حافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں ... حافظ نعیم الرحمن صاحب سمیت وہ سب لوگ اپنا حافظہ درست کرلیں جو کراچی میں ہونیوالی مردم شماری پر بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے اسے بوگس کہتے ہیں .. اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فگر ھے ۔ کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فگر بالکل صحیح ھیں اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشستوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی سمیت بغض پنجاب پنجابی میں مبتلا لوگوں کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کے تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوئی تھی اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائی اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فارمولہ آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ھے .. لیکن اردو اسپیکنگ اشرافیہ کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے لیکن وہ بغض پنجاب پنجابی میں جس رکارڈ سے انہوں نے یہ پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری لائن جسے انہوں نے بولنا مناسب نہی سمجھا کراچی پنجاب سے باہر پنجابیحافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں حافظ نعیم الرحمن صاحب اپنا حافظہ درست کرلیں کراچی کی آبادی میں اضافے کو بوگس کہنے والے غور فرما لیں اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فیگر ھے ۔ کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فیگر بالکل صحیح ھیں اگر حقیقی طور پر دیکھا جاے پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشیتوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کا تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوی تھی اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائ اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فنومنا آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ زمہ داری سونپی گئ ھے لیکن اردو اسپیکنگ کمیونٹی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے جہاں سے انہوں نے یہ لکھت پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری اپنے بغض پنجاب پنجابی میں یہ بات گول کر دی کہ کراچی پنجاب سے باہر پنجابی بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے حافظ صاحب میں آپ کو بتانا چاھتا ھوں آج آپ کو کراچی کے سندھی ،بلوچ،پشتون یاد آگئے آپ پچاس سال سے کہاں تھے جب کراچی شہر میں سندھی ،بلوچ ،پشتون ،ہزارےوال اور پنجابیوں کا حق صرف ایک قوم کھا رھی تھی ؟؟؟ شہری آبادی کے نام پر مختص تمام نوکریوں میں کوٹہ ،تعلیمی اداروں کا کوٹے پر صرف ایک قوم برجمان رھی آگر آپ کو اس شہر اور اس کے بسنے والوں کی فکر لاحق ھے تو پہلے بتایا جائے کہ اس کا اژالہ کیسے ممکن ھوگا ماضی میں بھی سندھی اور نان سندھی کے نام پر کچھ معاہدے ھوے تھے جو بالخصوص اندرون سندھ کے پنجابیوں کو پیش آنے والے مسائل کی بنا پر طے کئے گئے تھے لیکن نان سندھی کے نام پر تمام مراعات صرف و صرف اردو اسپیکنگ اشرافیہ آج تک ہڑپ کرتی آئی ھے ۔ ھم اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم (جماعت اسلامی ) کو بتانا چاھتے ھیں اب سندھ کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہی ھوگی اس دھرتی کی تمام اقوام پنجابی ،پختون ،بلوچ ہزارے وال سندھ اور پاکستان کی سالمیت کے لئے سندھ دھرتی کے شانہ بہ شانہ کھڑے ھیں ھم بھی دیکھیں گہ لسانیت کا سہارا لے کر یا کوئی مزہبی سہارا لے کر یہ بظاہر مذہبی لیکن اصل لسانی گروہ کیسے کامیاب ھو سکتا ھے ... (مرزا سلیم) #PGFInt #PPP #jamateislamikarachi #BilawalBhuttoZardari #mariumnawaz #karachi #PMShehbazSharif #NawazSharif #AmnestyInternational

 حافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں ...


حافظ نعیم الرحمن صاحب سمیت وہ سب لوگ اپنا حافظہ درست کرلیں جو کراچی میں ہونیوالی مردم شماری پر بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے اسے بوگس کہتے ہیں ..


اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فگر ھے ۔


کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فگر بالکل صحیح ھیں

اگر حقیقی طور پر دیکھا جائے تو پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشستوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی سمیت بغض پنجاب پنجابی میں مبتلا لوگوں کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کے تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوئی تھی

اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائی اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فارمولہ آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ھے ..

لیکن اردو اسپیکنگ اشرافیہ کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے 

لیکن وہ بغض پنجاب پنجابی میں جس رکارڈ سے انہوں نے یہ پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری لائن جسے انہوں نے بولنا مناسب نہی سمجھا کراچی پنجاب سے باہر پنجابیحافظ نعیم الرحمن صاحب سن لیں 


حافظ نعیم الرحمن صاحب اپنا حافظہ درست کرلیں کراچی کی آبادی میں اضافے کو بوگس کہنے والے غور فرما لیں

اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 5000000 پچاس لاکھ بچوں کا اضافہ ھوتا ھے اور تقریباً 1000000 دس لاکھ افراد زندگی کی بازی ھار جاتے ھیں یعنی سالانہ پاکستان کی میں آبادی میں تقریباً چالیس لاکھ کا اضافہ ھو رھا ھے جو کہ تقریباً 2٪بنتا ھے ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی جو سات سال قبل 20000000 بیس کروڑ کے لگ بھگ تھی اب 23000000 کا ہندسہ عبور کر چکی ھے جو سالانہ چالیس لاکھ اضافے کے حساب سے بالکل صحیح فیگر ھے ۔

کراچی کی بات کر لیتے ھیں جس کی آبادی 15300000ایک کروڑ ترپن لاکھ تھی 2٪اضافے کے حساب سے تقریباً 17000000ایک کروڑ ستر لاکھ ھونی چاہیے اور اگر نقل مکانی کر کے آنے والوں کا شمار 100000 مزید کر دیا جاے تو یہ 17100000 ایک کروڑ اکہتر لاکھ تک پہنچ جاتی ھے یعنی مردم شماری کی جانب سے دیئے جانے والے فیگر بالکل صحیح ھیں

اگر حقیقی طور پر دیکھا جاے پچھلی دو دھائیوں سے صوبہ پنجاب کی آبادی مسلسل کم دکھا کر وہاں کی نشیتوں میں کمی کا سلسلہ تواتر سے جاری ھے حالانکہ وہاں کروڑوں کی تعداد میں دو دہائیوں میں پختونوں نے نقل مکانی کی ھے لیکن جماعت اسلامی کو یہ زیادتی کبھی نہ تو نظر آئے گی اور نہ سمجھ آئے گی کیونکہ جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ کا تحفظ کا ایجنڈا لیے کر پاکستان میں داخل ھوی تھی

اصل میں شہری آبادی کا دیہی آبادی سے زیادہ بتا کر صوبائ اور قومی اسمبلی کی دیہی آبادی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا فنومنا آج سے تیس سال پرانا ھے ایم کیو ایم بنانے کا مقصد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم الطاف حسین کی ناکامی کی صورت میں اردو اسپیکنگ کی بی ٹیم جماعت اسلامی کو یہ زمہ داری سونپی گئ ھے 

لیکن اردو اسپیکنگ کمیونٹی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہی ھو سکتا میں حافظ صاحب کو سن رہا تھا کہہ رھے تھے کراچی بلوچ آبادی کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی سندھیوں کا سب سے بڑا شہر ھے ،کراچی ہزارے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے 

لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے جہاں سے انہوں نے یہ لکھت پڑھ کر ارشاد فرمایا ھے اس کی آخری اپنے بغض پنجاب پنجابی میں یہ بات گول کر دی کہ کراچی پنجاب سے باہر پنجابی بولنے والوں کا سب سے بڑا شہر ھے

حافظ صاحب میں آپ کو بتانا چاھتا ھوں آج آپ کو کراچی کے سندھی ،بلوچ،پشتون یاد آگئے آپ پچاس سال سے کہاں تھے جب کراچی شہر میں سندھی ،بلوچ ،پشتون ،ہزارےوال اور پنجابیوں کا حق صرف ایک قوم کھا رھی تھی ؟؟؟ شہری آبادی کے نام پر مختص تمام نوکریوں میں کوٹہ ،تعلیمی اداروں کا کوٹے پر صرف ایک قوم برجمان رھی آگر آپ کو اس شہر اور اس کے بسنے والوں کی فکر لاحق ھے تو پہلے بتایا جائے کہ اس کا اژالہ کیسے ممکن ھوگا ماضی میں بھی سندھی اور نان سندھی کے نام پر کچھ معاہدے ھوے تھے جو بالخصوص اندرون سندھ کے پنجابیوں کو پیش آنے والے مسائل کی بنا پر طے کئے گئے تھے لیکن نان سندھی کے نام پر تمام مراعات صرف و صرف اردو اسپیکنگ اشرافیہ آج تک ہڑپ کرتی آئی ھے ۔

ھم اردو اسپیکنگ اشرافیہ کی بی ٹیم (جماعت اسلامی ) کو بتانا چاھتے ھیں اب سندھ کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہی ھوگی 

اس دھرتی کی تمام اقوام پنجابی ،پختون ،بلوچ ہزارے وال سندھ اور پاکستان کی سالمیت کے لئے سندھ دھرتی کے شانہ بہ شانہ کھڑے ھیں 

ھم بھی دیکھیں گہ لسانیت کا سہارا لے کر یا کوئی مزہبی سہارا لے کر یہ بظاہر مذہبی لیکن اصل لسانی گروہ کیسے کامیاب ھو سکتا ھے ...

(مرزا سلیم)

#PGFInt 

#PPP 

#jamateislamikarachi 

#BilawalBhuttoZardari 

#mariumnawaz 

#karachi

#PMShehbazSharif 

#NawazSharif 

#AmnestyInternational



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int