جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیر...
صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوراَ نافذ کرنے کا حکم دیا ھوا ھے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا ھے کہ: 1۔ اس سے پہلے بھی ھم آرٹیکل 251 کے مندرجات کی اھمیت کی طرف توجہ دلوا چکے ھیں اور سرکاری امور میں قومی زبان اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی اھمیت کو اجاگر کرچکے ھیں۔ 2۔ عدالت نے مشاہدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ' پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ 3۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ' ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔ 4۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ' اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔ 5۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور ...
(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پن...
Comments
Post a Comment