بلوچستان کے وارث مہر گڑھ تہذیب کے محافظ براہوی کب سے کرد نژاد بر آؤک ، بروچ، بلوچ سرداروں کی معاشی سماجی لسانی اور ثقافتی دہشتگردی کا شکار ھیں ؟؟؟؟

 بلوچستان کے وارث مہر گڑھ تہذیب کے محافظ براہوی کب سے کرد نژاد بر آؤک ، بروچ، بلوچ سرداروں کی معاشی سماجی لسانی اور ثقافتی دہشتگردی کا شکار ھیں ؟؟؟؟


براھوئی قوم 1486ء سے بلوچ قبائل کے ظلم و جبر کا نشانہ بنی ھوئی ھے۔

کردستانی قبائل نے براھوئیوں کے علاقے پر 1486ء میں قبضہ کیا اور قبضے کے بعد کردستانی قبائل بلوچ بن گئے اور براھوئی کو بھی ورغلا کرکے جھانسے سے بلوچ بنانا شروع کردیا۔ 

انگریز نے 1887ء میں براھوئیوں کے شمالی علاقے کا نام بلوچستان رکھ دیا جبکہ یہ علاقہ مھرگڑہ کی تہذیب اور ھزاروں سالوں سے براھوئی قوم کا علاقہ ھے۔

بلوچستان اور سندھ میں براھوئی کی آبادی بہت زیادہ ھے۔ لیکن بلوچوں نے بہت سارے براھوئیوں کو زبردستی بلوچ بنایا ھوا ھے۔

 جبکہ پنجاب میں بھی براھوئی کو بلوچ سمجھا جاتا ھے۔ اس لیے براھوئی قوم اپنی شناخت کے بحران کا شکار ھے۔


اسی طرح بلوچوں نے 1783ء میں سندھ پر قبضہ کرکے موئن جودڑو کی تہذیب کے اصل باشندوں سماٹ کو بھی اپنی معاشی لسانی ثقافتی سماجی سیاسی دہشتگردی کا شکار بنایا.


 اسی طرح بلوچوں نے انگریز کو افغانستان تک پہنچنے میں مدد دینے کے عوض انگریز سے ساز باز کرکے براھوئی کے شمالی علاقہ کا نام 1887ء میں بلوچستان رکھوا لیا اور براہوی علاقے میں اپنے قبضہ گیر مددگار افغانی پٹھانوں کی آبادگاری شروع کروادی۔ جبکہ براھوئی کے جنوبی مغربی اور جنوب مشرقی علاقہ میں بلوچ قبائل نے اپنا قبضہ مزید مضبوط کرلیا اور انگریز کو افغانستان تک پہنچنے میں مدد دینا شروع کردی۔ 


براھوئی قوم پر 1486ء سے کردستانی بلوچ قبائل کی طرف سے ظلم و زیادتی ھورھی ھے۔ اس لیے انصاف کا تقاضہ ھے کہ؛ بلوچستان کا نام "براھوئستان" کرکے "براھوئستان" کی زبان براھوئی کرکے "براھوئستان" کی حکمرانی براھوئی کو دے کر براھوئیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی طور پر مضبوط کیا جائے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟