پاکستان کے استحکام اور امن کیلئے "پنجابی اسٹیبلشمنٹ" کا پنجابی قوم پرستوں کو سپورٹ کرنا کیوں ضروری ھے؟؟؟ پاکستان کی 60% آبادی پنجابی قوم کی ھے۔ (کشمیری ' ھندکو ' ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)۔ جبکہ 40% آبادی سماٹ ' براھوئی ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر قوم کی ھے۔ پاکستان کی تمام 12 قومیں پاکستان بھر میں ایک دوسرے کے ساتھ رھتی ھیں اس لیے پاکستان میں کسی علاقے کو بھی کسی خاص قوم کا راجواڑہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ پاکستان کو انتظامی معاملات کے لیے صوبوں ' ڈویژنوں ' ضلعوں ' تحصیلوں ' یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ھے۔ پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھیں۔ لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نژاد ' کرد نژاد ' اور یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' گجراتی ' راجستھانی کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نژاد "آزاد پختونستان" ' کرد نژاد "آزاد بلوچستان" ' یوپی ‘ سی پی کے ھندی/ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر "جناح پور" کی سازشیں کرتے اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھوا جہاں یہ افغانی نژاد ' کرد نژاد ' اور یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ مطلب یہ کہ پاکستان کی فوج کا آپریشن پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ:سندھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں ھوا بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نژاد ' کرد نژاد ' یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھوا۔ دراصل پاکستان کے قائم ھونے کے بعد سے افغانی نژادوں کو غفار خان ' کرد نژادوں کو خیر بخش مری ' 1972 سے کرد نژاد سندھیوں اور عرب نژاد سندھیوں کو جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والوں کو الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی" کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی ھندی/اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نژاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے براھوئی علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کرد نژاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور وسطی پنجاب کی افغانی نژاد اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ؛ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں ، الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے تاکہ؛ 1۔ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ 2۔ دوسرا ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' گجراتی ' راجستھانی پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ 3۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک بھارت کی "سیاسی پراکسی" کے ذریعے پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے بھارت کی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔ بھارت تو عرصہ دراز سے پاکستان میں "جسمانی دھشت گردی" کے علاوہ "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" میں بھی ملوث ھے۔ اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی" کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لیے آپریشن کیا لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ھیں؟؟؟ پاکستان کی اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کے عربی نژادوں کی آبادی کم ھونے کی وجہ سے انہیں پاکستان کی وفاقی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ میں اھمیت حاصل نہیں ھے جبکہ کرد نژاد ایک تو بلوچستان کے علاوہ دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں بھی بکھرے ھوئے ھیں دوسرا ان کی چھوٹی چھوٹی علاقائی اور قوم پرست سیاسی پارٹیاں ھونے کی وجہ سے کرد نژادوں کو پاکستان کی وفاقی سیاست میں فیصلہ سازی کرنے کے لیے سیاسی طاقت حاصل نہیں ھے تیسرا کرد نژادوں میں تعلیمی قابلیت و صلاحیت کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں بلوچوں کا اثر و رسوخ نہیں ھے لیکن ھندوستانی مھاجروں اور افغان نژادوں کی پاکستان کی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ پر بھرپور گرفت ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی بڑی پارٹی MQM ھے اور افغان نژادوں کی پارٹیاں ANPاور PTI ہیں۔ جبکہ پنجابیوں میں قومی سیاسی شعور کے فقدان کی وجہ سے ان کی کوئی سیاسی جماعت یا پارٹی نہیں PMLN کو پنجاب کی پارٹی کہا جاتا ھے لیکن عملی اور حقیقی طور پر وہ بھی پنجابی کی نمائندگی نہیں کرتی. ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ MQM اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹANPاور PTI کو سپورٹ کرتی ھے۔ ن لیگ PMLN کے قائد نواز شریف کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل کرنا چاھیے تھی لیکن قومی سیاسی شعور سے نابلد ن لیگی قیادت نے افغان نژادوں کی پارٹیوںANP اور PTI اور ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM سے مقابلے کیلئے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی ھونے کا احساس نہ دلوا کر ؛ 1۔ ایک تو ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ 2۔ دوسرا پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے بھی محروم ھونا پڑا۔ اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے بغیر PMLN اب کیا کرسکتی ھے؟ جبکہ PMLN کی مخالف پارٹیوں MQM کو ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ اور ANP/ PTI کو افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ھے۔ نواز شریف کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی ھونے کا احساس نہ دلوانے کی وجہ چونکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ صرف الزام کی حد تک ھی وجود رکھتی ھے ، جبکہ PMLN میں ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM اور افغان نژادوں کی پارٹیوںANPاور PTI کے ساتھ سیاسی مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ھے اس لیے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو اب پنجابی بن کر سوچنا اور پنجابی قوم پرستوں کو سپورٹ کرنا چاھیے۔ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ ملنے سے پنجابی قوم پرست افغان نژادوں کی پارٹیوںANP، PTI اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ جبکہ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM اور مھاجر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مقابلہ کرکے پاکستان کو سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات سے نکال کر اقتصادی طور پر خوشحال اور عوامی طور پر مستحکم ملک بنا سکتے ہیں ۔ سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کو بھی چاھیے کہ؛ "پی این ایف" کے طرز پر اپنی اپنی قوم کا فورم تشکیل دیں۔ تاکہ "پی این ایف" کی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد 2023 میں "پاکستان نیشنلسٹ فورم" تشکیل دیا جاسکے۔ پنجابیوں نے پاکستان میں پیار و محبت ' امن و آشتی کا ماحول بنانا ھے اس لیے پنجابی قوم پرست سماٹ سندھی ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے ساتھ بہترین سماجی و سیاسی مراسم رکھتے ھیں انکے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ھیں انہیں عزت و احترام دیتے ھیں۔ انکی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ھیں ان کے ساتھ تعاون کرتے ھیں۔ پنجابی قوم پرست پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ استعمال کرکے پنجابیوں کی تذلیل و توھین کرنے والوں کی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں۔ غفار خان ، خیر بخش مری، جی ایم سید ، الطاف حسین کے پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف بنائے گئے "انٹلیکچوؤل وار گیم" والے "بیانیہ" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں اور "آزاد پشتونستان" ' "آزاد بلوچستان" ' "آزاد سندھو دیش" ' "آزاد جناح پور" کی "سازش" کرنے والوں کی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں ، پنجاب کے جنوبی علاقوں میں کرد نژاد ' افغان نژاد اور عربی نژادوں کی "سرائیکی سازش" والی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں ، خیبر پختونخوا ' بلوچستان ' سندھ ' کراچی میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی حقوق کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" کر رھے ہیں ، پنجابی قوم کی سماجی عزت اور معاشی خوشحالی ' پنجاب کی انتظامی بہتری اور اقتصادی ترقی کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" لڑ رھے ہیں ، سماٹ سندھی' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کی بھی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' سیاسی استحکام ' انتظامی بالادستی کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" لڑ رھے ہیں . اس لئے گزشتہ پچھتر سالوں کی پنجابی فوج پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی بیوروکریسی کی طعنہ زنی اور ملک کے جڑیں کھوکھلی کرنے کیلئے ھونے والی سازشوں کا سدباب کرنے کیلئے پنجابی کو پنجابی بن کے دکھانا وقت کی اھم ضرورت ھے .. #PGFInt

 پاکستان کے استحکام اور امن کیلئے "پنجابی اسٹیبلشمنٹ" کا پنجابی قوم پرستوں کو سپورٹ کرنا کیوں ضروری ھے؟؟؟


پاکستان کی 60% آبادی پنجابی قوم کی ھے۔ (کشمیری ' ھندکو ' ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)۔ جبکہ 40% آبادی سماٹ ' براھوئی ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر قوم کی ھے۔ 

پاکستان کی تمام 12 قومیں پاکستان بھر میں ایک دوسرے کے ساتھ رھتی ھیں اس لیے پاکستان میں کسی علاقے کو بھی کسی خاص قوم کا راجواڑہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

البتہ پاکستان کو انتظامی معاملات کے لیے صوبوں ' ڈویژنوں ' ضلعوں ' تحصیلوں ' یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ھے۔


پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھیں۔ 

لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نژاد ' کرد نژاد ' اور یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' گجراتی ' راجستھانی کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔ 


پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نژاد "آزاد پختونستان" ' کرد نژاد "آزاد بلوچستان" ' یوپی ‘ سی پی کے ھندی/ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر "جناح پور" کی سازشیں کرتے اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ 

پاکستان کی فوج کا آپریشن بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھوا جہاں یہ افغانی نژاد ' کرد نژاد ' اور یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ 


مطلب یہ کہ پاکستان کی فوج کا آپریشن پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ:سندھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں ھوا بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نژاد ' کرد نژاد ' یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھوا۔


دراصل پاکستان کے قائم ھونے کے بعد سے افغانی نژادوں کو غفار خان ' کرد نژادوں کو خیر بخش مری ' 

1972 سے کرد نژاد سندھیوں اور عرب نژاد سندھیوں کو جی - ایم سید ' 

1986 سے یوپی ‘ سی پی کے ھندی/اردو بولنے والوں کو الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی" کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ 


اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی ھندی/اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نژاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے براھوئی علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کرد نژاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور وسطی پنجاب کی افغانی نژاد اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ؛ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں ، الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے تاکہ؛ 


1۔ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ 


2۔ دوسرا ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ سندھی ' گجراتی ' راجستھانی پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ 


3۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ 


لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک بھارت کی "سیاسی پراکسی" کے ذریعے پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ 

جبکہ انتظامی اقدامات سے بھارت کی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔


بھارت تو عرصہ دراز سے پاکستان میں "جسمانی دھشت گردی" کے علاوہ "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" میں بھی ملوث ھے۔ 

اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ 

پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی" کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لیے آپریشن کیا لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ھیں؟؟؟


پاکستان کی اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛ 

سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کے عربی نژادوں کی آبادی کم ھونے کی وجہ سے انہیں پاکستان کی وفاقی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ میں اھمیت حاصل نہیں ھے جبکہ کرد نژاد ایک تو بلوچستان کے علاوہ دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں بھی بکھرے ھوئے ھیں دوسرا ان کی چھوٹی چھوٹی علاقائی اور قوم پرست سیاسی پارٹیاں ھونے کی وجہ سے کرد نژادوں کو پاکستان کی وفاقی سیاست میں فیصلہ سازی کرنے کے لیے سیاسی طاقت حاصل نہیں ھے تیسرا کرد نژادوں میں تعلیمی قابلیت و صلاحیت کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں بلوچوں کا اثر و رسوخ نہیں ھے لیکن ھندوستانی مھاجروں اور افغان نژادوں کی پاکستان کی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ پر بھرپور گرفت ھے۔


ھندوستانی مھاجروں کی بڑی پارٹی MQM ھے اور افغان نژادوں کی پارٹیاں ANPاور PTI ہیں۔ 

جبکہ پنجابیوں میں قومی سیاسی شعور کے فقدان کی وجہ سے ان کی کوئی سیاسی جماعت یا پارٹی نہیں PMLN کو پنجاب کی پارٹی کہا جاتا ھے لیکن عملی اور حقیقی طور پر وہ بھی پنجابی کی نمائندگی نہیں کرتی.  

ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ MQM اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹANPاور PTI کو سپورٹ کرتی ھے۔ 

ن لیگ PMLN کے قائد نواز شریف کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل کرنا چاھیے تھی لیکن قومی سیاسی شعور سے نابلد ن لیگی قیادت نے افغان نژادوں کی پارٹیوںANP اور PTI اور ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM سے مقابلے کیلئے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی ھونے کا احساس نہ دلوا کر ؛


1۔ ایک تو ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔


2۔ دوسرا پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے بھی محروم ھونا پڑا۔ 


اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے بغیر PMLN اب کیا کرسکتی ھے؟ 

جبکہ PMLN کی مخالف پارٹیوں MQM کو ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ اور ANP/ PTI کو افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ھے۔


نواز شریف کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی ھونے کا احساس نہ دلوانے کی وجہ چونکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ صرف الزام کی حد تک ھی وجود رکھتی ھے ، 

جبکہ PMLN میں ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM اور افغان نژادوں کی پارٹیوںANPاور PTI کے ساتھ سیاسی مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ھے اس لیے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو اب پنجابی بن کر سوچنا اور پنجابی قوم پرستوں کو سپورٹ کرنا چاھیے۔ 

پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ ملنے سے پنجابی قوم پرست افغان نژادوں کی پارٹیوںANP، PTI اور افغان نژاد اسٹیبلشمنٹ جبکہ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی MQM اور مھاجر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مقابلہ کرکے پاکستان کو سماجی انتشار ' سیاسی عدمِ استحکام ' انتظامی بحران ' معاشی مشکلات سے نکال کر اقتصادی طور پر خوشحال اور عوامی طور پر مستحکم ملک بنا سکتے ہیں ۔


سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کو بھی چاھیے کہ؛ "پی این ایف" کے طرز پر اپنی اپنی قوم کا فورم تشکیل دیں۔ تاکہ "پی این ایف" کی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد 2023 میں "پاکستان نیشنلسٹ فورم" تشکیل دیا جاسکے۔


پنجابیوں نے پاکستان میں پیار و محبت ' امن و آشتی کا ماحول بنانا ھے اس لیے پنجابی قوم پرست سماٹ سندھی ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے ساتھ بہترین سماجی و سیاسی مراسم رکھتے ھیں انکے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ھیں انہیں عزت و احترام دیتے ھیں۔ انکی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ھیں ان کے ساتھ تعاون کرتے ھیں۔


پنجابی قوم پرست پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ استعمال کرکے پنجابیوں کی تذلیل و توھین کرنے والوں کی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں۔

غفار خان ، خیر بخش مری، جی ایم سید ، الطاف حسین کے پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف بنائے گئے "انٹلیکچوؤل وار گیم" والے "بیانیہ" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں اور "آزاد پشتونستان" ' "آزاد بلوچستان" ' "آزاد سندھو دیش" ' "آزاد جناح پور" کی "سازش" کرنے والوں کی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں ، پنجاب کے جنوبی علاقوں میں کرد نژاد ' افغان نژاد اور عربی نژادوں کی "سرائیکی سازش" والی "انٹلیکچوؤل وار گیم" کا علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے مقابلہ کر رھے ہیں ،

خیبر پختونخوا ' بلوچستان ' سندھ ' کراچی میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی حقوق کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" کر رھے ہیں ، پنجابی قوم کی سماجی عزت اور معاشی خوشحالی ' پنجاب کی انتظامی بہتری اور اقتصادی ترقی کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" لڑ رھے ہیں ، سماٹ سندھی' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کی بھی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' سیاسی استحکام ' انتظامی بالادستی کے لیے علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کرکے "انٹلیکچوؤل وار گیم" لڑ رھے ہیں .

اس لئے گزشتہ پچھتر سالوں کی پنجابی فوج پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی بیوروکریسی کی طعنہ زنی اور ملک کے جڑیں کھوکھلی کرنے کیلئے ھونے والی سازشوں کا سدباب کرنے کیلئے پنجابی کو پنجابی بن کے دکھانا وقت کی اھم ضرورت ھے ..

#PGFInt


Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int