پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جانا چاھئیے؟؟؟؟ پاکستان آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا کی تہذیب و ثقافت والے اردو بولنے والے ھندوستانی نہ زمیندار اور مزارعے تھے ' نہ صنعتکار اور مزدور تھے ' نہ تاجر اور ھنر مند تھے۔ یوپی ' سی پی سے زیادہ تر دانشور اور مذھبی ورکر ' صحافی اور سماجی ورکر ' سیاستدان اور سیاسی ورکر ' فوجی افسر اور سپاھی ' سول افسر اور کلرک ' وکیل اور منشی ھی پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں پرورش و تربیت پانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں اور ان کی اولادوں نے اپنے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان کو چلایا جبکہ انڈس سولائیزیشن کی سرزمین پر بنے مسلمانوں کا نظریہ رہن سہن اس اترپردیشی نظریہ اور رہن سہن سے کافی مختلف تھا پاکستان کے قیام کے وقت اس خطے میں جہاں پاکستان بنا مسلمان نوے فیصد جبکہ غیر مسلم دس فیصد تھے اور یو پی سی پی میں ھندو مسلم کم بیش ایک جیسی آبادی تھے یعنی ففٹی ففٹی یو پی سی پی والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے ھوئے تھے جس میں مسلمان ھونے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں میں ھندو رسم رواج زیادہ تھے جبکہ انڈس سولائیزیشن کی زمین کے مسلمان صوفیاء کرام کی تعلیمات کے زیر اثر محبت کرنے والے مہمان نواز اور وسیع دل والے تھے جس کا یہاں وارد ھونے والوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کو آپس میں لڑا کر انگریز کے غلام ان یو پی سی پی اترپردیشیوں نے اپنے بھائی بند انگریز کے وظیفہ خور پٹھان کے ساتھ مل کر اور گٹھ جوڑ کرکے اس خطے کے اختیار و اقتدار پر قبضہ کر لیا . یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کا "اترپردیشی نظریہ" تھا کہ؛ پاکستانی ایک قوم ھیں نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں بلاشبہ یہ ایک مذھب والا انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ رھا اور دوسروں پر بھی زبردستی مسلط کیا گیا ایک زبان انکی اردو زبان رھی ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت رھی اور ایک سیاسی مفاد انکا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی برتری رھا۔ ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر "صوفی ازم" والا مذھبی نقطہ نظر رکھتی ھے۔ انکی زبانیں الگ الگ ھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ ھیں۔ جبکہ "وادیء سندھ" سے وابستہ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ ھے۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں ھیں اور انکے اپنے اپنے سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی مفادات ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے "اترپردیشی نظریہ" کو مسترد کرکے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے تو 1971 میں ھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بنا لیا تھا۔ لیکن پاکستان میں اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی آبادی کراچی میں ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں میں سے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کے ذریعے اور انکے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان تو کیا اب کراچی کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانا بھی ممکن نہیں رھا۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی پہلے 1800 عیسوی سے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں "لسانی تربیت" کی گئی۔ جبکہ 1866ء سے دارالعلوم دیوبند میں ' 1893ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں اور 1904ء سے بریلوی مدرسوں میں "نظریاتی تربیت" کی گئی۔ لیکن پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کی پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک "ان کی زبان اور ان کے نظریہ" کے مطابق "پاکستانی نظریہ" تشکیل دے کر"نظریاتی اداروں" میں تربیت نہیں کی گئی بلکہ اترپردیش والوں کی زبان اور نظریہ کو ھی ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رھی۔ اس لیے ان کے پاس اب تک پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے نہ "پاکستانی نظریہ" ھے اور نہ "پاکستانی نظریہ" کے مطابق "نظریاتی اداروں" میں ان کی باقاعدہ پرورش و تربیت ھوئی ھے۔ اس لیے پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جائے گا؟؟؟ کیا " نظریہ" کے بغیر کسی ملک کو چلایا جاسکتا ھے؟ کیا "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق یا "پاکستانی نظریہ" کے بغیر پاکستان کو چلانے سے سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات میں اضافہ نہیں ھوتا جا رھا؟؟ کیا یہ زمینی حقائق سے ھٹ کر زبردستی کا انگریز کے غلاموں اور اس خطہ زمین پاکستان میں انگریز کے مفادات کا تحفظ کرنے والا نظریہ بچے کھچے پاکستان جڑیں کھوکھلی نہیں کر رہا ؟؟؟ انڈس سولائیزیشن کی قوموں میں آپس میں نفرت اور دوریوں اس بدیسی اتر پردیشی نظریہ کے یہاں آنے سے پہلے ہزاروں سال میں کوئی ثبوت ملتا ھے ؟؟؟ اس خطے کے زمین زادے اگر اب بھی اپنے ہزاروں سال پرانے اور اسلام کے آمد کے بعد گزشتہ چودہ سو سال میں اس خطے میں رھے نظریہ اور فلسفے پر واپس نہ آئے اور اس درآمد شدہ یو پی سی پی اتر پردیشی نظریہ کو ان کے لانے والوں کے واپس نہ کیا تو شاید یہ خطہ اپنی ہزاروں سال پرانی محبت اخوت اور بھائی چارے والی حالت میں نہ لوٹ پائے ... *PNF SINDH*

 پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جانا چاھئیے؟؟؟؟


پاکستان آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا کی تہذیب و ثقافت والے اردو بولنے والے ھندوستانی نہ زمیندار اور مزارعے تھے ' نہ صنعتکار اور مزدور تھے ' نہ تاجر اور ھنر مند تھے۔ یوپی ' سی پی سے زیادہ تر دانشور اور مذھبی ورکر ' صحافی اور سماجی ورکر ' سیاستدان اور سیاسی ورکر ' فوجی افسر اور سپاھی ' سول افسر اور کلرک ' وکیل اور منشی ھی پاکستان آئے تھے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں پرورش و تربیت پانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں اور ان کی اولادوں نے اپنے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان کو چلایا جبکہ انڈس سولائیزیشن کی سرزمین پر بنے مسلمانوں کا نظریہ رہن سہن اس اترپردیشی نظریہ اور رہن سہن سے کافی مختلف تھا پاکستان کے قیام کے وقت اس خطے میں جہاں پاکستان بنا مسلمان نوے فیصد جبکہ غیر مسلم دس فیصد تھے اور یو پی سی پی میں ھندو مسلم کم بیش ایک جیسی آبادی تھے یعنی ففٹی ففٹی یو پی سی پی والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کا رنگ لئے ھوئے تھے جس میں مسلمان ھونے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں میں ھندو رسم رواج زیادہ تھے

 جبکہ انڈس سولائیزیشن کی زمین کے مسلمان صوفیاء کرام کی تعلیمات کے زیر اثر محبت کرنے والے مہمان نواز اور وسیع دل والے تھے جس کا یہاں وارد ھونے والوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کو آپس میں لڑا کر انگریز کے غلام ان یو پی سی پی اترپردیشیوں نے اپنے بھائی بند انگریز کے وظیفہ خور پٹھان کے ساتھ مل کر اور گٹھ جوڑ کرکے اس خطے کے اختیار و اقتدار پر قبضہ کر لیا .

 یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کا "اترپردیشی نظریہ" تھا کہ؛ 

پاکستانی ایک قوم ھیں نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں بلاشبہ یہ ایک مذھب والا انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ رھا اور دوسروں پر بھی زبردستی مسلط کیا گیا ایک زبان انکی اردو زبان رھی ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت رھی اور ایک سیاسی مفاد انکا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی برتری رھا۔


ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر "صوفی ازم" والا مذھبی نقطہ نظر رکھتی ھے۔ انکی زبانیں الگ الگ ھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ ھیں۔ جبکہ "وادیء سندھ" سے وابستہ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ ھے۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں ھیں اور انکے اپنے اپنے سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی مفادات ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے "اترپردیشی نظریہ" کو مسترد کرکے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے تو 1971 میں ھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بنا لیا تھا۔ لیکن پاکستان میں اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی آبادی کراچی میں ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی اولادوں میں سے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کے ذریعے اور انکے "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق پاکستان تو کیا اب کراچی کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانا بھی ممکن نہیں رھا۔


یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی پہلے 1800 عیسوی سے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں "لسانی تربیت" کی گئی۔ جبکہ 1866ء سے دارالعلوم دیوبند میں ' 1893ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں اور 1904ء سے بریلوی مدرسوں میں "نظریاتی تربیت" کی گئی۔

 لیکن پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے دانشوروں اور مذھبی ورکروں ' صحافیوں اور سماجی ورکروں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' فوجی افسروں اور سپاھیوں ' سول افسروں اور کلرکوں ' وکیلوں اور منشیوں کی پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک "ان کی زبان اور ان کے نظریہ" کے مطابق "پاکستانی نظریہ" تشکیل دے کر"نظریاتی اداروں" میں تربیت نہیں کی گئی بلکہ اترپردیش والوں کی زبان اور نظریہ کو ھی ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رھی۔ اس لیے ان کے پاس اب تک پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے نہ "پاکستانی نظریہ" ھے اور نہ "پاکستانی نظریہ" کے مطابق "نظریاتی اداروں" میں ان کی باقاعدہ پرورش و تربیت ھوئی ھے۔


 اس لیے پاکستان کو اب کس " نظریہ" کے مطابق چلایا جائے گا؟؟؟

 

کیا " نظریہ" کے بغیر کسی ملک کو چلایا جاسکتا ھے؟


 کیا "اترپردیشی نظریہ" کے مطابق یا "پاکستانی نظریہ" کے بغیر پاکستان کو چلانے سے سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات میں اضافہ نہیں ھوتا جا رھا؟؟

کیا یہ زمینی حقائق سے ھٹ کر زبردستی کا انگریز کے غلاموں اور اس خطہ زمین پاکستان میں انگریز کے مفادات کا تحفظ کرنے والا نظریہ بچے کھچے پاکستان جڑیں کھوکھلی نہیں کر رہا ؟؟؟

 انڈس سولائیزیشن کی قوموں میں آپس میں نفرت اور دوریوں اس بدیسی اتر پردیشی نظریہ کے یہاں آنے سے پہلے ہزاروں سال میں کوئی ثبوت ملتا ھے ؟؟؟

اس خطے کے زمین زادے اگر اب بھی اپنے ہزاروں سال پرانے اور اسلام کے آمد کے بعد گزشتہ چودہ سو سال میں اس خطے میں رھے نظریہ اور فلسفے پر واپس نہ آئے اور اس درآمد شدہ یو پی سی پی اتر پردیشی نظریہ کو ان کے لانے والوں کے واپس نہ کیا تو شاید یہ خطہ اپنی ہزاروں سال پرانی محبت اخوت اور بھائی چارے والی حالت میں نہ لوٹ پائے ...

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int