اردو مسلمانوں کی زبان کیسے بنی؟؟؟ برصغیر پاک و ھند میں زمانہ قدیم سے آبادی یعنی Demography اور تہذیب کے تین بڑے مراکز تھے اور آج بھی ھیں... 1. دریائے سندھ کی تہذیب جس کا مرکز لاھور تھا. 2. دریائے گنگا جمنا کی تہذیب جس کا مرکز دہلی تھا.( کلکتہ ہمیشہ سے کنگا جمنی تہذیب کے زیرِ اثر رہا) 3. اور سطح مُرتفع حیدر آباد دکن کے دوسری طرف ساؤتھ انڈیا کے دریاؤں کی تہذیب جن کا مرکز حیدر آباد تھا.
اردو مسلمانوں کی زبان کیسے بنی؟؟؟
برصغیر پاک و ھند میں زمانہ قدیم سے آبادی یعنی Demography اور تہذیب کے تین بڑے مراکز تھے اور آج بھی ھیں....
دریائے سندھ کی تہذیب جس کا مرکز لاھور تھا..
دریائے گنگا جمنا کی تہذیب جس کا مرکز دہلی تھا.( کلکتہ ہمیشہ سے کنگا جمنی تہذیب کے زیرِ اثر رہا)
اور سطح مُرتفع حیدر آباد دکن کے دوسری طرف ساؤتھ انڈیا کے دریاؤں کی تہذیب جن کا مرکز حیدر آباد تھا.
عیسی علیہ سلام سے پہلے باہر سے جو بھی حملہ آور آیا اس نے وادی سندھ اور گنگا جمنا تہذیب کے لوگوں کو جنوبی انڈیا کی طرف دھکیل دیا. جب مسلمان حملہ آور آئے تو انھوں نے لوگوں کو دھکیلنے کی بجائے یہاں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی. پہلے لاھور پر قبضہ کیا پھر دہلی پر قبضہ کیا لیکن ساوتھ انڈیا پر مسلمانوں کی حکومت نہی رہی سوائے اورنگ زیب کے جس نے زندگی کے 24 سال دکن کے مسلمان اور ھندو راجاؤں کو زیر کرنے کی کوشش میں گُزار دئیے!
اب مسلم سلطنتوں کی درباری زبان فارسی اور مذہبی زبان عربی تھی اور دارلسطنت دہلی تھا. اب دہلی کیونکہ گنگا جمنی تہذیب کا مرکز تھا اور پنجاب فاتحین کی گزرگاہ اور لاھور پہلا پڑاؤ ھوتا تھا اس لیے دہلی اور اسکے گردو نواح میں عربی فارسی ترکش سنسکرت اور پنجابی کے ملاپ سے ایک نئی زبان وجود میں آنا شروع ھوئی جسے اردوئے معلی یا ھندی/اردو کا نام دیا گیا. جب انگریز برصغیر میں وارد ھوا تو فارسی کی جگہ اردو مسلم اور ھندو راجاؤں اور نوابوں کی درباری زبان بن چکی تھی. حتی کے آخر مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر فارسی کی بجائے اردو کا شاعر تھا.
انگریز نے پہلے فارسی پھر اردو اور آخر میں 1836 میں English کو Official زبان کا درجہ دیا لیکن اسکے ساتھ ساتھ فارسی کی جگہ اردو کو ھندوستان کی ریاستی زبان کے طور پر برقرار رکھا. حتی کہ راجہ رنجیت سنگھ کی درباری زبان بھی فارسی تھی جس کو ختم کر کے انگریز نے English اور اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا اور لوکل سطح پر جاری پنجابی تعلیم کے قائدوں کو جلا کر پنجابی میں تعلیم پر جبری پابندی لگا کر اترپردیش کے اردو/ھندی بولنے والے بیورو کریٹس کو پنجاب پر مسلط کیا.
اب چونکہ انگریز نے اقتدر مسلمانوں سے چھینا تھا تو اس نے مسلمان ایلیٹ یعنی نوابوں کے فخر و غرور کی ہر نشانی کو مٹانا چاھا. اس سلسلے میں بنارس کے انگریز گورنر Shakespeare نے 1867 میں بنارس میں اردو کی جگہ ھندی کو سرکاری زبان قرار دیکر مسلمان ایلیٹ کلاس کے غرور پر کاری ضرب لگائی اور مسلمانوں اور ھندوؤں میں نفرت کا بیج بویا. اسکے بعد سرسید سمیت ساری مسلمان ایلیٹ کلاس نے اردو کی حفاظت کے لیے سارا زرو لگایا اور ھندوستان کے باقی علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کو نظر انداز کر کے ان کی اہمیت سے انکار کر دیا. یہ رد عمل ایک طرح سے نیچرل بھی تھا کیونکہ حملہ صرف اردو پر ھوا بنگالی پنجابی یا سندھی پر نہیں.
ایک تو اردو پر حملے نے مسلمانوں کے مفادات کو غیر محفوظ کر دیا اور مسلمان ایلیٹ کلاس کو خوفزدہ کر دیا. دوسری بڑی وجہ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے تینوں مراکز یعنی علی گڑھ یونیورسٹی، مدرسہ منظر السلام بریلی شریف اور مدرسہ دیوبند دارلسلطنت دہلی کے گردو نواح میں ہی بنے اور وہاں زریعہ تعلیم اردو ہی تھا. پاکستان میں آج بھی ہر فرقہ کے مولویوں کی تدریسی زبان اردو ہی ھے اور دوسری طرف علی گڑھ کی پیروی میں سیکولر ایلیٹ کا زریعہ تعلیم بھی اردو اور انگلش ہی ھے. یہ بھی قدرتی عمل تھا کیونکہ تعلیم و تربیت کے مراکز دارلحکومت میں یا اس کے آس پاس ھوتے ھیں جیسے پاکستان میں زیادہ تر یونیورسٹیاں کراچی لاھور اسلام آباد یا انکے گردو نواح میں ھیں.
اب اردو کے مسلمانوں کی نمائندہ زبان بننے کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ھوا کہ برصغیر کے باقی خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کی مادری زبانوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جانے لگا اور جس کسی نے اپنی مادری زبان کے حق میں بات کی اسے اسلام اور مسلمانوں کا غدار ٹھہرایا جانے لگا.
بنگالی غداروں کی زبان کیسے بنی؟؟؟
جب پاکستان بنا تو ایک طرف پاکستان پر علی گڑھ کے تعلیم یافتہ براؤن صاب بیوکریٹس کا قبضہ تھا اور یہ سب نوابوں اور جاگیرداروں کی اولادیں تھیں تو دوسری طرف دیوبند کے تعلیم یافتہ مُلاؤں کی گرفت تھی اور ان سب کی تعلیمی اور تدریسی زبان اردو تھی. اس نہلے پر دہلا اس مہاجر پنجابی اور پٹھان ایلیٹ کلاس کا بنگالیوں کے ساتھ برتا جانے والا نسل پرستانہ رویہ تھا.
جب علی گڑھ اور دیو بند سے فارغ جاگیر دار سیکولر اور مُلا الیٹ کلاس کے زیر اثر قائداعظم نے اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان قرار دیا تو بنگالیوں نے پاکستان کی اکثریتی آبادی کی زبان بنگالی کو نظر انداز کرنے پر احتجاج کیا لیکن اسکے بدلے میں اُن کو غدارانِ اسلام اور پاکستان بھی کہا گیا اور کالے اور بھوکے بنگالی کا طعنہ بھی دیا گیا.
کیونکہ طاقت کا مرکز پہلے کراچی تھا جس پر اردو بولنے والے مہاجروں کا قبضہ تھا پھر اسلام آباد بنا جس میں پٹھان اور پنجابی جاگیرداروں، جنرلوں اور مُلاؤں کا اثر بھی بڑھ گیا جو سب کے سب اردو کے رنگ میں رنگے تھے. بنگالیوں نے مہاجر پٹھان اور پنجابی الیٹ کلاس کی بدمعاشی اور نسل پرستی کے خلاف جب ووٹ کی طاقت استعمال کر کے مجیب الرحمن کو جتوا دیا تو پٹھان پنجابی مہاجر جنرلوں اور سندھی جاگیردار بھٹو نے اسکا جواب گولی سے دے کر بنگالیوں کو دبانے کی کوشش کی جس کا فائدہ پاکستان کے ازلی دشمن نسل پرست برہمن غنڈوں نے اُٹھا کر پاکستان کو دو لخت کر دیا. شاید حبیب جالب یا فیض نے اس پر کہا تھا
محبت گولیوں سے بو رھے ھو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رھے ھو
گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ھے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رھے ھو...!
سندھی اچھوتوں کی زبان کیسے بنی؟؟؟
قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا پہلا درالحکومت کراچی بنا کیونکہ کراچی طاقت کا مرکز تھا اس لیے پاکستان کی سب قوموں نے کراچی کا رخ کیا اور دیکھتے ھی دیکھتے کراچی دیہاتی سندھی اور سندھی بولنے والے بلوچ مچھیروں کی چھوٹی سی بستی سے لاکھوں نفوس پر مشتمل بین الاقوامی شہر بن گیا جس پر مہاجروں اور علی گڑھ کے تعلیم یافتہ اردو زدہ پنجابی اور پٹھان جاگیرداروں کا قبضہ ھو گیا. جن کا رویہ بنگالیوں کی طرح سندھیوں کے ساتھ بھی نسل پرستانہ تھا. سندھ کی دھرتی جس نے ہر قوم کو فراخ دلی کے ساتھ اپنے اندر سمویا اس میں اسکے اصل سندھی بولنے والے سندھی بشندوں کو توھین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا. اس چیز نے سندھی زبان اور تہذیب کو خطرے میں ڈال دیا.
اگر سندھی قوم پرست اردو کی اس بدمعاشی کے خلاف احتجاج کر کے اور جانوں کی قربانی دیکر سندھی زبان کو سندھ کی سرکاری زبان نہ بنواتے اور سکولوں میں لازمی سندھی نہ پڑھواتے تو آج سندھی بھی امریکہ میں بولی جانے والی ہزاروں زبانوں کی طرح ختم ھو چُکی ھوتی یا کم از کم پنجابی کی طرح ختم ھونے کے خطرے سے دوچار ھوتی...!
پنجابی جاہلوں کی زبان کیسے بنی؟
پنجاب اور اسکا دل لاھور کیونکہ ساؤتھ ایشیاء میں سندھو دریا کی تہذیب کا Demographic Hub یعنی بڑی آبادی کا مرکز تھا اس لیے اسکا مقابلہ ہمیشہ سے برصغیر کے دوسرے Demographic Hub یعنی گنگا جمنی تہذیب کے مرکز دہلی سے رہا.(آج بھی مقابلہ دہلی اور لاھور کے درمیان ھے).
اس لیے دہلی کے برہمن سامراج نے پاکستان کے قیام کی شرط پنجاب کی تقسیم پر رکھی. تاکہ سندھو دریا کی تہذیب کے طاقت کے مرکز پنجاب کی دھرتی اور دریاؤں کو تقسیم کر کے پاکستان کو دوبارہ دہلی کے برہمن سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے اور علی گڑھ کی مسلم ایلیٹ کلاس کے جاگیرداروں نے اس ظالمانہ اور غیر فطری تقسیم کو اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے قبول کر کے لاکھوں پنجابی مسلمانوں کے خون کی بلی دے کر پنجابی مسلمانوں ھندوؤں اور سکھوں کے درمیان نفرت کی دیوار ہمیشہ کے لیے کھڑی کر دی. حالانکہ ھندو مسلم نفرت کا مرکز کنگا جمنی تہذیب کا علاقہ تھا نہ کہ پنجاب. انڈیا میں آج بھی سارے مسلم کش فسادات کا مرکز دہلی اور اتر پردیش ھے!
جب پاکستان بن گیا تو پنجابیوں کو دو نقصانات ھوئے ایک تو سندھو دریا کی تہذیب کا مرکز لاھور سے کراچی شفٹ ھو گیا دوسرا پنجابی اپنی تہذیبی شناخت کے بحران کا شکار ھو گئے.
کراچی میں پنجاب سے گئے عام پنجابیوں کے ساتھ بھی بنگالیوں اور سندھیوں کی طرح اردو زدہ ڈڈو پنجابی مہاجر اور پٹھان جاگیر دار الیٹ کلاس نے نسل پرستانہ رویہ اپنایا اور پنجابی بولنے والوں کو جاہل پینڈو کہہ کر انکی زبان کی تضحیک کی جانے لگی یہاں تک کہ پنجابیوں کے لیے پینڈو ھونا گالی بن گیا. اور پنجابیوں نے جاہل اور پینڈو ھونے کے طعنہ سے بچنے کے لیے بجائے بنگالیوں اور سندھیوں کی طرح مقابلہ کرنے کے کبھی گلابی اڑدو اور کب غلط انگلش کی پناہ لی اور اپنی ماں بولی پنجابی بولنے والوں کو خود ہی جاہل اور پینڈو کہنا شروع کر دیا.
دوسرا جب سندھو دریا کی تہذیب کے دل لاھور کے آس پاس کے علاقے فیرورز پور امرتسر گرداس پور لدھیانہ وغیرہ کو غیر فطری لکیروں کے زریعے چیر کر پنجاب کے مرکز لاھور سے کاٹ دیا گیا اور لاکھوں پنجابی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی تو اس کا ان لُٹے پِٹے پنجابیوں کی سائکالوجی پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ پنجابیوں کو اپنے پنجابی ھونے پر شرمندگی ھونے لگی اور پنجابیوں نے اسلام اور پاکستان کی شناخت میں پناہ لینے کی کوشش کی. اور جس کسی نے اپنی اصل شناخت یعنی بنگالی سندھی بلوچی پشتو کی بات کی اسے اسلام اور پاکستان کا غدار قرار دیا.
کیونکہ اردو زدہ ڈڈو پنجابیوں نے اپنی پنجابی شناخت اور پنجابی زبان چھوڑ کر پاکستانی مسلمان اور اردو زبان کی شناخت اپنا لی ھے اس لیے یہ عام پنجابیوں پشتونوں براہویوں بلوچوں اور سندھیوں سے بھی یہی توقع رکھتے ھیں کہ وہ بھی اپنی شناختیں اور زبانیں چھوڑ دیں اور جب کوئی سندھی بلوچ یا پشتون اپنی زبان اور شناخت سے محبت کا اظہار کرتا ھے تو یہ اردو زدہ ذہنی غلام ڈڈو پنجابی اسے اسلام اور پاکستان کا غدار قرار دیتے ھیں اردوآبی ڈڈو پنجابی کے اس بچگانہ رویے پاکستان اسلام اور اردو سے محبت کی وجہ سے پچھلے ستر سال سے سارے پنجابی پورے پاکستان سے گالیاں کھا رھے ھیں لیکن ان اردوآبی ڈڈو بیچاروں کو سمجھ بھی نہیں آ رہی کہ پورا پاکستان ان کو گالیاں کیوں دے رہا ھے.
اس کا حل آسان سا ھے پنجابی اپنی پہچان اور پنجابی زبان کو reclaim کریں اور اپنے بچوں سے پنجابی بولیں. پنجاب میں پنجابی زبان کے نفاذ کی کوشش کریں. باقی صوبوں کی زبان اور شناخت کے تخفظ میں انکا ساتھ دیں. اور پاکستان پر مسلط کرپٹ بیورکریٹس جنرلوں ججوں سیاست دانوں جاگیرداروں اور سرمایا داروں کے خلاف سب صوبوں کے بھائیوں سے مل کر کوشش کریں. Local Govt کے نظام کے زریعے مالی اختیارت ضلع تحصیل گاؤں کی سطح تک منتقل کروانے کی کوشش کریں اور پاکستان کو صیحیح معنوں میں ریاستِ مدینہ کے ماڈل پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں جہاں ہر انسان کے جان مال عزت کا تخظ ھو!
*Copied*
PGF Int.(Punjabi Graduates forum international)

Comments
Post a Comment