مریم نواز 21 فروری کو "ماں بولی دیہاڑ" کے موقع پر پنجاب اسمبلی کے سامنے آکر خطاب کرے۔ نواز شریف کو رھنما بننا نہ آیا۔ صرف حکومت میں رھنا نصیب ھوا۔ وہ بھی اس لیے کہ؛ 1۔ پاکستان کا سیاسی ماحول لسانی ھے۔ پنجابی ' سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی پارٹی ایم کیو ایم کو مینڈیٹ نہیں دیتے تھے۔ اس لیے پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کو مینڈیٹ دے دیتے تھے۔ 2۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 150 نشستیں ھیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 نشستوں کی ضرورت ھوتی ھے۔ جو کہ پنجاب میں سے ھی مل جاتی تھیں۔ اس لیے نواز شریف کو پاکستان کا وزیرِ اعظم بننا نصیب ھوجاتا تھا۔ لیکن نواز شریف سیاسی رھنما بن کر ن لیگ کے پنجابی کارکنوں کی سیاسی تربیت کرکے پنجابیوں کو سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور نہ دے پایا۔ نواز شریف کو سیاسی رھنمائی کرنا نہ آنے کی وجہ سے ن لیگ کے کارکنوں کی سیاسی تربیت نہیں ھو پائی۔ جس کی وجہ سے پنجابی ' سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور سے محروم ھیں اور مسلم لیگ ن بھی منظم سیاسی جماعت نہیں ھے۔ اس سے بھی زیادہ اھم مسئلہ یہ ھے کہ؛ نواز شریف نے 1985 سے لیکر 2018 تک کے 33 سال کے عرصے تک پنجابیوں پر راج کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ھے کہ پنجابیوں نے 33 سال کے عرصے تک نواز شریف کو پنجابیوں پر راج کروایا۔ جبکہ پنجابیوں کے مینڈیٹ کی وجہ سے ھی نوا شریف کو پاکستان پر بھی 3 بار راج کرنے کا موقع ملا۔ لیکن؛ نواز شریف نے انگریزوں کے دور سے پنجاب پر مسلط کی گئی اردو زبان کو پنجاب میں سے ختم کرکے پنجابیوں کو ان کی زبان نہیں دی۔ تاکہ؛ 1۔ پنجابی اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی میں تعلیم دلوا سکتے اور دفتری معاملات کو اپنی ماں بولی میں ھی انجام دے سکتے۔ 2۔ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ھو جانے سے پنجابی تہذیب ' ثقافت اور رسم و رواج نے بھی فروغ پا جانا تھا اور پنجابی قوم نے بھی پنجابی زبان کے لہجوں اور پنجابی برادریوں کے جھگڑوں میں سے نکل کر سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مظبوط ' مستحکم اور خوشحال قوم بن جانا تھا۔ 3۔ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجابیوں نے پاکستان کی دوسری قوموں کے ساتھ بھی سیاسی ' سماجی ' معاشی اختلافات سلجھا لینے تھے۔ 4۔ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجاب میں رھنے والے پٹھان نے پاکستان کا وزیر اعظم اور پنجاب میں رھنے والے بلوچ نے پنجاب کا وزیر اعلی نہیں ھونا تھا۔ 5۔ پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ھونی تھی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے دربدر نہیں ھونا تھا۔ نواز شریف کو 33 سال میں بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ؛ جب پنجابی بچے اپنی بیسک ایجوکیشن اس زبان میں لے سکتے ھیں جو وہ گھر میں بولتے ھیں ' جو ان کی ماں بولی ھے۔ ھائیر ایجوکیشن ' انٹرنیشنل لینگویج انگلش میں ھی لینی چاھیے اور انگلش میں ھی لے رھے ھیں۔ پھر ایک اجنبی زبان اردو ' جو کہ "انڈس ویلی سویلائزیشن" کی نہیں بلکہ "گنگا جمنا کلچر" کی زبان ھے ' اس کو سیکھنے یا بولنے کی ضرورت کیا ھے؟ کیا بچے اپنی ماں بولی میں بات بہتر سمجھتے ھیں یا دوسری بولی میں؟ 1۔ یہ بات کرتے کرتے ھی بنگالی الگ ھو گئے۔ 2۔ یہ بات سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کہہ رھے ھیں (کشمیری ' ھندکو ' ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے) 3۔ یہ بات ھی پنجابی قوم پرست کہہ رھے ھیں۔ نواز شریف کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آئی کہ؛ 1۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ 2۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے 3۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ 4 پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے۔ 5۔ پنجابی زبان پاکستان کی 80 فیصد آبادی بولنا جانتی ھے۔ 6۔ پنجابی زبان پاکستان کی 90 فیصد آبادی سمجھ لیتی ھے۔ پھر پنجابیوں کے بچوں کو پنجابی میڈیم میں نہ پڑھا کر پنجابیوں کے بچوں کو "دولے شاہ کے چوھے" کیوں بنایا جا رھا ھے؟ کیا نواز شریف نے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہیں پڑھا تھا؟ جس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا تھا کہ؛ 1۔ عدالت نے مشاھدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ' پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ 2۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ' ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔ 3۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ' اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔ 4۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی وقار اور تعلیم باھم مربوط ھیں۔ تعلیم ' جو ایک بنیادی حق ھے ' براہ راست زبان سے تعلق رکھتی ھے۔ لیکن حکومت اس اھم معاملے سے بے نیاز دکھائی دیتی ھے۔ کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھا کہ؛ یونیسکو جیسا ادارہ بھی ' جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ' سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ' اس بات کی تائید کرتا ھے کہ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیئے کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو وہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔ کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھا کہ؛ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ اس لیے پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں جو اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت رکھتے ھیں۔ مسلم لیگ ن پنجابیوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ھے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت اب مریم نواز کر رھی ھیں۔ سیاست میں کی ھوئی اپنے بڑوں کی غلطی کو تسلیم کر لینا سیاسی شعور کی نشانی ھوتی ھے۔ اس لیے پنجابی نیشنلسٹ فورم (پی این ایف) مریم نواز کو مشورہ دیتا ھے کہ؛ 1۔ مریم نواز 21 فروری کو "ماں بولی دیہاڑ" میں شرکت کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس آئیں۔ 2۔ پنجابی زبان کا مطالبہ کرنے والے پنجابی قوم پرستوں سے خطاب کرکے نواز شریف کی طرف سے پنجابیوں کو پنجابی زبان کا حق نہ دینے کی غلطی تسلیم کرکے پنجابیوں سے معافی مانگیں۔ 3۔ پنجابی زبان کو پنجاب کی دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کے لیے مسلم لیگ ن کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں سے "پنجابی لینگویج ایکٹ" پاس کروانے کا وعدہ کریں۔

 مریم نواز کا21 فروری کو "ماں بولی دیہاڑ" کے موقع پر پنجاب اسمبلی کے سامنے آکر خطاب کرنا کیوں ضروری ھے ؟؟؟


نواز شریف کو رھنما بننا نہ آیا۔ صرف حکومت میں رھنا نصیب ھوا۔ وہ بھی اس لیے کہ؛ 

۔ پاکستان کا سیاسی ماحول لسانی ھے۔ پنجابی ' سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی پارٹی ایم کیو ایم کو مینڈیٹ نہیں دیتے تھے۔ اس لیے پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کو مینڈیٹ دے دیتے تھے۔


۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 150 نشستیں ھیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 نشستوں کی ضرورت ھوتی ھے۔ جو کہ پنجاب میں سے ھی مل جاتی تھیں۔ 


اس لیے نواز شریف کو پاکستان کا وزیرِ اعظم بننا نصیب ھوجاتا تھا۔ لیکن نواز شریف سیاسی رھنما بن کر ن لیگ کے پنجابی کارکنوں کی سیاسی تربیت کرکے پنجابیوں کو سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور نہ دے پایا۔


نواز شریف کو سیاسی رھنمائی کرنا نہ آنے کی وجہ سے ن لیگ کے کارکنوں کی سیاسی تربیت نہیں ھو پائی۔ جس کی وجہ سے پنجابی ' سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور سے محروم ھیں اور مسلم لیگ ن بھی منظم سیاسی جماعت نہیں ھے۔


اس سے بھی زیادہ اھم مسئلہ یہ ھے کہ؛


نواز شریف نے 1985 سے لیکر 2018 تک کے 33 سال کے عرصے تک پنجابیوں پر راج کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ھے کہ پنجابیوں نے 33 سال کے عرصے تک نواز شریف کو پنجابیوں پر راج کروایا۔ جبکہ پنجابیوں کے مینڈیٹ کی وجہ سے ھی نوا شریف کو پاکستان پر بھی 3 بار راج کرنے کا موقع ملا۔ لیکن؛


نواز شریف نے انگریزوں کے دور سے پنجاب پر مسلط کی گئی اردو زبان کو پنجاب میں سے ختم کرکے پنجابیوں کو ان کی زبان نہیں دی۔ تاکہ؛


1۔ پنجابی اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی میں تعلیم دلوا سکتے اور دفتری معاملات کو اپنی ماں بولی میں ھی انجام دے سکتے۔ 


2۔ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ھو جانے سے پنجابی تہذیب ' ثقافت اور رسم و رواج نے بھی فروغ پا جانا تھا اور پنجابی قوم نے بھی پنجابی زبان کے لہجوں اور پنجابی برادریوں کے جھگڑوں میں سے نکل کر سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مظبوط ' مستحکم اور خوشحال قوم بن جانا تھا۔


3۔ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجابیوں نے پاکستان کی دوسری قوموں کے ساتھ بھی سیاسی ' سماجی ' معاشی اختلافات سلجھا لینے تھے۔


4۔ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجاب میں رھنے والے پٹھان نے پاکستان کا وزیر اعظم اور پنجاب میں رھنے والے بلوچ نے پنجاب کا وزیر اعلی نہیں ھونا تھا۔


5۔ پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے فروغ پانے کی وجہ سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ھونی تھی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے دربدر نہیں ھونا تھا۔


نواز شریف کو 33 سال میں بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ؛


جب پنجابی بچے اپنی بیسک ایجوکیشن اس زبان میں لے سکتے ھیں جو وہ گھر میں بولتے ھیں ' جو ان کی ماں بولی ھے۔ ھائیر ایجوکیشن ' انٹرنیشنل لینگویج انگلش میں ھی لینی چاھیے اور انگلش میں ھی لے رھے ھیں۔ پھر ایک اجنبی زبان اردو ' جو کہ "انڈس ویلی سویلائزیشن" کی نہیں بلکہ "گنگا جمنا کلچر" کی زبان ھے ' اس کو سیکھنے یا بولنے کی ضرورت کیا ھے؟


کیا بچے اپنی ماں بولی میں بات بہتر سمجھتے ھیں یا دوسری بولی میں؟


1۔ یہ بات کرتے کرتے ھی بنگالی الگ ھو گئے۔


2۔ یہ بات سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کہہ رھے ھیں (کشمیری ' ھندکو ' ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)


3۔ یہ بات ھی پنجابی قوم پرست کہہ رھے ھیں۔


نواز شریف کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آئی کہ؛


1۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔


2۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے


3۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔


4 پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے۔


5۔ پنجابی زبان پاکستان کی 80 فیصد آبادی بولنا جانتی ھے۔


6۔ پنجابی زبان پاکستان کی 90 فیصد آبادی سمجھ لیتی ھے۔


پھر پنجابیوں کے بچوں کو پنجابی میڈیم میں نہ پڑھا کر پنجابیوں کے بچوں کو "دولے شاہ کے چوھے" کیوں بنایا جا رھا ھے؟


کیا نواز شریف نے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہیں پڑھا تھا؟ جس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا تھا کہ؛


۔ عدالت نے مشاھدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ' پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔


۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ' ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔


۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ' اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔


۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی وقار اور تعلیم باھم مربوط ھیں۔ تعلیم ' جو ایک بنیادی حق ھے ' براہ راست زبان سے تعلق رکھتی ھے۔ لیکن حکومت اس اھم معاملے سے بے نیاز دکھائی دیتی ھے۔


کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھا کہ؛


یونیسکو جیسا ادارہ بھی ' جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ' سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ' اس بات کی تائید کرتا ھے کہ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیئے کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو وہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔


کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھا کہ؛


پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ اس لیے پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں جو اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت رکھتے ھیں۔


مسلم لیگ ن پنجابیوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ھے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت اب مریم نواز کر رھی ھیں۔ سیاست میں کی ھوئی اپنے بڑوں کی غلطی کو تسلیم کر لینا سیاسی شعور کی نشانی ھوتی ھے۔ اس لیے پنجابی نیشنلسٹ فورم (پی این ایف) مریم نواز کو مشورہ دیتا ھے کہ؛


۔ مریم نواز 21 فروری کو "ماں بولی دیہاڑ" میں شرکت کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس آئیں۔ 


۔ پنجابی زبان کا مطالبہ کرنے والے پنجابی قوم پرستوں سے خطاب کرکے نواز شریف کی طرف سے پنجابیوں کو پنجابی زبان کا حق نہ دینے کی غلطی تسلیم کرکے پنجابیوں سے معافی مانگیں۔


۔ پنجابی زبان کو پنجاب کی دفتری اور تعلیمی زبان بنانے کے لیے مسلم لیگ ن کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں سے "پنجابی لینگویج ایکٹ" پاس کروانے کا وعدہ کریں۔

*PNF SINDH*



Comments

Popular posts from this blog

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int