«اکبر بگٹی نال وقت گزارن والے اک پنجابی دی ڈائری چوں» «ان کا نوحہ کبھی نہیں لکھا جائے گا» نواب محمد اکبر بگٹی کے گھر فاطمہ جناح روڈ کی رات گئے کی محفلیں غضب کی ہوا کرتی تھیں، بلا کے مہمان نواز اور حیران کن حد تک دنیا کے ہر موضوع پر مطالعہ رکھنے والے نواب صاحب سے گفتگو زندگی کا حاصل ہے۔ نواب بگٹی اپنے گھر سے چہل قدمی کرتے ہوئے جناح روڈ پر آتے، بولان میڈیکل ہال انکے دوست نوروزعلی میر کی دکان تھی، کچھ وقت وہاں گزارتے، ساتھ ہی بک لینڈ اور کوئٹہ بک سٹال جاتے، کوئی رسالہ یا کتاب خریدتے اور گھر لوٹ جاتے ،جہاں شام کو انکی محفل میں شہر کے معززین، صحافی، ادیب اور دانشور شریک ہوتے۔ نوروز علی میر سے میری ایک طرح کی عزیز داری تھی تو یوں ایک دن انکی دکان پر میری ان سے ملاقات ہو گئی میرے نام پر ان کی شدید حیرت سے میرے ساتھ انکے تعلق کا آغاز ہوا اور آخری وقت تک قائم رہا۔ شروع شروع میں نواب صاحب کبھی کبھی پنجاب کے حوالے سے بات شروع کرتے تو مجھے مخاطب کر کے کہتے "تم پنجابیوں نے" ایسا کیا۔ ایک دن انہوں نے بلوچستان میں تعینات پنجابی پولیس افسران کے بارے میں کہا کہ؛ یہ تمہارے پنجابی پولیس والے یہاں کے سادہ لوح بلوچوں اور پشتونوں پر ظلم کرتے ہیں میں نے کہا آپ نے کبھی ان پنجابی پولیس والوں کو پنجابیوں پر ظلم کرتے نہیں دیکھا، وہاں تو یہ انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گر جاتے ہیں۔نواب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مونچھوں کو درست کیا اور میری تائید کردی۔ لیکن ہمارے تعلقات میں گرم جوشی اس دن پیدا ہوئی جب ایک دن اسی طرح ان سے پنجابیوں کے بارے میں بحث ہورہی تھی تو میں نے کہا کہ؛ نواب صاحب، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ اگر مجھے اپنے پیدا ہونے پر اختیار ہوتا تو میں ایک غریب اکاؤنٹنٹ پنجابی کے گھر نہیں کم از کم کسی تیل کے کنوئیں کے مالک عرب کے گھر پیدا ہوتا اور آپ بھی ڈیرہ بگٹی کے ویرانے میں کسی سردار کے گھر پیدا ہونے کی بجائے نسل در نسل بادشاہت والے برطانوی شاہی خاندان میں پیدا ہونے کو ترجیح دیتے چونکہ رنگ، نسل، زبان اور قبیلے برادری کا مجھے اختیار ہی نہیں تھا تو میں اس پر طعنہ کیوں دوں اور کیوں سنوں انہوں نے خوب قہقہہ لگایا اور اس دن سے اپنی شہادت تک نواب صاحب نے میرے ساتھ کبھی بھی بحیثیت مجموعی کسی نسل، رنگ اور زبان کے بارے میں بات طنزا بھی گفتگو نہیں کی یہ الگ بات ہے کہ انکے پاس پاکستان کے ہر بڑے رہنما کے خاندانی پس منظر کے بارے میں لچھے دار کہانیاں موجودہ تھیں جو وہ مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ 1971ء تک مشرقی پاکستان میں گالی پنجابی کو نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی مغربی پاکستان کی تمام قومیتوں کو دی جاتی تھی کیونکہ اس دور میں نفرت کا یہی سکہ رائج الوقت تھا۔ لیکن 1971ء کے بعدنفرت کا سودا بیچنے والے قوم پرست سیاستدانوں ، کیمونسٹ نما سیکولر دانشوروں اور ادیبوں نے کسی کو تو ہدف بنا کر مظلومیت کا کارڈ کھیلنا تھا ، اس لیے پنجابیوں کو استحصالی، غاصب اور قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ؛ پاکستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کے "فیشن" کا آغاز بلوچستان کے سیاحتی مقام پیر غائب میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے 2005ء میں قتل عام سے ہوا یہ بیچارے چھوٹے ملازمین جن کی تین نسلیں وہاں پر رہ چکی تھیں، اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ پنجابی تھے۔ اسکے بعد بلوچستان کی شاہراہوں پر یہ معمول بن گیا کہ بس روک کر شناختی کارڈ دیکھے جاتے اور پنجابیوں کو لائن میں کھڑا کر کے قتل کر دیا جاتا کسی جگہ کوئی مزدوری کر رہا ہوتا، مستری، نائی، ترکھان، موچی، نانبائی یا صفائی کرنے والا پنجابی بھی نظر آتا تو اس کو قتل کر کے استحصال کے خاتمے کا پرچم بلند کیا جانے لگا۔ گذشتہ بیس پچیس برس میں اگر پاکستان کے کس علاقے میں وہاں کے رہنے والوں نے خوف کی وجہ سے ہجرت کی ہے تو وہ صرف اور صرف کوئٹہ ہے جہاں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ پنجابی اپنا کاروبار، گھر بار اور نوکریاں چھوڑ کر اس لیے ہجرت کر گئے کہ انہیں کسی ریاستی ادارے کے ایکشن یا آپریشن نے ہجرت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس لئے یہ شہر چھوڑ گئے ،کیونکہ وہاں کے رہنے والے لوگ کہیں انہیں مار نہ دیں، وہ لوگ جن کے ساتھ انکی کئی نسلیں ہنستی کھیلتی پروان چڑھیں ہیں یہ لوگ کون تھے ،مزدور اور غریب پیشہ یہاں تک کہ غربت سے تنگ آئے ہوئے پنجابیوں نے اگر ایران کے راستے یورپ ہجرت کی کوشش کی تو انکے قافلے بلوچستان کے شہروں تفتان اور تمپ کے قریب روک کر قتل کردیئے گئے۔ یہ وہ "قابل نفرت پنجابی" تھے جن کے پنجاب سے روزانہ کوئٹہ، سبی، لورالائی، ڈیرہ بگٹی سے روانہ ہونیوالی کئی سو بسیں لاہور ، گوجرانوالہ ،گجرات ،اسلام آباد سے گزرتی ہیں بلکہ پشاور گلگت تک جاتی ہیں اور پھر واپس بے خوف اطمینان کے ساتھ بلوچستان واپس پہنچتی ہیں۔ روزانہ ہزاروں بلوچ ، پشتون ، براہوی ان بسوں میں سفر کرتے ہیں اس پنجاب کے ہر شہر میں آپ کو آزادانہ طور پر بلوچ، پشتون اور سندھی کاروبار کرتے نظر آئیں گے۔ بلوچ سجی اور شنواری ہوٹل کی ہزاروں دکانیں پنجاب میں کسی خوف کے بغیر کاروبار کر رہی ہیں لیکن کیا تربت، گوادر، خضدار، پشین، لورالائی، مستونگ میں کوئی پنجابی مرغ چھولے یا پنجابی حلیم،یا پنجابی دال چاول کا بورڈ لگا کر ایک ریڑھی بھی لگا سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ اسلئے کہ اسے چاروں طرف پھیلا خوف کبھی ایسا نہیں کرنے دے گا کیا جتنے بلوچ اور پشتون طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں اور جس طرح وہ تنظیم بنا کر رہتے ہیں، اس تعداد کا صرف ایک فیصد پنجابی کوئٹہ اور خضدار کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جا سکتا ہے؟؟ اور اگر چلا بھی جائے تو کیا وہ وہاں پنجابی سٹوڈنٹس کے نام پر کوئی تنظیم قائم کر کے زندہ اپنے گھر واپس آسکتا ہے؟؟ لاہور کے قدیم والڈ سٹی میں اسوقت چالیس فیصد پشتون آباد ہوچکے ہیں اٹک سے رحیم یار خان تک پشتون اور بلوچ بھائیوں کے ٹرک اور ٹینکر بلاخوف روزانہ سفر کرتے ہیں وہ پنجاب میں کسی ڈر کے بغیر گڈز فاروڈنگ ایجنسی کا دفتر کھولتے ہیں راولپنڈی کے رابی سنٹر سے لاہور کے اوریگا سنٹر تک کپڑوں کا کاروبار صرف پشتونوں کے پاس ہے۔ اس سب کے باوجود یہ پنجابی بلوچستان میں خصوصا اور باقی صوبوں میں عموما بحیثیت قوم گالی بنا دیے گئے ہیں۔ ایسی گالی کہ کوسٹل ہائی ویز پر اگر بس روک کر نیوی اور ایئر فورس کے ملازمین کو بھی چن کر قتل کرنا مقصود ہو تو ان میں سے صرف پنجابیوں کو چنا جائے گا۔ پنجابی کے خلاف اس نفرت کی تاریخ زیادہ طویل نہیں آپ ان تمام قوم پرست پارٹیوں کے رہنماؤں کی تقریریں اٹھا لیں آپکو قابل نفرت اگر کوئی قوم ملے گی تو پنجابی، آپ پاکستان کے سیکولر جو پہلے کیمونسٹ ہوا کرتے تھے انکے مضامین، کتابیں اور گفتگو اٹھا لیں آپ کوان تحریروں میں اگر گوادر سے گلگت تک کوئی ایک استحصالی قوم بحیثیت مجموعی ملے گی تو وہ ھے پنجابی۔ قوم پرست سیاست اور پاکستان کی وحدت سے نفرت کرنے والے ادیب، دانشور، صحافی اور کالم نگار خواہ پنجابی ہی کیوں نہ ہوں انکا کھانا اسوقت تک ہضم نہیں ہوتا جب تک پنجابیوں کو بحیثیت قوم ظالم، آمر، استحصالی اور متعصب ثابت نہ کر دیں۔ انکا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا یہ کبھی مظلوم نہیں کہلائیں گے۔ 😢😥 Copied

 «اکبر بگٹی نال وقت گزارن والے اک پنجابی دی ڈائری چوں» 

             


             «ان کا نوحہ کبھی نہیں لکھا جائے گا»


نواب محمد اکبر بگٹی کے گھر فاطمہ جناح روڈ کی رات گئے کی محفلیں غضب کی ہوا کرتی تھیں، بلا کے مہمان نواز اور حیران کن حد تک دنیا کے ہر موضوع پر مطالعہ رکھنے والے نواب صاحب سے گفتگو زندگی کا حاصل ہے۔ 

نواب بگٹی اپنے گھر سے چہل قدمی کرتے ہوئے جناح روڈ پر آتے، بولان میڈیکل ہال انکے دوست نوروزعلی میر کی دکان تھی، کچھ وقت وہاں گزارتے، ساتھ ہی بک لینڈ اور کوئٹہ بک سٹال جاتے، کوئی رسالہ یا کتاب خریدتے اور گھر لوٹ جاتے ،جہاں شام کو انکی محفل میں شہر کے معززین، صحافی، ادیب اور دانشور شریک ہوتے۔ نوروز علی میر سے میری ایک طرح کی عزیز داری تھی تو یوں ایک دن انکی دکان پر میری ان سے ملاقات ہو گئی میرے نام پر ان کی شدید حیرت سے میرے ساتھ انکے تعلق کا آغاز ہوا اور آخری وقت تک قائم رہا۔ 

شروع شروع میں نواب صاحب کبھی کبھی پنجاب کے حوالے سے بات شروع کرتے تو مجھے مخاطب کر کے کہتے "تم پنجابیوں نے" ایسا کیا۔ 

ایک دن انہوں نے بلوچستان میں تعینات پنجابی پولیس افسران کے بارے میں کہا کہ؛ 

یہ تمہارے پنجابی پولیس والے یہاں کے سادہ لوح بلوچوں اور پشتونوں پر ظلم کرتے ہیں میں نے کہا آپ نے کبھی ان پنجابی پولیس والوں کو پنجابیوں پر ظلم کرتے نہیں دیکھا، وہاں تو یہ انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گر جاتے ہیں۔نواب صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مونچھوں کو درست کیا اور میری تائید کردی۔ 

لیکن ہمارے تعلقات میں گرم جوشی اس دن پیدا ہوئی جب ایک دن اسی طرح ان سے پنجابیوں کے بارے میں بحث ہورہی تھی تو میں نے کہا کہ؛ 

نواب صاحب، معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ اگر مجھے اپنے پیدا ہونے پر اختیار ہوتا تو میں ایک غریب اکاؤنٹنٹ پنجابی کے گھر نہیں کم از کم کسی تیل کے کنوئیں کے مالک عرب کے گھر پیدا ہوتا اور آپ بھی ڈیرہ بگٹی کے ویرانے میں کسی سردار کے گھر پیدا ہونے کی بجائے نسل در نسل بادشاہت والے برطانوی شاہی خاندان میں پیدا ہونے کو ترجیح دیتے چونکہ رنگ، نسل، زبان اور قبیلے برادری کا مجھے اختیار ہی نہیں تھا تو میں اس پر طعنہ کیوں دوں اور کیوں سنوں انہوں نے خوب قہقہہ لگایا اور اس دن سے اپنی شہادت تک نواب صاحب نے میرے ساتھ کبھی بھی بحیثیت مجموعی کسی نسل، رنگ اور زبان کے بارے میں بات طنزا بھی گفتگو نہیں کی یہ الگ بات ہے کہ انکے پاس پاکستان کے ہر بڑے رہنما کے خاندانی پس منظر کے بارے میں لچھے دار کہانیاں موجودہ تھیں جو وہ مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ 

1971ء تک مشرقی پاکستان میں گالی پنجابی کو نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی مغربی پاکستان کی تمام قومیتوں کو دی جاتی تھی کیونکہ اس دور میں نفرت کا یہی سکہ رائج الوقت تھا۔ 

لیکن 1971ء کے بعدنفرت کا سودا بیچنے والے قوم پرست سیاستدانوں ، کیمونسٹ نما سیکولر دانشوروں اور ادیبوں نے کسی کو تو ہدف بنا کر مظلومیت کا کارڈ کھیلنا تھا ، اس لیے پنجابیوں کو استحصالی، غاصب اور قابل نفرت بنا کر پیش کیا گیا۔ 

یہی وجہ ہے کہ؛ 

پاکستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کے "فیشن" کا آغاز بلوچستان کے سیاحتی مقام پیر غائب میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے 2005ء میں قتل عام سے ہوا یہ بیچارے چھوٹے ملازمین جن کی تین نسلیں وہاں پر رہ چکی تھیں، اس لیے قتل کر دیے گئے کہ وہ پنجابی تھے۔ اسکے بعد بلوچستان کی شاہراہوں پر یہ معمول بن گیا کہ بس روک کر شناختی کارڈ دیکھے جاتے اور پنجابیوں کو لائن میں کھڑا کر کے قتل کر دیا جاتا کسی جگہ کوئی مزدوری کر رہا ہوتا، مستری، نائی، ترکھان، موچی، نانبائی یا صفائی کرنے والا پنجابی بھی نظر آتا تو اس کو قتل کر کے استحصال کے خاتمے کا پرچم بلند کیا جانے لگا۔ 

گذشتہ بیس پچیس برس میں اگر پاکستان کے کس علاقے میں وہاں کے رہنے والوں نے خوف کی وجہ سے ہجرت کی ہے تو وہ صرف اور صرف کوئٹہ ہے جہاں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ پنجابی اپنا کاروبار، گھر بار اور نوکریاں چھوڑ کر اس لیے ہجرت کر گئے کہ انہیں کسی ریاستی ادارے کے ایکشن یا آپریشن نے ہجرت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس لئے یہ شہر چھوڑ گئے ،کیونکہ وہاں کے رہنے والے لوگ کہیں انہیں مار نہ دیں، وہ لوگ جن کے ساتھ انکی کئی نسلیں ہنستی کھیلتی پروان چڑھیں ہیں یہ لوگ کون تھے ،مزدور اور غریب پیشہ یہاں تک کہ غربت سے تنگ آئے ہوئے پنجابیوں نے اگر ایران کے راستے یورپ ہجرت کی کوشش کی تو انکے قافلے بلوچستان کے شہروں تفتان اور تمپ کے قریب روک کر قتل کردیئے گئے۔ 

یہ وہ "قابل نفرت پنجابی" تھے جن کے پنجاب سے روزانہ کوئٹہ، سبی، لورالائی، ڈیرہ بگٹی سے روانہ ہونیوالی کئی سو بسیں لاہور ، گوجرانوالہ ،گجرات ،اسلام آباد سے گزرتی ہیں بلکہ پشاور گلگت تک جاتی ہیں اور پھر واپس بے خوف اطمینان کے ساتھ بلوچستان واپس پہنچتی ہیں۔

روزانہ ہزاروں بلوچ ، پشتون ، براہوی ان بسوں میں سفر کرتے ہیں اس پنجاب کے ہر شہر میں آپ کو آزادانہ طور پر بلوچ، پشتون اور سندھی کاروبار کرتے نظر آئیں گے۔ بلوچ سجی اور شنواری ہوٹل کی ہزاروں دکانیں پنجاب میں کسی خوف کے بغیر کاروبار کر رہی ہیں لیکن کیا تربت، گوادر، خضدار، پشین، لورالائی، مستونگ میں کوئی پنجابی مرغ چھولے یا پنجابی حلیم،یا پنجابی دال چاول کا بورڈ لگا کر ایک ریڑھی بھی لگا سکتا ہے؟

نہیں ہر گز نہیں۔ 

اسلئے کہ اسے چاروں طرف پھیلا خوف کبھی ایسا نہیں کرنے دے گا کیا جتنے بلوچ اور پشتون طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں اور جس طرح وہ تنظیم بنا کر رہتے ہیں، اس تعداد کا صرف ایک فیصد پنجابی کوئٹہ اور خضدار کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جا سکتا ہے؟؟

اور اگر چلا بھی جائے تو کیا وہ وہاں پنجابی سٹوڈنٹس کے نام پر کوئی تنظیم قائم کر کے زندہ اپنے گھر واپس آسکتا ہے؟؟

لاہور کے قدیم والڈ سٹی میں اسوقت چالیس فیصد پشتون آباد ہوچکے ہیں اٹک سے رحیم یار خان تک پشتون اور بلوچ بھائیوں کے ٹرک اور ٹینکر بلاخوف روزانہ سفر کرتے ہیں وہ پنجاب میں کسی ڈر کے بغیر گڈز فاروڈنگ ایجنسی کا دفتر کھولتے ہیں راولپنڈی کے رابی سنٹر سے لاہور کے اوریگا سنٹر تک کپڑوں کا کاروبار صرف پشتونوں کے پاس ہے۔

اس سب کے باوجود یہ پنجابی بلوچستان میں خصوصا اور باقی صوبوں میں عموما بحیثیت قوم گالی بنا دیے گئے ہیں۔ ایسی گالی کہ کوسٹل ہائی ویز پر اگر بس روک کر نیوی اور ایئر فورس کے ملازمین کو بھی چن کر قتل کرنا مقصود ہو تو ان میں سے صرف پنجابیوں کو چنا جائے گا۔ 

پنجابی کے خلاف اس نفرت کی تاریخ زیادہ طویل نہیں آپ ان تمام قوم پرست پارٹیوں کے رہنماؤں کی تقریریں اٹھا لیں آپکو قابل نفرت اگر کوئی قوم ملے گی تو پنجابی، 

آپ پاکستان کے سیکولر جو پہلے کیمونسٹ ہوا کرتے تھے انکے مضامین، کتابیں اور گفتگو اٹھا لیں آپ کوان تحریروں میں اگر گوادر سے گلگت تک کوئی ایک استحصالی قوم بحیثیت مجموعی ملے گی تو وہ ھے پنجابی۔ 

قوم پرست سیاست اور پاکستان کی وحدت سے نفرت کرنے والے ادیب، دانشور، صحافی اور کالم نگار خواہ پنجابی ہی کیوں نہ ہوں انکا کھانا اسوقت تک ہضم نہیں ہوتا جب تک پنجابیوں کو بحیثیت قوم ظالم، آمر، استحصالی اور متعصب ثابت نہ کر دیں۔

انکا نوحہ کوئی نہیں لکھے گا یہ کبھی مظلوم نہیں کہلائیں گے۔ 😢😥



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int