پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جانا چاھئیے؟؟؟؟ پاکستان آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا کی تہذیب و ثقافت والے اردو بولنے والے ھندوستانی نہ زمیندار اور مزارعے تھے ' نہ صنعتکار اور مزدور تھے ' نہ تاجر اور ھنر مند تھے۔ یوپی ' سی پی سے زیادہ تر دانشور اور مذھبی ورکر ' صحافی اور سماجی ورکر ' سیاستدان اور سیاسی ورکر ' فوجی افسر اور سپاھی ' سول افسر اور کلرک ' وکیل اور منشی ھی پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں پرورش و تربیت پانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں اور ان کی اولادوں نے اپنے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان کو چلایا جبکہ انڈس سولائیزیشن کی سرزمین پر بنے مسلمانوں کا نظریہ رہن سہن اس اترپردیشی نظریہ اور رہن سہن سے کافی مختلف تھا پاکستان کے قیام کے وقت اس خطے میں جہاں پاکستان بنا مسلمان نوے فیصد جبکہ غیر مسلم دس فیصد تھے اور یو پی سی پی میں ھندو مسلم کم بیش ایک جیسی آبادی تھے یعنی ففٹی ففٹی یو پی سی پی والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے ھوئے تھے جس میں مسلمان ھونے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں میں ھندو رسم رواج زیادہ تھے جبکہ انڈس سولائیزیشن کی زمین کے مسلمان صوفیاء کرام کی تعلیمات کے زیر اثر محبت کرنے والے مہمان نواز اور وسیع دل والے تھے جس کا یہاں وارد ھونے والوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کو آپس میں لڑا کر انگریز کے غلام ان یو پی سی پی اترپردیشیوں نے اپنے بھائی بند انگریز کے وظیفہ خور پٹھان کے ساتھ مل کر اور گٹھ جوڑ کرکے اس خطے کے اختیار و اقتدار پر قبضہ کر لیا . یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کا "اترپردیشی نظریہ" تھا کہ؛ پاکستانی ایک قوم ھیں نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں بلاشبہ یہ ایک مذھب والا انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ رھا اور دوسروں پر بھی زبردستی مسلط کیا گیا ایک زبان انکی اردو زبان رھی ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت رھی اور ایک سیاسی مفاد انکا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی برتری رھا۔ ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر "صوفی ازم" والا مذھبی نقطہ نظر رکھتی ھے۔ انکی زبانیں الگ الگ ھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ ھیں۔ جبکہ "وادیء سندھ" سے وابستہ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ ھے۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں ھیں اور انکے اپنے اپنے سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی مفادات ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے "اترپردیشی نظریہ" کو مسترد کرکے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے تو 1971 میں ھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بنا لیا تھا۔ لیکن پاکستان میں اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی آبادی کراچی میں ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں میں سے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کے ذریعے اور انکے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان تو کیا اب کراچی کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانا بھی ممکن نہیں رھا۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی پہلے 1800 عیسوی سے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں "لسانی تربیت" کی گئی۔ جبکہ 1866ء سے دارالعلوم دیوبند میں ' 1893ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں اور 1904ء سے بریلوی مدرسوں میں "نظریاتی تربیت" کی گئی۔ لیکن پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کی پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک "ان کی زبان اور ان کے نظریہ" کے مطابق "پاکستانی نظریہ" تشکیل دے کر"نظریاتی اداروں" میں تربیت نہیں کی گئی بلکہ اترپردیش والوں کی زبان اور نظریہ کو ھی ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رھی۔ اس لیے ان کے پاس اب تک پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے نہ "پاکستانی نظریہ" ھے اور نہ "پاکستانی نظریہ" کے مطابق "نظریاتی اداروں" میں ان کی باقاعدہ پرورش و تربیت ھوئی ھے۔ اس لیے پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جائے گا؟؟؟ کیا " نظریہ" کے بغیر کسی ملک کو چلایا جاسکتا ھے؟ کیا "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق یا "پاکستانی نظریہ" کے بغیر پاکستان کو چلانے سے سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات میں اضافہ نہیں ھوتا جا رھا؟؟ کیا یہ زمینی حقائق سے ھٹ کر زبردستی کا انگریز کے غلاموں اور اس خطہ زمین پاکستان میں انگریز کے مفادات کا تحفظ کرنے والا نظریہ بچے کھچے پاکستان جڑیں کھوکھلی نہیں کر رہا ؟؟؟ انڈس سولائیزیشن کی قوموں میں آپس میں نفرت اور دوریوں اس بدیسی اتر پردیشی نظریہ کے یہاں آنے سے پہلے ہزاروں سال میں کوئی ثبوت ملتا ھے ؟؟؟ اس خطے کے زمین زادے اگر اب بھی اپنے ہزاروں سال پرانے اور اسلام کے آمد کے بعد گزشتہ چودہ سو سال میں اس خطے میں رھے نظریہ اور فلسفے پر واپس نہ آئے اور اس درآمد شدہ یو پی سی پی اتر پردیشی نظریہ کو ان کے لانے والوں کے واپس نہ کیا تو شاید یہ خطہ اپنی ہزاروں سال پرانی محبت اخوت اور بھائی چارے والی حالت میں نہ لوٹ پائے ... *PNF SINDH*

 پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جانا چاھئیے؟؟؟؟


پاکستان آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا کی تہذیب و ثقافت والے اردو بولنے والے ھندوستانی نہ زمیندار اور مزارعے تھے ' نہ صنعتکار اور مزدور تھے ' نہ تاجر اور ھنر مند تھے۔ یوپی ' سی پی سے زیادہ تر دانشور اور مذھبی ورکر ' صحافی اور سماجی ورکر ' سیاستدان اور سیاسی ورکر ' فوجی افسر اور سپاھی ' سول افسر اور کلرک ' وکیل اور منشی ھی پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں پرورش و تربیت پانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں اور ان کی اولادوں نے اپنے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان کو چلایا جبکہ انڈس سولائیزیشن کی سرزمین پر بنے مسلمانوں کا نظریہ رہن سہن اس اترپردیشی نظریہ اور رہن سہن سے کافی مختلف تھا پاکستان کے قیام کے وقت اس خطے میں جہاں پاکستان بنا مسلمان نوے فیصد جبکہ غیر مسلم دس فیصد تھے اور یو پی سی پی میں ھندو مسلم کم بیش ایک جیسی آبادی تھے یعنی ففٹی ففٹی یو پی سی پی والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے ھوئے تھے جس میں مسلمان ھونے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں میں ھندو رسم رواج زیادہ تھے

 جبکہ انڈس سولائیزیشن کی زمین کے مسلمان صوفیاء کرام کی تعلیمات کے زیر اثر محبت کرنے والے مہمان نواز اور وسیع دل والے تھے جس کا یہاں وارد ھونے والوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کو آپس میں لڑا کر انگریز کے غلام ان یو پی سی پی اترپردیشیوں نے اپنے بھائی بند انگریز کے وظیفہ خور پٹھان کے ساتھ مل کر اور گٹھ جوڑ کرکے اس خطے کے اختیار و اقتدار پر قبضہ کر لیا .

 یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کا "اترپردیشی نظریہ" تھا کہ؛ 

پاکستانی ایک قوم ھیں نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں بلاشبہ یہ ایک مذھب والا انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ رھا اور دوسروں پر بھی زبردستی مسلط کیا گیا ایک زبان انکی اردو زبان رھی ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت رھی اور ایک سیاسی مفاد انکا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی برتری رھا۔


ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر "صوفی ازم" والا مذھبی نقطہ نظر رکھتی ھے۔ انکی زبانیں الگ الگ ھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ ھیں۔ جبکہ "وادیء سندھ" سے وابستہ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ ھے۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں ھیں اور انکے اپنے اپنے سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی مفادات ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے "اترپردیشی نظریہ" کو مسترد کرکے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے تو 1971 میں ھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بنا لیا تھا۔ لیکن پاکستان میں اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی آبادی کراچی میں ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں میں سے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کے ذریعے اور انکے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان تو کیا اب کراچی کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانا بھی ممکن نہیں رھا۔


یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی پہلے 1800 عیسوی سے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں "لسانی تربیت" کی گئی۔ جبکہ 1866ء سے دارالعلوم دیوبند میں ' 1893ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں اور 1904ء سے بریلوی مدرسوں میں "نظریاتی تربیت" کی گئی۔

 لیکن پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کی پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک "ان کی زبان اور ان کے نظریہ" کے مطابق "پاکستانی نظریہ" تشکیل دے کر"نظریاتی اداروں" میں تربیت نہیں کی گئی بلکہ اترپردیش والوں کی زبان اور نظریہ کو ھی ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رھی۔ اس لیے ان کے پاس اب تک پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے نہ "پاکستانی نظریہ" ھے اور نہ "پاکستانی نظریہ" کے مطابق "نظریاتی اداروں" میں ان کی باقاعدہ پرورش و تربیت ھوئی ھے۔


 اس لیے پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جائے گا؟؟؟

 

کیا " نظریہ" کے بغیر کسی ملک کو چلایا جاسکتا ھے؟


 کیا "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق یا "پاکستانی نظریہ" کے بغیر پاکستان کو چلانے سے سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات میں اضافہ نہیں ھوتا جا رھا؟؟

کیا یہ زمینی حقائق سے ھٹ کر زبردستی کا انگریز کے غلاموں اور اس خطہ زمین پاکستان میں انگریز کے مفادات کا تحفظ کرنے والا نظریہ بچے کھچے پاکستان جڑیں کھوکھلی نہیں کر رہا ؟؟؟

 انڈس سولائیزیشن کی قوموں میں آپس میں نفرت اور دوریوں اس بدیسی اتر پردیشی نظریہ کے یہاں آنے سے پہلے ہزاروں سال میں کوئی ثبوت ملتا ھے ؟؟؟

اس خطے کے زمین زادے اگر اب بھی اپنے ہزاروں سال پرانے اور اسلام کے آمد کے بعد گزشتہ چودہ سو سال میں اس خطے میں رھے نظریہ اور فلسفے پر واپس نہ آئے اور اس درآمد شدہ یو پی سی پی اتر پردیشی نظریہ کو ان کے لانے والوں کے واپس نہ کیا تو شاید یہ خطہ اپنی ہزاروں سال پرانی محبت اخوت اور بھائی چارے والی حالت میں نہ لوٹ پائے ...

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟