پنجاب پر بلوچ ' پٹھان اور ھندوستانی مھاجر کے قابض اور %85 اکثریت پنجابی کے کمزور اور بے اثر بے اختیار ھونے کی وجہ کیا ھے؟؟؟

پنجاب پر بلوچ ' پٹھان اور ھندوستانی مھاجر کے قابض اور %85 اکثریت پنجابی کے کمزور اور بے اثر بے اختیار ھونے کی وجہ کیا ھے؟؟؟


پنجاب میں 10 بڑی برادریاں؛ ارائیں ' اعوان ' جٹ ' گجر ' راجپوت ' شیخ اور بلوچ ' پٹھان ' عربی نژاد ' ھندوستانی مھاجر رھتی ھیں۔ ان میں سے ارائیں ' اعوان ' جٹ ' گجر ' راجپوت ' شیخ کا پس منظر پنجابی ھے۔ پٹھان ' بلوچ اور ھندوستانی مھاجر جاگیردار سردار اور ملک پنجاب پر مختلف ادوار میں آکر قابض یا پناہ گیر ھوئے ، اور آج تک پنجاب میں اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ فساد فتنہ گیری لڑاؤ اور اپنا قبضہ اور دادا گیری بچاؤ والے فارمولے پر عمل کر رھے ھیں 

جبکہ بلوچ پنجاب کے کچھ حصوں میں پنجابی کہلاتے ھیں اور پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بیک وقت سرائیکی اور بلوچ بن کے دوہرا مفاد اور دو دھاری تلوار بن کر پنجاب اور پنجابی کو کاٹ رھے ھیں ، 

جبکہ غیر پنجابی پس منظر رکھنے والی دیگر برادریاں چھوٹی ھیں لیکن خود کو پنجابی قوم میں جذب کرچکی ھیں۔


اس وقت پنجاب کا وزیر اعلی پنجاب میں رھنےوالا بلوچ ھے اور پاکستان کا وزیر اعظم پنجاب میں رھنے والا پٹھان ھے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ؛ 


۔ ارائیں ' اعوان ' جٹ ' گجر ' راجپوت ' شیخ ' برادری کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں رھتے ھیں۔ لیکن "پنجابی قوم پرست" بن کر پنجاب پر بلوچ ' پٹھان اور ھندوستانی مھاجر کو قابض ھونے پر دھیان نہیں دیتے .


۔ پنجاب میں "پنجابی قوم پرستی" نہ ھونے اور برادری کی بنیاد پر آپس میں محاذآرائی کے ھونے کی وجہ سے غیر پنجابی پس منظر رکھنے والی دیگر چھوٹی برادریاں جو خود کو پنجابی قوم میں جذب کرچکی ھیں وہ بھی پنجابی قوم کی سماجی عزت و معاشی خوشحالی اور سیاسی استحکام و انتظامی بالادستی کے لیے کردار ادا نہیں کر پا رھیں۔


۔ پنجاب کی ایک باہر سے آنے والی برادری عربی نژاد میں سے وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب کے عربی نژاد خود کو پنجابی قوم میں جذب کرچکے ھیں لیکن جنوبی پنجاب کے عربی نژادوں نے پنجابی قوم میں جذب ھونے کے بجائے جنوبی پنجاب کے بلوچوں اور پٹھانوں سے اشتراک کرکے ایک نئی شناخت "سرائیکی" ایجاد کی ھوئی ھے اور پنجاب کو تقسیم کرنے کا گھناؤنا کھیل کھیل کر پنجاب میں انتشار اور نفرت کو فروغ دینے میں حصہ دار بنے ھوئے ھیں ..

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟