اردو کا مطلب لشکری کیوں نہیں، اردو نے کب کیوں اور کیسے جنم لیا ؟؟؟؟

 اُردو کا مطلب "لشکری" نہیں بلکہ ❞اردو❝ ایک سیکرٹ کوڈ ورڈ تھا کسی بھی پنجابی/ہندی/راجستھانی لفظ میں الف، رے، دال، واؤ، چھوٹی یے، تے، حمزاہ، بڑی یے، نون گُنا شامل کرنے یا بدلنے سے وہ لفظ سوفٹ اور فلیٹ ہوجاتا تھا نیز تُرش شمسی حروف کو نرم قمری حروف سے بدل دینے سے وہ لفظ درباری آداب میں استعمال کیے جاسکتے تھے چونکہ لکھنؤ کی "مہ جبینوں" کے سارے قدر دان ایلیٹ کے مُسلم نواب ہوا کرتے تھے اس لیے اُن مہ جبینوں کو سوفٹ درباری زبان عربی فارسی ترکی الفاظ کی آمیزش کے ساتھ بولنا پڑتی تھی یہ امراء درباری زبان سیکھانے کے لیے اپنے بچوں کو ان ہی مہ جبینوں کے طوائف خانوں میں بھیجا کرتے تھے ❜دہلی❛ پنجاب ، اترپردیش اور راجپوتانہ(موجودہ راجستھان) کے سنگم پر تھا یعنی ہند کی تین ❞مُلک نُما❝ ریاستوں کے مشترکہ سینٹر کی حیثیت رکھتا تھا اس لیے دہلی میں ہندی پنجابی راجستھانی تینوں زبانوں کی ایک سانجھ بنتی تھی آج بھی دہلی میں پنجابی اور ہندی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے، 

اضافت یا تبدیلی کا اصول اس طرح تھا 

جیسے "چھڈ" میں دو واؤ ڈالے تو چھوڑو،

جا میں و کی اضافت سے جاؤ زیادہ فلیٹ کرنا ہے تو چھوٹی یے اور نون گُنّا کی اضافت سے جائیں

پنجابی لفظ ❞کھنگ❝ میں الف چھوٹی یے کی اضافت اور ❞گ❝ شمسی حرف کو نرم قمری حرف ❞س❝ سے بدل کر کھانسی ،

غرض ہندی پنجابی راجستھانی کے ہزاروں سالا پرانے الفاظ میں اوپر مذکور تبدیلی کرنے سے وہ لفظ اپنی شکل بدل جاتا نرم اور فلیٹ ہوجاتا، اردو میں سب سے زیادہ الفاظ پنجابی اور ہندی کے شامل ہوئے، بنیادی طور پر اُردو کی گرائمر وہی تھی جو ہندی، پنجابی، راجستھانی، سندھی، کشمیری، بہاری ،بنگالی یعنی برصغیر کی پرانی زبانوں کی ہے، ہندی اردو کے سب سے زیادہ قریب تھی کیونکہ اردو کا لفظی ذخیرہ زیادہ تر ہندی سے ہی لیا گیا تھا اُردو نام اسے مسلمان نوابوں کی فرمائیش پر انگریز نے دیا، اس سے پہلے ہندی اور درباری زبان کو مشترکہ طور پر ایک ہی نام "ہندوستانی" سے پکارا جاتا تھا مسلم اشرافیہ کی زبان کے ساتھ انگریز کی پسندیدہ ترین زبان کا درجہ ملنے کے بعد اس نے یوپی سی پی ،پنجاب ،کشمیر، سندھ میں مسلم اشرافیہ میں بہت ترقی کی فارسی جو کہ انگریز دور سے پہلے ہندوستان کی مسلم اشرافیہ کی آفیشل لینگوئج تھی کا اثر تو ہر ہر زبان پر ہی تھا لیکن اردو پر اس کا اثر بالخصوص زیادہ پڑا، یہ جگاڑو زبان تھی مطلب وہ خاصم خاص سنسکرت کے الفاظ جو کہ ہندی پنجابی راجستھانی میں ہزاروں سال سے سانجھے تھے لیکن ہندوؤں کے مذہب سے بھی جُڑے ہوئے تھے کو اردو نے قبول نا کیا اور اُن خالص سنسکرتی الفاظ کی جگہ فارسی عربی الفاظ کو دی گئی لیکن الفاظ بدلنے سے زبان کیسے بدلتی، یہ سننے میں ہندی ہی لگتی تھی اور ہندوستانی ہی کہلواتی تھی ،

دیوناگری/پرسو عرییبک سکرپٹ کے تنازعے کے بعد اس زبان "ہندوستانی" کو الگ نام اردو دیا گیا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسے اردو نام لشکری زبان ہونے کی وجہ سے دیا گیا وہ خیانت کرتے ہیں کیونکہ جس دور میں اسے یہ نام ملا ہند میں لشکر صرف "انگریز" کا تھا مغل تو بہادر شاہ کے دور میں صرف دہلی تک محصور تھے پنجاب سکھوں راجستھان راجپوتوں تو باقی ہند انگریزوں کے قبضے میں تھا تب کونسے لشکر نے یہ زبان ایجاد کی؟

بہادر شاہ ظفر خود شاعر تھا اسکی شاعری کو ❜اردو❛ شاعری تو کہا جاتا ہے لیکن تب تک بھی اس زبان اور ہندی کو مشترکہ طور پر ہندوستانی ہی کہا جاتا ہے ، 

لینگوئیسٹک سروے آف انڈیا میں انگریز ماہر لسانیات نے بھی اس کو ہندی کا ایک "لہجہ" ہی لکھا ہے ،

خیر امیر خسرو کو اس زبان کا باپ کہا جاتا ہے لیکن اگر آپ امیر خسرو کی ریختہ کو پڑھیں تو آپ کو وہ اردو بالکل نہیں لگے گی بلکہ وہ ہزاروں سال پرانی پوربی بولی ہے جسے ہمارے دانشوروں نے ریختہ تو کُچھ نے کھڑی بولی مشہور کیا جبکہ اُس کا اصل نام پوربی اور برج باکھا یا برج بھاشا ہے یہ موجودہ پاکستانی پنجاب میں ہریانہ سے آئے ہوئے پنجابیوں کی "رانگڑی" یا "ہریانوی" بولی سے ملتی جُلتی تھی لیکن اس سے تھوڑی سوفٹ اور فلیٹ تھی یہ راجستھانی شمالی لہجوں سے بھی ۹۰ فیصد ملتی تھی یعنی یہ نیٹوز کی زبان تھی ، لیکن ریختہ کو اردو کی ماں اس لیے بولا جاتا ہے کیونکہ پوربی میں جو سوفٹ نیس، فلیٹ نیس تھی وہی اس درباری زبان کی بنیاد بنی ، 

جبکہ دوسری پنجابی اور راجستھانی زبانیں بہت بولڈ زبانیں ہیں اسی لیے یہ مسلمانوں کی "درباری" زبان کا درجہ حاصل نا کرپائیں کیونکہ حکمرانوں کو ایسی زبان پسند تھی جسے سن کر بندہ خود کو ساتویں آسمان پر براجمان سمجھنے لگے یعنی اس میں بولڈ نیس نا ہو،

سوال تو یہ بھی ہے کہ امیر خسرو جو کہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مرید تھے اور ریختہ میں شاعری کرتے تھے لیکن حضرت نظام الدین اولیاء کے مُرشد حضرت بابا فریدالدین گنج شکر پنجابی کے شاعر تھے مگر ہمارے ہاں اردابی وکیل اردو کو متبرک مقدس ثابت کرنے کے لیے امیر خسرو کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن پنجابی کے آدر میں امیر خسرو کے دادا مُرشد کا ذکر زبان پر بھی کیوں نہیں لاتے؟ ،

خیر جب اردو ہندی تنازعہ بنا تو یو پی بہار کی مسلم ایلیٹ نے اسے مذہبی رنگ دے دیا اور پنجاب کی مسلم ایلیٹ(جو کہ خود غیر پنجابی نسلوں سے تھی) کو بھی ساتھ ملا کر پنجابیوں کو یہ باور کروایا کہ یہ زبان کا نہیں فونٹ یا سکرپٹ کا مسئلہ ہے اور پنجابی جو کہ ا ب پ ت میں لکھی جاتی ہے وہ بھی فارسی سکرپٹ کی وجہ سے اردو ہی ہے چنانچہ اُس دور (اٹھارویں صدی کے آخر میں) میں پنجابی زبان میں جتنی کتابیں چھپیں انکے سرورق پر "بخطِ اُردو" لکھا جاتا تھا حالانکہ وہ کتابیں خالص پنجابی میں ہوتیں یہ اصل میں اس لیے کیا جاتا تھا کہ پنجاب میں انہوں نے یہ مشہور کیا تھا کہ "اُردو" بھی "ابجد" کی طرح ایک خط ہے اور مسلمانوں کو اس خط کی حفاظت کرنی چاہئے کیونکہ قرآن اور مسلم تاریخ کا سارا فارسی کام اسی پرسو عریبک سکرپٹ "اُردو" میں ہے ،یہ پہلی بار نا تھا کہ یو پی ، سی پی ، کی مسلم ایلیٹ پنجابیوں کے کاندھے پر بندوق چلا رہی تھی ، بلکہ یہ سلسلہ پاکستان بننے اور بن جانے کے بعد سے اب تک جاری ہے،۔۔۔

﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی

*PNF SINDH*



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int