۹ستمبر پنجاب دے دفاع دا دیہاڑ
*۹ ستمبر یوم دفاع پنجاب*
تریخ پڑھئے تے پتہ چلدا اے کہ پورس ناں دے پنجابی قبیلے دے دو مہان پتراں پنجاب نوں سکندر یونانی دے حملے توں محفوظ رکھیا,
مورخین لکھتے ہیں کہ یونانی فوج کی پسپائی کے بعد جنوب مغرب میں یونانیوں کے زیرقبضہ تینتیس شہر بھی پورس کی ریاست میں شامل ہوگئے۔
پورس کی بہادری پورے ہند میں مشہور ہوگئی۔ دورانِ جنگ ایک پنجابی جنگجو کیشر وریاہ کا برچھا سکندر کو جا لگا۔ اور وہ زخمی ہو گیا۔
ہاتھیوں کی جنگ کا سکندر اور اُسکی فوج کو کوئ تجربہ نا تھا۔ کئی سو یونانی تو ہاتھیوں کے پاوں تلے روندے گئے۔
پنجابی لشکر تیس ہزار پیادے 2000 ہزار سوار اور 120 ہاتھی رتھوں پر مُشتمل تھا۔ موجود پنجاب میں مونگ کے مقام پر میدانِ جنگ سجا۔
سکندر اعظم کی فوجوں کی تعداد پچاس ہزار تھی اور دریا کے دوسرے کنارے صف آرستہ تھی ۔
پورس کی فوج میں دو سو ہاتھی ، تین سو رتھ ، چار ہزار سوار اور تیس ہزار پیادے تھے،
تاریخی ماہرین کی رائے کہیں مختلف بھی ھے لیکن سب اس بات پر متفق ھیں کہ پورس سے جنگ کے بعد سکندر یونانی کا ھندوستان فتح کرنے کا خواب پورا نہ ھوا اور زخمی سکندر واپس مقدونیہ جاتے ھوئے ھلاک ھوا .
*PNF SINDH*
Comments
Post a Comment