Posts

مئی 2021 وچ جے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی ویر Abdul Latif Arain دی ایس لکھت نوں سنجیدہ لیندے تے فیر شاید 2023 دی مردم شماری وچ پنجاب پنجابی نال اے ہتھ ناں ہوندا ، مسلمان اک رڈ چوں دوجی واری نئیں ڈنگیا جا سکدا پنجابیو تسیں کداں دے انسان او اک ای رڈ چوں پچھلے پچھتر سالاں توں آپنے حقاں تے ڈاکہ برادشت کر دے آ رئے پر آپنے تے آن والیاں نسلاں دے مستقبل نوں کالا کرن والیاں خلاف حق سچ نئیں بولدے تہاڈی ایس بیحسی تے افسوس ای کیتا جا سکدا اے ... #PGFInt یہ مردم شماری ہے یا مردم بیزاری حد ہے کہ ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابی لاپتہ یا گمشدہ کر دئیے گئے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی پچھلی مردم شماری جو 1998 میں ہوئی تھی اس کے مطابق پنجابی بولنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کا %44.15 تھی جبکہ اب 2017 میں یہ تناسب گھٹا کر %38.78 بتایا گیا ہے یعنی پنجابی بولنے والوں کی تعداد میں میں %5.37 کی کمی کی گئی ہے اب جبکہ پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہتر ہزار بتائی گئی ہے تو اس کا 5.37 فیصد بنتا ہے ایک کروڑ گیارہ لاکھ اور ستاون ہزار اور یہ پنجابی بولنے والوں کی وہ تعداد ہے جو گنی ہی نہیں گئی یا چھپا لی گئی ہے جبکہ پاکستان میں رہنے والی دیگر زبانیں بولنے والے افراد کی تعداد میں کہیں کم اور کہیں زیادہ لیکن اضافہ ہی ریکارڈ کیا گیا ہے سوائے اردو بولنے والوں کے ،حالانکہ اُن میں سے کئی حلقوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شائد ان کی آبادی کم دکھائی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا یاد رہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کی آبادی بڑھتی ہے لیکن تناسب کم و بیش وہی رہتا ہے اگر کوئی اضافہ یا کمی ہو بھی تو فیصد میں بھی نہیں بلکہ اعشاریہ پوائنٹس میں ہوتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے انیس سال میں پنجاب میں نا تو کوئی قحط آیا نا کوئی طاعون پھیلا نا ہی کوئی خانہ جنگی ہوئی اور نا ہی کسی نے کوئی ایٹم بم مارا ہے تو پھر ان ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابیوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا کوئی دوست یہ بتا سکتا ہے کہ کیا یہ کوئی ڈیجیٹل ایرر ہے ، سسٹمیٹک دھاندلی ہے یا کوئی سوچی سمجھی طویل المدتی منصوبہ بندی ؟؟ #NawazSharif #PMShehbazSharif #BilawalBhuttoZardari #PPP #DGISPR #AmnestyInternational

Image
 مئی 2021 وچ جے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی ویر Abdul Latif Arain دی ایس لکھت نوں سنجیدہ لیندے تے فیر شاید 2023 دی مردم شماری وچ پنجاب پنجابی نال اے ہتھ ناں ہوندا ،  مسلمان اک رڈ چوں دوجی واری نئیں ڈنگیا جا سکدا پنجابیو تسیں کداں دے انسان او اک ای رڈ چوں پچھلے پچھتر سالاں توں آپنے حقاں تے ڈاکہ برادشت کر دے آ رئے پر آپنے تے آن والیاں نسلاں دے مستقبل نوں کالا کرن والیاں خلاف حق سچ نئیں بولدے تہاڈی ایس بیحسی تے افسوس ای کیتا جا سکدا اے ... #PGFInt  یہ مردم شماری ہے یا مردم بیزاری حد ہے کہ ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے زیادہ پنجابی لاپتہ یا گمشدہ کر دئیے گئے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی پچھلی مردم شماری جو 1998 میں ہوئی تھی اس کے مطابق پنجابی بولنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کا %44.15 تھی جبکہ اب 2017 میں یہ تناسب گھٹا کر %38.78 بتایا گیا ہے یعنی پنجابی بولنے والوں کی تعداد میں میں %5.37 کی کمی کی گئی ہے اب جبکہ پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ ستتر لاکھ چوہتر ہزار بتائی گئی ہے تو اس کا 5.37 فیصد بنتا ہے ایک کروڑ گیارہ لاکھ اور ستاون ہزار اور یہ پنجابی بولنے والوں کی وہ تع...

فرعون نوں اک ظالم آمرانہ نظام دی علامت طور جانیا جاندا اے پر فرعون دے قصے وچ دو اھم کردار ھمیش نظرانداز کر دتے جاندے نیں جہڑے اوھدے حامی تے مددگار سن اک قارون دوجا ہامان قارون بے شمار دولت دا مالک تے سرمایہ دار نظام دی علامت ، ہامان جہڑا مذہبی پیشوائیت دی علامت ، قرآن کریم وچ فرعون قارون تے ہامان تنوں دا اک دوجے دے مددگار تے جابرانہ نظام دے ستون طور ذکر اے ، اے تنوں کردار صرف حضرت موسیٰ علیہ سلام دے دور وچ نئیں بلکہ ہر دور وچ تہانوں نظر آن گے حتی کہ اج وی تسیں وقت دے فرعون قارون تے ہامان دا مشاہدہ اسانی نال کر سکدے او . ✍️افضل پنجابی #PGFInt

Image
 فرعون نوں اک ظالم آمرانہ نظام دی علامت طور جانیا جاندا اے پر فرعون دے قصے وچ دو اھم کردار ھمیش نظرانداز کر دتے جاندے نیں جہڑے اوھدے حامی تے مددگار سن اک قارون دوجا ہامان   قارون بے شمار دولت دا مالک تے سرمایہ دار نظام دی علامت ، ہامان جہڑا مذہبی پیشوائیت دی علامت ، قرآن کریم وچ فرعون قارون تے ہامان تنوں دا اک دوجے دے مددگار تے جابرانہ نظام دے ستون طور ذکر اے ،  اے تنوں کردار صرف حضرت موسیٰ علیہ سلام دے دور وچ نئیں بلکہ ہر دور وچ تہانوں نظر آن گے حتی کہ اج وی تسیں وقت دے فرعون قارون تے ہامان دا مشاہدہ اسانی نال کر سکدے او . ✍️افضل پنجابی  #PGFInt

حافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں ... حافظ نعیم الرحمن صاحب سمیت وہ سب لوگ اپنا حافظہ درست کرلیں جو کراچی میں ہونیوالی مردم شماری پر بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے اسے بوگس کہتے ہیں .. اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فگر ھے ۔ کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فگر بالکل صحیح ھیں اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشستوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی سمیت بغض پنجاب پنجابی میں مبتلا لوگوں کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کے تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوئی تھی اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائی اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فارمولہ آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ھے .. لیکن اردو اسپیکنگ اشرافیہ کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے لیکن وہ بغض پنجاب پنجابی میں جس رکارڈ سے انہوں نے یہ پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری لائن جسے انہوں نے بولنا مناسب نہی سمجھا کراچی پنجاب سے باہر پنجابیحافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں حافظ نعیم الرحمن صاحب اپنا حافظہ درست کرلیں کراچی کی آبادی میں اضافے کو بوگس کہنے والے غور فرما لیں اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فیگر ھے ۔ کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فیگر بالکل صحیح ھیں اگر حقیقی طور پر دیکھا جاے پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشیتوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کا تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوی تھی اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائ اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فنومنا آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ زمہ داری سونپی گئ ھے لیکن اردو اسپیکنگ کمیونٹی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے جہاں سے انہوں نے یہ لکھت پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری اپنے بغض پنجاب پنجابی میں یہ بات گول کر دی کہ کراچی پنجاب سے باہر پنجابی بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے حافظ صاحب میں آپ کو بتانا چاھتا ھوں آج آپ کو کراچی کے سندھی ،بلوچ،پشتون یاد آگئے آپ پچاس سال سے کہاں تھے جب کراچی شہر میں سندھی ،بلوچ ،پشتون ،ہزارےوال اور پنجابیوں کا حق صرف ایک قوم کھا رھی تھی ؟؟؟ شہری آبادی کے نام پر مختص تمام نوکریوں میں کوٹہ ،تعلیمی اداروں کا کوٹے پر صرف ایک قوم برجمان رھی آگر آپ کو اس شہر اور اس کے بسنے والوں کی فکر لاحق ھے تو پہلے بتایا جائے کہ اس کا اژالہ کیسے ممکن ھوگا ماضی میں بھی سندھی اور نان سندھی کے نام پر کچھ معاہدے ھوے تھے جو بالخصوص اندرون سندھ کے پنجابیوں کو پیش آنے والے مسائل کی بنا پر طے کئے گئے تھے لیکن نان سندھی کے نام پر تمام مراعات صرف و صرف اردو اسپیکنگ اشرافیہ آج تک ہڑپ کرتی آئی ھے ۔ ھم اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم (جماعت اسلامی ) کو بتانا چاھتے ھیں اب سندھ کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہی ھوگی اس دھرتی کی تمام اقوام پنجابی ،پختون ،بلوچ ہزارے وال سندھ اور پاکستان کی سالمیت کے لئے سندھ دھرتی کے شانہ بہ شانہ کھڑے ھیں ھم بھی دیکھیں گہ لسانیت کا سہارا لے کر یا کوئی مزہبی سہارا لے کر یہ بظاہر مذہبی لیکن اصل لسانی گروہ کیسے کامیاب ھو سکتا ھے ... (مرزا سلیم) #PGFInt #PPP #jamateislamikarachi #BilawalBhuttoZardari #mariumnawaz #karachi #PMShehbazSharif #NawazSharif #AmnestyInternational

Image
 حافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں ... حافظ نعیم الرحمن صاحب سمیت وہ سب لوگ اپنا حافظہ درست کرلیں جو کراچی میں ہونیوالی مردم شماری پر بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے اسے بوگس کہتے ہیں .. اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فگر ھے ۔ کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فگر بالکل صحیح ھیں اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آباد...

پنجابیو کی پنجاب دیاں مانواں بانجھ ھو گئیاں نیں ؟؟؟ کی پورے پاکستان وچ پنجابیاں دے گھر بال جمنے بند ھو گئے نیں ؟؟؟ کی پورے پاکستان وچ پنجابیاں دے گھراں وچ صرف مرگ ھوندی اے ؟؟؟ پنجابیو تہاڈا گونگا پن تہاڈیاں آن والیاں نسلاں دے حق تے مستقبل برباد کر ریا اے ، ہر مردم شماری وی پورے پاکستان دی پنجابی قوم دی آبادی مسلسل منظم تے مربوط سازش راہیں گھٹ کرکے پنجاب دے حق تے مسلسل ڈاکہ ماریا جا ریا اے ، آبادی دے گھٹ ھون دا مطلب اے کہ ؛ قومی اسمبلی وچ پنجابیاں دیا سیٹاں گھٹ ، پنجاب دا قومی دولت وچ حصہ گھٹ ، ملازمتاں وچ حصہ گھٹ ، ترقیاتی فنڈ وچ حصہ گھٹ ہر محکمے ادارے وچ پنجابیاں دا حصہ گھٹ . پنجابیو دوجیاں صوبیاں دے مقابلے وچ پنجاب وچ غربت تے بیروگاری ودھن دی اک وڈی وجہ فراڈ مردم شماری راہیں پنجابیاں دی اصل آبادی نوں کروڑاں دے حساب نال شمار نہ کرکے جعلی طریقے نال گھٹ کرنا اے .. ہوش کرو تے آپنے حقاں دے دفاع لئی ایس حق تلفی خلاف ہر فورم میڈیا سوشل میڈیا گلی محلے مارکیٹاں اسکول یونیورسٹی کالجاں وچ پزور طریقے نال اپنا احتجاج رکارڈ کراؤ ، گلی محلے سڑک سمیت ہر نکر تے بینر پلے کارڈ کندھاں تے ایس ظلم خلاف لکھو ... #PGFInt #PMLN #MaryamNawaz #NawazSharif #ShahbazSharif #ispr #AmnestyInternational

Image
 پنجابیو کی پنجاب دیاں مانواں بانجھ ھو گئیاں نیں ؟؟؟ کی پورے پاکستان وچ پنجابیاں دے گھر بال جمنے بند ھو گئے نیں ؟؟؟ کی پورے پاکستان وچ پنجابیاں دے گھراں وچ صرف مرگ ھوندی اے ؟؟؟ پنجابیو تہاڈا گونگا پن تہاڈیاں آن والیاں نسلاں دے حق تے مستقبل برباد کر ریا اے ، ہر مردم شماری وی پورے پاکستان دی پنجابی قوم دی آبادی مسلسل منظم تے مربوط سازش راہیں گھٹ کرکے پنجاب دے حق تے مسلسل ڈاکہ ماریا جا ریا اے ،  آبادی دے گھٹ ھون دا مطلب اے کہ ؛ قومی اسمبلی وچ پنجابیاں دیا سیٹاں گھٹ ، پنجاب دا قومی دولت وچ حصہ گھٹ ، ملازمتاں وچ حصہ گھٹ ، ترقیاتی فنڈ وچ حصہ گھٹ ہر محکمے ادارے وچ پنجابیاں دا حصہ گھٹ . پنجابیو دوجیاں صوبیاں دے مقابلے وچ پنجاب وچ غربت تے بیروگاری ودھن دی اک وڈی وجہ فراڈ مردم شماری راہیں پنجابیاں دی اصل آبادی نوں کروڑاں دے حساب نال شمار نہ کرکے جعلی طریقے نال گھٹ کرنا اے .. ہوش کرو تے آپنے حقاں دے دفاع لئی ایس حق تلفی خلاف ہر فورم میڈیا سوشل میڈیا گلی محلے مارکیٹاں اسکول یونیورسٹی کالجاں وچ پزور طریقے نال اپنا احتجاج رکارڈ کراؤ ، گلی محلے سڑک سمیت ہر نکر تے بینر پلے کارڈ کندھاں تے ایس ...

پنجابیو ادارہ شماریات تے ناں دی ڈڈو پنجابی اشرافیہ ہر مردم شماری تے پنجاب پنجابی دشمنی دا ثبوت دیندیاں پورے پاکستان دے ہر صوبے خاص کرکے پنجاب وچ پنجابیاں دی ابادی پوری پلاننگ تے منصوبہ بندہ نال مسلسل گھٹ کر دے آ رئے نیں . پنجابیو جے تسیں قومی سیاسی شعور دا مظاہرہ ناں کیتا تے فیر آپنے جائز حق تے وسائل توں کلی طور محروم کر دتے جاؤ گے . پنجاب لاوارث اے پنجاب دے ناں تے سیاست کرن والے پنجاب پنجابی دا ناں صرف اسمبلی وچ جان تے حکومت لین لئی ورت دے نیں پنجاب پنجابی نال ایناں نوں ٹکے دی محبت نئیں . پنجابیو ہوش کرو تے آپنے حقاں تے ہون والے ایس تاریخی ڈاکے خلاف زبان بندی ختم کرکے بولو احتجاج کرکے ہوش مند ھون دا ثبوت دوو ...

Image
 پنجابیو ادارہ شماریات تے ناں دی ڈڈو پنجابی اشرافیہ ہر مردم شماری تے پنجاب پنجابی دشمنی دا ثبوت دیندیاں پورے پاکستان دے ہر صوبے خاص کرکے پنجاب وچ پنجابیاں دی ابادی پوری پلاننگ تے منصوبہ بندہ نال مسلسل گھٹ کر دے آ رئے نیں . پنجابیو جے تسیں قومی سیاسی شعور دا مظاہرہ ناں کیتا تے فیر آپنے جائز حق تے وسائل توں کلی طور محروم کر دتے جاؤ گے . پنجاب لاوارث اے پنجاب دے ناں تے سیاست کرن والے پنجاب پنجابی دا ناں صرف اسمبلی وچ جان تے حکومت لین لئی ورت دے نیں پنجاب پنجابی نال ایناں نوں ٹکے دی محبت نئیں . پنجابیو ہوش کرو تے آپنے حقاں تے ہون والے ایس تاریخی ڈاکے خلاف زبان بندی ختم کرکے بولو احتجاج کرکے ہوش مند ھون دا ثبوت دوو ...

«برادری ، ذاتاں ، پیشہ تے پاکستانیاں دا مخمصہ» «کاسٹ سسٹم اور پاکستانیوں کی کنفیوژن» اچھا تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ ایک "نائی" کو نائی نہیں بلکہ پروفیسر کہا جاتا؟ نہیں یہ ایک سیدھی بات ہے ہند میں یہ پیشے اپنے مقامی زبانوں کے ناموں سے جانے جاتے تھے "جولاہے" کو جولاہا نا کہا جاتا تو کیا ہزاروں سال قبل برصغیر کے لوگ یورپ جاتے اور یورپیوں کی زبان انگریزی سے لفظ "ویور" لے کر آتے؟ اور اپنے دیس میں کپڑا بننے والوں کو جولاہا نہیں بلکہ ویور کہتے؟ موچی جو جوتیاں بناتا ہے اسے آج آپ شُو میکر کہہ سکتے ہیں لیکن مطلب تو دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے، جب باہری قومیں ہندوستان میں آئیں اور ان میں خاص طور پر عرب ، ترک، اور خراسانی ان پیشوں سے بالکل نا واقف تھے کیونکہ انکی سرزمینوں پر پیشوں یا آرٹسٹوں کا ایسا منظم نظام تھا ہی نہیں، انہوں نے ان پیشوں کو باعث حقارت سمجھنا اور پکارنا تک شروع کردیا کیونکہ انکے معاشروں میں اتنے باریک بین پیشوں کا ناتو تصور تھا اور نا ہی انکا کلچر ان پیشوں کا طلبگار تھا ایک ترکھان جو لکڑی کا کام کرتا ہے، ایک لوہار جو لوہے کا کام کرتا ہے، ایک میراثی جو سنگیت کار ہے کو انکے پیشوں سے ہی پکارنا ظلم اور زیادتی کس طور ہوگیا؟ لیکن آپ اتنے بھولے ہیں کہ انگریزی لفظ پیؤن کو تو مہذب سمجھتے ہیں لیکن لفظ چپڑاسی کو گالی سمجھتے ہیں مطلب جو لفظ مقامی زبان میں ان پیشوں کے لیے ہوگا اسے گالی سمجھا جائے گا لیکن اسکے متبادل اگر آپ ترکھان کو عربی کے نجّار لفظ سے پکاریں یا اسکے متبادل انگریزی نام سے پکاریں تو وہ مہذب خیال ہوگا؟ کسی کام کرنے والے کو "کامّا" کہیں تو وہ گالی ہوگی اور اگر اسے "لیبر" یا "مزدور" کہیں تو عین اخلاقی سمجھا جائے گا؟، یہ آپ کی مقامی زبانوں کے مقامی الفاظ اور ان پیشوں کی مقامی اصطلاحوں کے بارے میں مِس کونسیپشن اور حقارت ہے، برادری سے ہٹ کر لے لیں آپ لفظ "سالے" کو گالی کے زُمرے میں کیوں لیتے ہیں؟ یہ لفظ کوئی گالی نہیں بلکہ مقامی ہندوستانی/پنجابی زبانوں کا قدیم لفظ ہے جس کا مطلب بیوی کا بھائی ہے لیکن آپ نے اسے گالی قرار دے دیا جبکہ اسکے متبادل "برادرِ نسبتی" عین اخلاقی قرار پایا کیا یہ مذاق ہے؟ سالا لفظ اگر گالی ہے تو اسکا متبادل بھی کوئی مقامی لفظ ہی ہونا چاہئے تھا اوّل تو عوام کو یہ شعور دینے کی ضرورت تھی کہ مقامی ہندوستانی/پنجابی پیشوں یا رشتوں کی اصطلاحیں حقارت کے طور پر نہیں بلکہ ان پیشوں کے مقامی ناموں پر مبنی ہیں، تیلی، ماچھی، قصائی، بازیگر، چمار یہ سب مختلف پیشوں کے مقامی نام ہیں نہ کہ گالیاں اور جو کوئی جو کام کرتا ہے اسے اس پیشے سے ہی پکارا جاتا ہے یہ ہند نہیں پوری دنیا کا آج تک کا چلن ہے، آپ جدید دنیا میں لوگوں کو انکے پیشے سے ہی پکارتے ہیں ڈاکٹر کو ڈاکٹر ، وکیل کو وکیل ، کئی مرتبہ مجھ سے یہ سوال ہوتا ہے کہ ہندوستان/پنجاب کے ان سب پیشوں کو برادریاں کیوں کہا جاتا ہے جبکہ یہ تو صرف پیشے ہیں، یہاں لوگوں کو ایک بہت بڑی کنفیوژن ہوتی ہے کیونکہ وہ برصغیر کے کاسٹ سسٹم کو صرف معروضی تاثر سے دیکھتے ہیں، برصغیر میں یہ تمام پیشے ہزاروں سال پہلے فارم ہوئے اور انکی ترکیب یوں تھی کہ یہ پیشے "نسل در نسل" چلتے تھے مطلب ترکھان کا بیٹا ترکھان، نائی کا نائی، جولاہے کا بیٹا جولاہا اور کمہار کا بیٹا کمہار ہی بنتا تھا کیونکہ اس وقت معاشرے کی ترکیب اسی طرح کی تھی اس "نسل در نسل" والے نظام کا فائدہ یہ تھا کہ کسی بھی پیشے کی تیاری کے لیے " ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس" یا "یونیورسٹیز" کی ضرورت چنداں نہیں پڑتی تھی دنیا کا سب سے بہترین اور وسیع ترین موسیقی کا علم حاصل کرنے کے لیے کسی کو کسی انسٹیٹیوٹ کی ضرورت نہ تھی یہ علم ہزاروں سال تک ایک جسم سے دوسرے جسم میں نہ صرف منتقل ہوتا گیا بلکہ جینز در جینز ایک ہی پیشے سے منسلک ہونے کی وجہ سے اس برادری کو اس پیشے میں وہ کمال حاصل ہوا جو دنیا میں کہیں بھی موسیقاروں کو آج تک حاصل نہ ہوسکا آج بھی یہ سارا علم بغیر کسی کاغذ کی تحریر پر لکھے ہوئے لاکھوں موسیقار "میراثیوں" کے سینوں میں محفوظ ہے، تو یہ پیشے برادریاں اس لیے ہیں کہ ہزاروں سال کے نسل در نسل ان پیشوں سے منسلکی کی وجہ سے یہ پیشے جو اس دھرتی کی ریڑھ کی ہڈی تھے سے منسلک لوگ "برادری" کے طور پر شمار ہونے لگے اور پلیز یہ بے سرو پاء منطقیں سماپت کریں، سعودی عرب کی آبادی سوا دو کروڑ ہے یعنی سعودی ان سوا دو کروڑ انسانوں میں آپس میں رشتے داریاں کرتے ہیں ان میں مختلف قبیلے مختلف قبیلوں میں رشتے داری نہیں کرتے مطلب وہ سو دو کروڑ لوگ تمام تر تقسیموں کے باوجود کسی غیر عرب بلکہ خاص حالات میں غیر سعودیوں میں بھی شادی نہ کرکے بھی اگر اپنا معاشرہ چلا رہے ہیں تو برصغیر پر آپ کا ٹانٹ کرنا کیونکر بنتا ہے؟ یہاں ہر برادری کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے کئی برادریوں کی تو چار پانچ دس کروڑ سے بھی زیادہ آبادی ہے مطلب کیا سادگی ہے آپکی بھئی برصغیر میں ان برادریوں کی ایک ایک برادری کی آبادی کئی کئی ملکوں سے زیادہ ہے تو اگر وہ اپنی برادری سے باہر شادی نہ بھی کریں تو کیا طوفان آجائے گا؟ کیا کلاس سسٹم آج بھی دنیا میں رائج نہیں؟ کیا نشاط گروپ کے مالکوں نے اپنی تمام رشتے داریاں اپنی ٹیکسٹائل ملّوں کے مزدوروں سے کی ہیں؟ کیا جرنیل اپنی رشتے داریاں یا سیاستدان یا بزنس مین اپنی رشتے داریاں اپنے سے نچلی کلاس میں کرتے ہیں؟ تو یہ بکواس ہی بالکل خرافات کے زمرے میں آتی ہے کہ برصغیر کے لوگ اپنی برادریوں سے باہر رشتے داری کیوں نہیں کرتے تھے، برصغیر کا موازنہ ان اسلامی ملکوں سے کرکے تو دیکھیں؟ یہاں ایک اور بات ذکر کر دوں یہ پیشوں سے منسلک جو برادریاں ہیں ان میں دو طرح کے لوگ تھے ایک وہ جو قدیم دور سے ان قدیم زرعی یا انتظامی پیشوں سے منسلک تھے جیسے ترکھان، جولاہا، موچی، تیلی، ماچھی وغیرہ اور ایک وہ طبقہ جنہوں نے بوجہ غربت ان پیشوں کو دوسری برادریوں سے نکل کر اختیار کیا مطلب ان برادریوں کا نوے فیصد پورشن اصلی قدیمی پیشوں سے منسلک لوگوں پر مبنی تھا اور تقریباً دس سے بیس فیصد زمیندار برادریوں سے نکل کر بوجہ غربت ان پیشوں میں گئے لیکن انکو ان پیشوں میں جانے کے بعد ان پیشوں کی برادری کے طور پر ہی اختیار کرنا پڑا، تو ہند یا برصغیر کا بنیادی وِژڈم یہ تھا کہ اس میں تمام تر انڈسٹری تمام تر فنون لطیفہ تمام تر آرٹسٹک پیشے خودکار طریقے سے ترقی پاتے اور جینز در جینز ان میں ہر لحظہ چمک بڑھتی رہتی ، اچھا ایک سوال کا جواب دیں آج تک پاکستان یا ہندوستان میں غیر موسیقار گھرانوں سے اُس پائے کا کوئی موسیقار پیدا کیوں نہ ہوسکا جیسے موسیقار ان پیشوں سے منسلک گھرانے صدیوں سے پیدا کرتے چلے آرہے ہیں؟ آج آپ کسی راجپوت جٹ یا گجر یا بٹ کو بھی بال کاٹنے کا کام سکھا کر ہئیر سلون پر بٹھا سکتے ہیں لیکن انصاف کریں کہ یہ آج ہے جب سب کُچھ کمرشلائز ہوچکا ہے اُس وقت کا اندازہ لگائیں جب اجرت کرنسی میں نہیں دی جاتی تھی(کیونکہ کرنسی کی ضرورت ہی نا تھی) اور اس آسودہ معاشرے کا اندازہ لگائیں جہاں کسٹمر نائی کے پاس نہیں بلکہ نائی فرداً فرداً کسٹمر کے پاس جاتا تھا اور اسے پیمنٹ شماہی پر دی جاتی تھی مطلب اسکی جاب سیفٹی کا اندازہ لگائیں کیا اسکی جاب سیف نا تھی؟ کیا اسکو اس پیشے پر سوائے ایک کنگھی کینچی اور اُسترے کے کوئی انویسٹمنٹ کرنا پڑتی تھی، اور پلیز ہندوستان کے کاسٹ سسٹم کو حقارت ناک سسٹم کہنا بند کریں ایسا سسٹم عرب و ترک و افغان کسی کے پاس نہ تھا یہاں تک کہ یورپ و روس و چین کو بھی ایسا نظام بنانا نصیب نہ ہوا یہ تو بھلا ہو ماڈرنائزیشن کا جس نے ان تمام تہذیبوں کے ماضی میں پُھدّو ہونے کے تمام ثبوت چھپا لیے، بات نائی کی ہو رہی تھی وہ نائی جو بال کاٹتا تھا ، شادیوں میں کُک ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر معاشرے کے سب سے طاقتور طبقے یعنی حکمران و زمیندار طبقے کی نئی رشتے داریاں اس نائی کے ذریعے انجام پذیر ہوتی تھیں ، اب آپ خود سوچیں اگر نائی کو حقارت سے دیکھا جاتا تھا تو معاشرے کا سب سے طاقتور طبقہ اسے یہ اختیار کیوں دیتا تھا کہ وہ انکی رشتے داریوں کا انٹرمیڈئیٹر بنے؟ نہیں یہ مذاق نہیں ہے پنجاب کا چلن تھا کہ دونوں گھرانے بنفسِ نفیس ایک دوسرے کے متھے نہ لگتے بلکہ نائی کو یہ اختیار دیا جاتا کہ وہ دو گھرانوں کا معاشرتی اور اکنامیکل اور اخلاقی سٹیٹس دیکھ کر انکی رشتے داری کروا دے اسکے بعد میراثی کا کردار شروع ہوتا میراثی لفظ مسلمانوں کے برصغیر میں آنے کے بعد ہند کے قدیم پیشے "بھاٹ" کو مسلم کمیونٹی میں دیا گیا جیسے چمار پیشے کو مسلم سوسائٹی میں موچی لفظ دیا گیا ، میراثی (اصل لفظ بھاٹ) دراصل ہندوؤں کی اپر کلاس کے وہ "جنیالوجسٹ" ہوتے تھے جنکا ہزاروں سال سے نسل در نسل کام ہندوؤں کی اپر کلاس کے شجرے محفوظ کرنا ہوتا تھا، یہ شجرے کسی ایکسل شیٹ کی شکل میں نہیں بلکہ خاص گھرانوں میں شاعری کی شکل میں لکھے جاتے تھے اور جنگجو ہندو قبائل کے ان راجاؤں کی کتھائیں بمع انکے نسل در نسل شجرے کے یہ بھاٹ لکھتے اور ان گھرانوں کی محفلوں میں خاص طور پر شادی بیاہ کے موقعے پر پڑھ کر سناتے اسکے علاوہ شجروں کا ریکارڈ بنا شاعری کے نسل در نسل بھی محفوظ کیا جاتا ، یہاں سے بھاٹ کے متبادل لفظ میراثی مسلم سوسائیٹی میں لفظ میراث سے مشتق ایجاد ہوا یعنی وہ پیشہ جو نسل در نسل کے شجروں کا ریکارڈ رکھنے والا ہو اور اسے پڑھ کر سنانے والا ہوا، بھاٹ ہندو سوسائیٹی میں کوئی ریہند کھوند قسم کے لوگ نہ تھے بلکہ انکی بہت زیادہ اتھارٹی تھی کچھتریہ میں کریوے کی ممانعت کی وجہ سے اگر کوئی کچھتریہ کریوے کا مرتکب ہوتا تو وہ کتنا بڑا راجہ ہی کیوں نا ہوتا اسکا نام شجرے سے نکال دیا جاتا تھا بھاٹوں کی اتھارٹی کا اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ انہیں عین شاہی پروٹوکول دیا جاتا تھا انکو پگڑی پہننا لازم قرار دیا گیا تھا اور یہ پورے ہند کے مذہبی، شاہی، اور بزنس کلاس کے شجروں کے محافظ تھے شادی بیاہ میں بھاٹوں کو اُتم اتھارٹی مانا جاتا تھا شادی سے قبل ہی دونوں اطراف کے بھاٹ دونوں خاندانوں کا شجرہ دُلہا اور دُلہن تک پڑھ کر سناتے اور اگر دونوں طرف سے کسی میں کُچھ کجی ہوتی تو شادی سرانجام نہ دی جاسکتی تھی، آپ کو یہ سن کر حیرانگی ہوگی کہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے قدیم اور طویل شجرے برصغیر کے لوگوں کے پاس ہیں اندازہ لگائیں کہ اس دھرتی ہے کے لوگوں نے اپنے شجروں محفوظ کرنے کی سُوجھت کتنا عرصہ قبل حاصل کرلی ہوگی، بعد میں بھاٹ اور میراثی دو الگ الگ پیشے بن گئے میراثی عمومی لفظ گانے بجانے والے اور بھاٹ خاص جینالوجیسٹ کی سینس میں پنجاب میں استعمال ہونے لگا یاد رہے بھنڈ پیشہ میراثی اور بھاٹ دونوں سے مختلف پیشہ تھا، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ فقط پیشے نہ تھے بلکہ نسل در نسل چلنے والے فنون تھے جو برادریوں کی شکل اختیار کرچکے تھے اور انکو برادری کی سینس میں ہی دیکھا جاتا تھا، خود احساسِ کمتری کا شکار وہ قومیں جنہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اتنے قسم کے آرٹیسین پیشے بھی اس شکل میں بنائے جاسکتے ہیں کہ بنا کسی ایڈیشنل حکومتی ایفرٹ کے وہ خودکار طریقے سے چلتے رہیں ان عربوں ، ترکوں، خراسانیوں، منگولوں نے جب اتنا خوبصورت نظام دیکھا تو شدید احساسِ کمتری نے انہیں آن گھیرا کہ وہ فاتح جن زمینوں سے آئے تھے وہاں ابھی تک عمارت سازی کے بنیادی علوم تک بھی پروان نا چڑھے تھے اور ہند میں سینکڑوں کاموں کے لیے سینکڑوں انتہائی ٹرینڈ پیشے موجود تھے اسی احساسِ کمتری نے انکو یہ جُملہ بار بار ہزار بار اور صدیوں سے آج تک بولتے رہنے پر مجبور کردیا "برصغیر کے لوگ تو ذات برادریوں میں بٹے ہوئے تھے" جبکہ اگر یہ انصاف کرتے تو یہ مطالعہ پاکستان میں یہ کہتے کہ "برصغیر نے اوپن مارکیٹ اور ٹیکینیکل ٹریننگ میں اُس وقت کمال حاصل کرلیا تھا جب دنیا کو ناک پُونجنے کا بھی نہیں پتا تھا" ﹏﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی

Image
 «برادری ، ذاتاں ، پیشہ تے پاکستانیاں دا مخمصہ» «کاسٹ سسٹم اور پاکستانیوں کی کنفیوژن» اچھا تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ ایک "نائی" کو نائی نہیں بلکہ پروفیسر کہا جاتا؟  نہیں یہ ایک سیدھی بات ہے ہند میں یہ پیشے اپنے مقامی زبانوں کے ناموں سے جانے جاتے تھے "جولاہے" کو جولاہا نا کہا جاتا تو کیا ہزاروں سال قبل برصغیر کے لوگ یورپ جاتے اور یورپیوں کی زبان انگریزی سے لفظ "ویور" لے کر آتے؟  اور اپنے دیس میں کپڑا بننے والوں کو جولاہا نہیں بلکہ ویور کہتے؟  موچی جو جوتیاں بناتا ہے اسے آج آپ شُو میکر کہہ سکتے ہیں لیکن مطلب تو دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے، جب باہری قومیں ہندوستان میں آئیں اور ان میں خاص طور پر عرب ، ترک، اور خراسانی ان پیشوں سے بالکل نا واقف تھے کیونکہ انکی سرزمینوں پر پیشوں یا آرٹسٹوں کا ایسا منظم نظام تھا ہی نہیں، انہوں نے ان پیشوں کو باعث حقارت سمجھنا اور پکارنا تک شروع کردیا کیونکہ انکے معاشروں میں اتنے باریک بین پیشوں کا ناتو تصور تھا اور نا ہی انکا کلچر ان پیشوں کا طلبگار تھا  ایک ترکھان جو لکڑی کا کام کرتا ہے،  ایک لوہار جو لوہے کا کام کرتا ہے،  ایک میر...

پنجابی قوم پرست آپنے آپنے پنڈ گلی محلے شہر اسکول کالج یونیورسٹی دکان مارکیٹ فیکٹری سمیت ہر تھاں تے ملن والے آپنے پنجابی بھراواں نوں اے سیاسی شعور دین کہ ؛ الیکشن وچ ووٹ لین لئی آن والے ہر امیدوار کونسلر ایم پی اے تے ایم این اے کولوں سڑکاں گلیاں ٹرانسفارمر گیس دے مطالبے کرن دے نال نال اے مطالبہ وی کرن کہ پنجاب دے سارے تلیمی اداریاں وچ منتظم ہیڈ ماسٹر ، پرنسپل تے وائس چانسلر پنجابی نوں لوان ناں کہ پنجاب دے ڈومیسائل تے پنجابیاں دا حق مارن والے ماں بولی پنجابی دے دشمن یوپی اشرافیہ دے ایجنٹان تے دوجے پنجابی بولی دے دشمناں نوں . پنجاب وچ ماں بولی پنجابی دی بیقدری دے سبھ توں وڈے ذمیوار یوپی اشرافیہ دی اردو مافیا دے ایجنٹ ہیڈماسٹر پرنسپل وائس چانسلر تے ذہنی غلام ڈڈو پنجابی نیں . پنجابیاں وچ قومی سیاسی شعور پیدا کرنا ہر پنجابی قوم پرست دا اولین فرض ہونا چائیدا اے ... #PGFInt

Image
 پنجابی قوم پرست آپنے آپنے پنڈ گلی محلے شہر اسکول کالج یونیورسٹی دکان مارکیٹ فیکٹری سمیت ہر تھاں تے ملن والے آپنے پنجابی بھراواں نوں اے سیاسی شعور دین کہ ؛ الیکشن وچ ووٹ لین لئی آن والے ہر امیدوار کونسلر ایم پی اے تے ایم این اے کولوں سڑکاں گلیاں ٹرانسفارمر گیس دے مطالبے کرن دے نال نال اے مطالبہ وی کرن کہ پنجاب دے سارے تلیمی اداریاں وچ منتظم ہیڈ ماسٹر ، پرنسپل تے وائس چانسلر پنجابی نوں لوان ناں کہ پنجاب دے ڈومیسائل تے پنجابیاں دا حق مارن والے ماں بولی پنجابی دے دشمن یوپی اشرافیہ دے ایجنٹان تے دوجے پنجابی بولی دے دشمناں نوں . پنجاب وچ ماں بولی پنجابی دی بیقدری دے سبھ توں وڈے ذمیوار یوپی اشرافیہ دی اردو مافیا دے ایجنٹ ہیڈماسٹر پرنسپل وائس چانسلر تے ذہنی غلام ڈڈو پنجابی نیں . پنجابیاں وچ قومی سیاسی شعور پیدا کرنا ہر پنجابی قوم پرست دا اولین فرض ہونا چائیدا اے ... #PGFInt