ایاز لطیف پلیجو صاحب سے چند سوال ؟؟؟ جنھیں آپ زبردستی سن آف سوائل کا تمغہ دے رھے ہیں کیا انھوں نے پچھلے پچھتر سال میں سندھ کو اپنی دھرتی سمجھا ؟؟ کیا سندھ کی زبان اور ثقافت کو اپنایا ؟؟ کیا سندھ میں علیحدہ شناخت کی بجائے خود کو سندھی کہلوایا ؟؟؟ کیا سندھ کے وارثوں کو اپنے اکثریتی علاقوں میں اپنے بھائی سمجھا ؟؟ سندھ میں مہاجر کے نام سے سیاست اور علاقوں پر تسلط کیا انھیں سن آف سوائل ثابت کرتا ھے ؟؟ پلیجو صاحب سندھ میں رہنے والے پنجابی بولنے والے سندھیوں کو آپ کا مسلسل نظرانداز کرنا ، پنجاب کی تقسیم کیلئے جعلی شناخت کی بھرپور حمایت کرنا کیا سندھ دھرتی کی خدمت ھے ؟؟؟ کیا اردو بولنے والوں کے ہاتھوں پنجابیوں کے ساتھ ساتھ سندھیوں کی بوریوں میں بند لاشیں ، علاقہ بدری ، املاک پر قبضے ، عزتوں کی پامالی سن آف سوائل کا تمغے کا حقدار بناتی ھے ؟؟ #PGFInt پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل

 ایاز لطیف پلیجو صاحب سے چند سوال ؟؟؟

جنھیں آپ زبردستی سن آف سوائل کا تمغہ دے رھے ہیں کیا انھوں نے پچھلے پچھتر سال میں سندھ کو اپنی دھرتی سمجھا ؟؟

کیا سندھ کی زبان اور ثقافت کو اپنایا ؟؟

کیا سندھ میں علیحدہ شناخت کی بجائے خود کو سندھی کہلوایا ؟؟؟

کیا سندھ کے وارثوں کو اپنے اکثریتی علاقوں میں اپنے بھائی سمجھا ؟؟

سندھ میں مہاجر کے نام سے سیاست اور علاقوں پر تسلط کیا انھیں سن آف سوائل ثابت کرتا ھے ؟؟

پلیجو صاحب سندھ میں رہنے والے پنجابی بولنے والے سندھیوں کو آپ کا مسلسل نظرانداز کرنا ، پنجاب کی تقسیم کیلئے جعلی شناخت کی بھرپور حمایت کرنا کیا سندھ دھرتی کی خدمت ھے ؟؟؟

کیا اردو بولنے والوں کے ہاتھوں پنجابیوں کے ساتھ ساتھ سندھیوں کی بوریوں میں بند لاشیں ، علاقہ بدری ، املاک پر قبضے ، عزتوں کی پامالی سن آف سوائل کا تمغے کا حقدار بناتی ھے ؟؟

#PGFInt

پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل



Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )