سندھ بدر کیتے گئے پنجابیاں دی داستان غم

*پنجاب بدر پنجابیاں دی آپ بیتی سلسلہ *

گوٹھ چراغ دین کمبوہ  تحصیل خیرپور ناتھن شاہ ضلع دادو سن اسی تے نوے دی دھائیاں جد سندھ ، سندھ دے پنجابیاں لئی کربلا بنیا ھویا سی پورا پنڈ زبردستی قبضے توں بعد پنجاب بدر ھویا ، 

پی این ایف سندھ زون اپنے سندھ دے پنجابیاں دی زمیناں واگزار کران لئی ہر فورم تے ہر محاذ تے جنگ لڑے گا پی این دی تحصیل تے یوسی لیول تائیں تنظیم سازی مکمل ھون تائیں جے ارباب اقتدار تے اختیار نیں سندھ دے پنجابیاں دی قبضہ کیتی گئی زمیناں تے جائیداد واپس ناں کرائی تے فیر پی این ایف بزور قوت آپنے پنجابی بھراواں دا حق لووے گا ان شاء اللہ 

سندھ بدر تے ظلم دا شکار ھون والے اصغر کمبوہ دے اکھراں وچ داستان غم پڑھو ،

*اصغر کمبوہ*

علاقہ ضلع دادو تحصیل خیر پور ناتھن شاھ. ،گوٹھ مصری چانڈیو  کے ساتھ ھمارا گاوں تھا جو کہ میرے دادا کے نام پر تھا گوٹھ حاجی چراغ دین کمبوہ ۔ھمارے 100 ایکڑ رقبہ پر چانڈیو قوم نے قبضہ کیاھوا ھے ۔ پہلے میرے ایک بھائی اور ایک کزن کو ا غواہ کروایا انہوں نے، دو کروڑ تاوان مانگا ۔ جب تک جنرل ضیاءالحق کی حکومت تھی حالات کنٹرول میں رھے ۔جونہی مرحوم ضیاالحق کا جہاز کریش ھوا پنجابیوں پر سندھ کی سرزمین تنگ کر دی گئی ۔

 میں نے میٹرک کے بعد خیرپور ناتھن شاھ کالج میں پڑھنا چاھا تو جئے سندھ کے غنڈوں نے مجھ پر تشدد کیا  ، بڑی مشکل سے جان بچائی ۔ 

ھمارے 100 ایکڑ کے علاوہ بھی بستی میں عزیز واقارب کی زمینیں تھیں ، آھستہ آھستہ سب چھین لی گیں ۔
ھمارے ارگرد کچھ اور بھی پنجابیوں کی بستیاں تھیں ۔سب کے ساتھ یہی سلوک ھوا زبردستی قبضہ نہ داد نہ فریاد .

اتنے ظلم پنجابیوں کے ساتھ ھوئے،  کیا کیا لکھوں ۔ لکھتے لکھتے تھک جاؤں گا  ۔ظلم کی داستانیں بہت لمبی ھیں .

*PNF Sindh Zone*

😭😭😭😭

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟