کیا پنجابی پنجابیوں کا قتل ھونا جائیدادوں پر قبضے الزام تراشیاں اور گالیاں برداشت کریں یا ڈٹ کر جواب دیں ؟؟؟؟

 کیا پنجابی پنجابیوں کا قتل ھونا جائیدادوں پر قبضے الزام تراشیاں اور گالیاں برداشت کریں یا ڈٹ کر جواب دیں ؟؟؟؟


پاکستان کے 1947 میں قیام سے لیکر بنگلہ دیش کے 1971 میں قیام تک پاکستان پر حکمرانی ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی رھی جو کہ ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خاں کے پاکستان کا پہلا وزیرِ اعظم بننے اور پٹھان ایوب خان کے پاکستانی فوج کا پہلا آرمی چیف اور پاکستان کا پہلا فوجی آمربننے سے شروع ھوئی پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ سارے بلنڈر بھی ان ھی کے فیصلوں اور احکامات سے ھوئے ، لیکن الزام تراشیاں اور گالیاں پنجابیوں کو دی جاتی ھیں اور پاکستان میں جنم لینے والی تمام خامیوں اور برائیوں کا ذمہ دار پنجابی قرار پاتا ھے جبکہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان مظلوم ' معصوم اور پارسا بنے بیٹھے ھیں۔ بلکہ سندھی اور بلوچ تو اپنی جگہ یہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان بھی پنجابیوں پر الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ھیں۔


مسئلہ اصل میں یہ ھے کہ؛ 


ھم نہ ھوتے تو کسی اور کے چرچے ھوتے 

خلقتِ شھر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ 


چونکہ خلقتِ شھر کہنے کو فسانے مانگتی تھی لیکن پنجابیوں نے فسانے کیا سنانے تھے پنجابی تو خود پر لگائے جانے والے بے جا الزامات تک کا جواب نہیں دے پاتے تھے اور چپ چاپ نہ صرف سندھیوں اور بلوچوں بلکہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں تک کے بے جا الزامات بھی سنتے رھے گالیاں بھی سنتے رھے قتل بھی ھوتے رھے اور اپنی املاک پر قبضے اور تباہ برباد بھی کرواتے رھے .


وجہ؟ 

اسکی وجہ یہ ھے کہ 1947 میں پنجاب کی تقسیم سے 20 لاکھ پنجابیوں کے مارے جانے کی وجہ سے پنجابی تباہ و برباد ھوچکے تھے اور 2 کروڑ پنجابیوں کے بے گھر ھوجانے کی وجہ سے پنجابی در بدر تھے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ھوئے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان پر حکمرانی بھی کی اور بے جا الزام تراشیوں کے ذریعے پنجابیوں کو بدنام بھی کیا۔ اس سے خلقتِ شھر کو کہنے کو فسانے ملتے رھے۔


جبکہ تباہ و برباد اور در بدر پنجابی بنگالیوں کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ھونے کے باوجود نہ تو پاکستان پر حکمرانی میں اپنا حق لے پائے اور نہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی بے جا الزام تراشیوں کا موثر جواب دے پائے۔ الٹا ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں سے اپنے چرچے بھی کرواتے رھے اور اپنے فسانے بھی بنواتے رھے۔


اس لیے پنجابی یا تو اب بھی ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی پنجابیوں پر الزام تراشیاں اور گالیاں برداشت کریں یا پھر اب ڈٹ کر ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کو منہ توڑ جواب دیں۔


اب جبکہ پنجابیوں نے ڈٹ کر ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کو جواب دینا شروع کردیا ھے اس لئے اب؛


1۔ خلقتِ شھر کو ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی مظلومیت ' معصومیت اور پارسائی کے پردے چاک ھونے کی وجہ سے سننے کے لیے نئے نئے فسانے ملیں گے۔


2۔ خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے 1947 سے لیکر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پاکستان کو کیسے تباہ کیا۔


3۔ خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے لیکر اب تک پاکستان کو کیسے برباد کیا۔


4۔ خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کے پنجابیوں پر بے جا الزامات لگانے ' بد نام کرنے ' بلیک میل کرنے کا حساب کتاب پنجابی کیسے بے باک کرتے ھیں۔


5۔ خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی کو پنجابی قوم پرست بنا کر خود کو کیسے عذاب میں مبتلا کرلیا ھے۔


6۔ خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی کو پنجابی قوم پرست بنا کر پٹھان کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار ھندکو ' بلوچ کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار بلوچستان میں بروھی ' سندھ میں سماٹ ' جنوبی پنجاب میں ریاستی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی اور یو پی ' سی پی کے ھندی (اردو) اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار گجراتی اور راجستھانی کو بھی آزاد ھوکر خود کو سیاسی ' سماجی اور معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ھونے کے لیے پنجابی قوم کی مدد اور سرپرستی کیسے فراھم کروادی ھے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int