پھانسی گھاٹ پر جانے سے تھوڑی دیر پہلے اپنے ہاتھ کی انگلی کو زخمی کیا اور بہتے لہو سے ایک شعر لکھا اور اپنے ساتھ تحریک کے اور قیدی ساتھی کے حوالے بطور پیغام کیا ـ


سیوا دیس دی جِندڑئیے بڑی اوکھی 

گَلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نیں

جِنہاں دیس سیوا وچ پیر پایا

اونہاں لَکھ مصیبتاں جھلیاں نیں


افسوس کی بات یہ ہے ہماری نصابی کتب میں رائے احمد کھرل دلا بھٹی، ہیمو کالانی، کَرتار سنگھ سرابھا، مولراج، بھگت سنگھ، ڈاکٹر ستیہ پال ڈاکٹر سیف الدین کچلو (وغیرہ وغیرہ)جیسے ناموں سے تو محروم ہے مگر باہر سے آئے غزنویوں، غوریوں، ابدالیوں جیسے لٹیروں اور ظالموں کے جھوٹے قصوں سے بھری پڑی ہیں ـ


ترتیب و کاوش ـ عابد وقار


«افضل پنجابی»

پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int



Comments

Popular posts from this blog

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int