پنجاب کی تقسیم کی سازش کے پیچھے ٹارگٹ دراصل سندھ کی تقسیم ھے ؟؟؟ پنجاب کی تقسیم کیلئے سرگرم ایکٹرز کو اگر بغور اسٹڈی کریں تو یہ بات واضح ھوتی ھے کہ پنجاب کی تقسیم کا اصل ٹارگٹ سندھ ھے ، پنجابی اور سندھی سپت سندھو کی بڑی قومیں ھیں پاکستان کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ راز کھلتا ھے کہ سپت سندھو کی دھرتی پر بنے پاکستان میں سپت سندھو کے اصل وارثوں پنجابی ، سندھی ، براہوی سمیت نو قوموں کو محکوم رکھنے کیلئے انگریز اور اسکے وظیفہ خور غیر زمین زاد غلاموں نے پاکستان بننے سے پہلے ھی پیش بندی کر لی تھی پنجاب سندھ بلوچستان میں انگریز سے جاگیریں خلعتیں اور وظیفہ لینے والے لوگوں کی اکثریت غیرزمین زاد تھی. جاگیرداری ، وڈیرہ شاہی مخدوم شاہی کو بھی انگریز نے اس خطے کے اصل زمین زادوں کو محکوم رکھنے کیلئے پروان چڑھایا ، اس دھرتی کے غداروں کی فہرست میں بھی غیرزمین زاد بڑی تعداد میں ملیں گے اور آج تک پاکستان میں براہ راست یا بالواسطہ حکومت کرنے والوں کی اکثریت کی ڈوریاں کسی نہ کسی طور انگریز کی غلاموں غیر زمین زادوں سے جڑی ملیں گی ، اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کے قیام سے آج تک کردار دھرتی کے اصل وارثوں کو تقسیم کرنے، دبا کر رکھنے ، غریب تر رکھنے اور محکوم رکھنے میں بری طرح ملوث نظر آتا ھے . پنجاب کی تقسیم بات ھو یا سندھ کی تقسیم کی اسٹیبلشمنٹ کا دست و بازو بننے کی تاریخ رکھنے والے ھی سرگرم نظر آئیں گے ، ۱۹۵۲ سے ۱۹۷۰ تک معاشی نقل مکانی کرنے والے گنگا جمنا تہذیب والے پنجاب سندھ کی تقسیم میں واضح طور پر سرگرم ھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی طاقت پشتون اور بلوچ اشرافیہ بھی کھل کر اس کھیل میں سامنے ھے سندھ میں اپنے مفادات کی وجہ سے بلوچ اشرافیہ سندھ کی حد تک کھل کر سامنے نہیں لیکن سندھ کی تقسیم کی خاموش حمایتی ضرور ھے ، سندھ کے شمالی علاقوں کے سرائی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے لولی پاپ کی وجہ سے سندھ کی تقسیم کی کھل کر مخالفت نہیں کریں گے بلکہ درپردہ حمایت کریں گے . پنجاب سندھ کی تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان سپت سندھو کی دھرتی کا ھوگا ، غیر زمین زاد سپت سندھو کی وحدت کو پہلے ھی گہرے گھاؤ لگا چکے اب اس دھرتی پر اپنا تسلط پکا کرنے کیلئے اسے کاٹ کر اصل زمین زاد اکثریت کو مستقل غلامی میں دھکیلنا چاھتے ھیں . سندھ کے اصل باشندے سماٹ ھیں۔ سماٹ سندھیوں کی آبادی 42٪ سندھ میں مہاجر 19٪ بلوچ نژاد سندھی 16٪ ' سید و عربی نزاد سندھی 2٪ پنجابی نژاد سندھی 10٪ پشتون7٪ دیگر4٪ ھیں. سماٹ سندھی سندھ کی اکثریت ھے لیکن اس کے باوجود سندھ میں سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی بالادستی 42٪ سماٹ کی نہیں ھے۔ سندھ کے دیہی علاقوں پر 16٪ بلوچ اور 2٪ سید و عربی نژاد کا سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی تسلط ھے۔ جبکہ سندھ کے شھری علاقوں پر 19٪ یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی تسلط ھے۔ سندھ کے پنجابی ' بلوچ نژاد اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بعد سندھ کے دیہی شھری علاقوں بڑی آبادی ھیں۔ سندھ کے پنجابی کا سپت سندھو کے رشتے اور دھرتی کی وجہ سے سماٹ کے ساتھ ھمدردی محبت اور جھکاؤ دوسری کسی قوم کی نسبت زیادہ ھے ، سندھ کے پنجابی کی سندھ دھرتی سے محبت سندھ کو سرسبز کرنے ، سندھ کے کسی بھی علاقے میں پنجابی قوم کے نام سے کسی بھی طرح کی بالادستی کیلئے کسی بھی قسم کے عمل سے دوری کسی بھی قسم کے تسلط سے دوری ھے جبکہ باقی قوموں کے سندھ پر قبضے تسلط اور حاکمیت کیلئے مہاجر پشتون اور بلوچ نام سے سیاست ڈھکی چھپی نہیں ، کراچی پر پچھلے چند سالوں میں افغانی پشتونوں کی یلغار سندھ کی تمام بڑی شاہراہوں موٹر وے پر پشتونوں کی قبضہ گیری سندھ کی تقسیم میں اپنا حصہ مضبوط کرنے کیلئے عملی قدم ھے . اگر سپت سندھو کے اصل وارثوں پنجابی سندھی (سماٹ) ، براہوی سمیت نو ۹ قوموں نے اپنی دھرتی کی وارثی کیلئے اتحاد نہ کیا تو اسٹیبلشمنٹ اپنے وفاداروں کے ذریعے انھیں اپنا مستقل محکوم بنانے میں کامیاب ھو جائے گی اور پنجاب سندھ بلوچستان میں اصل وارث اکثریت میں ھونے کے باوجود اپنی آنے والی نسلیں محکوم بنا دیں گے بلکہ اپنی دھرتی کے کئی ٹکڑے بھی کروا لیں گے .. #PGFInt *پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

 پنجاب کی تقسیم کی سازش کے پیچھے ٹارگٹ دراصل سندھ کی تقسیم ھے ؟؟؟

پنجاب کی تقسیم کیلئے سرگرم ایکٹرز کو اگر بغور اسٹڈی کریں تو یہ بات واضح ھوتی ھے کہ پنجاب کی تقسیم کا اصل ٹارگٹ سندھ ھے ، پنجابی اور سندھی سپت سندھو کی بڑی قومیں ھیں پاکستان کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ راز کھلتا ھے کہ سپت سندھو کی دھرتی پر بنے پاکستان میں سپت سندھو کے اصل وارثوں پنجابی ، سندھی ، براہوی سمیت نو قوموں کو محکوم رکھنے کیلئے انگریز اور اسکے وظیفہ خور غیر زمین زاد غلاموں نے پاکستان بننے سے پہلے ھی پیش بندی کر لی تھی پنجاب سندھ بلوچستان میں انگریز سے جاگیریں خلعتیں اور وظیفہ لینے والے لوگوں کی اکثریت غیرزمین زاد تھی. 

جاگیرداری ، وڈیرہ شاہی مخدوم شاہی کو بھی انگریز نے اس خطے کے اصل زمین زادوں کو محکوم رکھنے کیلئے پروان چڑھایا ، اس دھرتی کے غداروں کی فہرست میں بھی غیرزمین زاد بڑی تعداد میں ملیں گے اور آج تک پاکستان میں براہ راست یا بالواسطہ حکومت کرنے والوں کی اکثریت کی ڈوریاں کسی نہ کسی طور انگریز کی غلاموں غیر زمین زادوں سے جڑی ملیں گی ، 

اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کے قیام سے آج تک کردار دھرتی کے اصل وارثوں کو تقسیم کرنے، دبا کر رکھنے ، غریب تر رکھنے اور محکوم رکھنے میں بری طرح ملوث نظر آتا ھے .

پنجاب کی تقسیم بات ھو یا سندھ کی تقسیم کی اسٹیبلشمنٹ کا دست و بازو بننے کی تاریخ رکھنے والے ھی سرگرم نظر آئیں گے ، ۱۹۵۲ سے ۱۹۷۰ تک معاشی نقل مکانی کرنے والے گنگا جمنا تہذیب والے پنجاب سندھ کی تقسیم میں واضح طور پر سرگرم ھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی طاقت پشتون اور بلوچ اشرافیہ بھی کھل کر اس کھیل میں سامنے ھے سندھ میں اپنے مفادات کی وجہ سے بلوچ اشرافیہ سندھ کی حد تک کھل کر سامنے نہیں لیکن سندھ کی تقسیم کی خاموش حمایتی ضرور ھے ، سندھ کے شمالی علاقوں کے سرائی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے لولی پاپ کی وجہ سے سندھ کی تقسیم کی کھل کر مخالفت نہیں کریں گے بلکہ درپردہ حمایت کریں گے .

پنجاب سندھ کی تقسیم سے سب سے زیادہ نقصان سپت سندھو کی دھرتی کا ھوگا ، غیر زمین زاد سپت سندھو کی وحدت کو پہلے ھی گہرے گھاؤ لگا چکے اب اس دھرتی پر اپنا تسلط پکا کرنے کیلئے اسے کاٹ کر اصل زمین زاد اکثریت کو مستقل غلامی میں دھکیلنا چاھتے ھیں .


سندھ کے اصل باشندے سماٹ ھیں۔ 

سماٹ سندھیوں کی آبادی 42٪

سندھ میں مہاجر 19٪  

بلوچ نژاد سندھی 16٪ ' 

سید و عربی نزاد سندھی 2٪ 

پنجابی نژاد سندھی 10٪  

پشتون7٪ 

دیگر4٪ ھیں.

سماٹ سندھی سندھ کی اکثریت ھے لیکن اس کے باوجود سندھ میں سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی بالادستی 42٪ سماٹ کی نہیں ھے۔ 

سندھ کے دیہی علاقوں پر 16٪ بلوچ اور 2٪ سید و عربی نژاد کا سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی تسلط ھے۔ 

جبکہ سندھ کے شھری علاقوں پر 19٪ یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی تسلط ھے۔


  سندھ کے پنجابی ' بلوچ نژاد اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بعد سندھ کے دیہی شھری علاقوں بڑی آبادی ھیں۔

سندھ کے پنجابی کا سپت سندھو کے رشتے اور دھرتی کی وجہ سے سماٹ کے ساتھ ھمدردی محبت اور جھکاؤ دوسری کسی قوم کی نسبت زیادہ ھے ، سندھ کے پنجابی کی سندھ دھرتی سے محبت سندھ کو سرسبز کرنے ، سندھ کے کسی بھی علاقے میں پنجابی قوم کے نام سے کسی بھی طرح کی بالادستی کیلئے کسی بھی قسم کے عمل سے دوری کسی بھی قسم کے تسلط سے دوری ھے جبکہ باقی قوموں کے سندھ پر قبضے تسلط اور حاکمیت کیلئے مہاجر پشتون اور بلوچ نام سے سیاست ڈھکی چھپی نہیں ، کراچی پر پچھلے چند سالوں میں افغانی پشتونوں کی یلغار سندھ کی تمام بڑی شاہراہوں موٹر وے پر پشتونوں کی قبضہ گیری سندھ کی تقسیم میں اپنا حصہ مضبوط کرنے کیلئے عملی قدم ھے .

اگر سپت سندھو کے اصل وارثوں پنجابی سندھی (سماٹ) ، براہوی سمیت نو ۹ قوموں نے اپنی دھرتی کی وارثی کیلئے اتحاد نہ کیا تو اسٹیبلشمنٹ اپنے وفاداروں کے ذریعے انھیں اپنا مستقل محکوم بنانے میں کامیاب ھو جائے گی اور پنجاب سندھ بلوچستان میں اصل وارث اکثریت میں ھونے کے باوجود اپنی آنے والی نسلیں محکوم بنا دیں گے بلکہ اپنی دھرتی کے کئی ٹکڑے بھی کروا لیں گے ..

#PGFInt

*پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*


Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int