پنجابی قوم پرستی کی ابتدا سندھ سے کیوں اور کیسے ھوئی ؟؟؟؟

 پنجابی قوم پرستی کی ابتدا سندھ سے کیوں اور کیسے ھوئی ؟؟؟؟


1967 میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں پنجابی اسٹوڈنٹس کیلئے پلیٹ فارم بنا جو بہت متحرک اور فعال تو نہیں تھا لیکن ایک بنیاد بنا پی ایم او اور پی ایس اے کیلئے جو 1980 میں شھر کی پنجابی طلبہ کی واحد اور مضبوط آواز بنی اور شوکت چیمہ پنجابی قافلے کا پہلا شھید تھا جس نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی .


سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کی لڑاؤ اور حکومت کرو والی سیاست اور جی ایم سید کی طرف سے بنائی گئی عرب کرد نژاد وڈیروں اور سرداروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے بنائی گئی جو بظاہر سندھ کے حقوق اور محرومیوں کے انقلابی نعروں پر چلی لیکن دراصل آج تک صرف مفاد پرستوں اور سرداروں وڈیروں کے مفادات کیلئے کام کر رھی ھے.

 جئے سندھ کی وجہ سے 1970 سے جاری سندھ کے پنجابیوں کے خلاف سرگرمیوں سے جب پنجابی قتل اور تباہ و برباد ھونا شروع ھوئے تو سندھ کے پنجابیوں میں قوم پرستی نے جنم لیا اور پنجابی جو شاہ لطیف بھٹائی کی تعلیمات سے سجے سندھی بھائیوں کی پر خلوص محبت میں سندھی بن گئے تھے اپنے بچوں کو اردو کی بجائے سندھی میڈیم میں تعلیم دلواتے سندھی ثقافت اپنائے ھوئے اپنے سندھی بھائیوں کی طرح ٹوپی اجرک پہنتے اور ھاتھ باندھ کر جھک کر سلام کرتے اور فخر سے اپنے نام کے ساتھ سندھی لکھتے تھے انھیں جی ایم سید کی مفادپرست موقع پرست لڑاؤ اور حکومت کرو والی سیاست نے زبردستی پنجابی بنا دیا اور سندھ میں صحیح معنوں میں پنجابی قوم پرستی کی بنیاد رکھ دی . 


تعلیمی اداروں میں بھی سندھ کے پنجابی طلبہ کو داخلوں سے روکا گیا اسناد جلائی گئیں کالج یونیورسٹیوں میں داخل ھونے تک پر جبر اور تشدد کے ذریعے پابندی لگا دی گئیں اور وہاں پہلے سے پڑھنے والے سندھ کے پنجابی طلبہ کو ہاسٹلوں اور کالج یونیورسٹیوں میں سرعام تشدد اور قتل کیا جانے لگا تو پھر؛

سن 1980 میں نیو سندھی اسٹوڈینٹس ایسوسی ایشن (NSSO) بنی اور دس سال تک پنجابی طلبہ کو سارے مظالم کے باوجود سندھی نام سے جوڑے رکھنے کی کوشش کی لیکن سندھ کے پنجابی طلبہ کو قتل تشدد اور تعلیم سے روکنے اور پنجابی سامراج کے القابات دے کر بالآخر سن 1990 سندھ پنجابی اسٹوڈینٹس ایسوسی ایشن میں تبدیل کرنے پر مجبور کردیا .


اسی طرح سندھ کے آبادگاروں کے زمینوں پر قبضوں پانی کی بندش کھڑی فصلیں جلانے اور تباہ کرنے کے ردعمل میں سن 1981 میں سندھ پنجابی آبادگار ایسوسی ایشن کا وجود عمل میں آیا اور بے شمار جانوں کی قربانی کے بعد سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کی طرف سے جاری پنجابیوں کے خلاف سرگرمیوں سے سندھ کے پنجابی خود کو بچانے میں کامیاب ھوئے۔ 


اسی لیے 1970 کے بعد سندھ میں پیدا ھونے والے پنجابیوں میں اس وقت بھی پنجابی قوم پرستی کے جذبات زیادہ نمایاں ھیں۔ کیونکہ ان پنجابیوں کی پرورش کرنے والے پنجابیوں کو سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کی وجہ سے تباہ و برباد ھونا پڑا تھا اور جانوں کی قربانیاں دینی پڑی تھیں۔ جبکہ انہیں عربی نزادوں اور بلوچوں کی طرف سے بھی پنجابیوں کے لیے نفرت اور تذلیل و توھین والا ماحول ملا بلکہ اب تک مل رھا ھے۔


کراچی میں ھندوستانی مھاجروں کی سیاست اور 1984 میں الطاف حسین کی بنائی ھوئی ایم کیو ایم کی طرف سے کراچی کے پنجابیوں کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے جب پنجابی تباہ و برباد ھونا شروع ھوئے تو کراچی میں پنجابی طلبہ کی قوم پرستی آگے بڑھ کر کراچی کے رہائشی پنجابیوں میں منتقل ھوئی اور 1987 میں پنجابی اتحاد کراچی جو بعد میں پنجابی پٹھان اتحاد میں تبدیل ھوگیا کا وجود عمل میں آیا اور بے شمار جانوں کی قربانی کے بعد کراچی کے ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے جاری پنجابیوں کے خلاف سرگرمیوں سے کراچی کے پنجابی خود کو بچانے میں کامیاب ھوئے۔ 


اس لیے 1980 کے بعد کراچی میں پیدا ھونے والے پنجابیوں میں اس وقت بھی پنجابی قوم پرستی کے جذبات زیادہ نمائیاں ھیں۔ کیونکہ ان پنجابیوں کی پرورش کرنے والے پنجابیوں کو کراچی کے ھندوستانی مھاجروں کی وجہ سے تباہ و برباد ھونا پڑا تھا اور جانوں کی قربانیاں دینی پڑی تھیں۔ جبکہ انہیں مھاجروں کی طرف سے بھی پنجابیوں کے لیے نفرت اور تذلیل و توھین والا ماحول ملا بلکہ اب تک مل رھا ھے۔


 سندھ سے لٹ کر زمینوں جائیدادوں کے قبضوں اور جبری بیدخلی اور سندھ بدر ھونے والے پنجابی جو پنجاب گئے وہ تو سن 1970 کی دھائی سے پنجاب میں پنجابی کو پنجابی بنانے کی کوشش کر رھے تھے لیکن صحیح معنوں میں پنجاب میں قوم پرستی کا شعور 2020 سے شروع ھوا پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے عوامل شمالی پنجاب ' وسطی پنجاب ' جنوبی پنجاب میں ماحول کی مناست سے مختلف ھیں۔ لیکن سندھ کے بعد کراچی اور اب پنجاب بھر میں پنجابی قوم پرستی کے شروع ھوجانے کی وجہ سے توقع ھے کہ؛

 2030 تک کراچی سے لیکر اسلام آباد تک پنجابی قوم پرستوں نے اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرلینا ھے ان شاء الله

*افضل پنجابی*

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int