پاکستانی دو بڑی قوموں پنجابی اور سندھی پر کس کی بالادستی/ حکمرانی ھے؟؟؟ پاکستان کی تشکیل، بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد سے آج تک اقتدار و اختیار پر غلبہ یو پی سی پی اور پشتون اشرافیہ کا رہا. بھٹو کے بعد بننے والی سویلین حکومت کیلئے سندھی وزیراعظم بے نظیر بھٹو 1988 میں منتخب ھوئیں لیکن 1990 میں پاکستان کے پشتون اشرافیہ کے نمائندے صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی اسوقت پاکستان کی فوج کا سربراہ یوپی سی پی اشرافیہ کا نمائندہ جنرل اسلم بیگ تھا بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد پنجابی نواز شریف پہلی بار 1990 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1993 میں ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی پر پوری طرح قابض پشتون اشرافیہ کے مہرے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت ختم کردی اسوقت پاکستان کی فوج کا سربراہ پشتون جنرل عبدالوحید کاکڑ تھااور بینظیر کی پیپلز پارٹی ان کا مہرہ بنی ۔ سندھی بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993 میں پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ھوئیں لیکن 1997 میں پاکستان کے بلوچ سردار صدر فاروق لغاری نے اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی پر قابض پشتون اور یوپی سی پی اشرافیہ کے ساتھ مل کر بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی جس میں نواز شریف بوجوہ مہرہ بنا اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ ککے زئی پشتون جنرل جہانگیر کرامت تھا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد نواز شریف دوسری بار 1997 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1999 میں پاکستان کی فوج کے سربراہ یوپی سی پی اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف نے پنجابی نواز شریف کی حکومت ختم کرکے خود پاکستان کی حکومت پر بطور فوجی ڈکٹیٹر قبضہ کیا جو 2008 تک رہا۔ یو پی سی پی اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کے دور میں سندھی بے نظیر بھٹو اور پنجابی نواز شریف کو پاکستان سے باھر رھنا پڑا جو کہ باری باری اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے مہرے بن چکے تھے حالات سے سبق سیکھتے ھوئے بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے جمہوریت کی بقاء کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے، 2007 میں عام انتخابات کا اعلان ھونے کی وجہ سے بینظیر بھٹو نے مھاجر جنرل پرویز مشرف کی خواھش کے خلاف پاکستان پہنچ کر انتخابی مہہم شروع کردی, 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بینظیر قاتلانہ حملے میں قتل ھو گئیں جس کا الزام پاکستان کے آمر حکمراں مھاجر جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے شوھر بلوچ سردار/ فیوڈل آصف زرداری پر لگا .. پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے اور دوسری بڑی قوم سندھی ھے لیکن اس وقت بھی، پاکستان کاصدر یو پی سی پی اشرافیہ سے ھے پاکستان کا وزیر اعظم پشتون اشرافیہ سے ھے پاکستان کی سینٹ کا چیئرمین بلوچ فیوڈل ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا اسپیکر پشتون اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کی سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین یو پی سی پی اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر پشتون اشرافیہ سے ھے۔ حتی کہ پنجاب کا وزیر اعلی تک بلوچ فیوڈل ھے۔ یو پی سی پی اشرافیہ ( ھندوستانی مہاجر) ' پٹھان اور بلوچ اپنی اشرافیہ اور فیوڈلز کے بیانیہ پر چلتے ھوئے پھر بھی پنجابیوں کو گالیاں اور الزام لگانے سے باز نہیں آتے ہر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کی رٹ لگائے رکھتے ھیں اور شور مچاتے رھتے ھیں کہ؛ پاکستان پر پنجابیوں کی حکمرانی ھے۔ پنجاب ان کے وسائل پر پلتا ھے۔ پنجابی ان کو حقوق نہیں دیتے۔ اس پروپیگنڈہ کا پنجابی قوم کی طرف سے جواب نہیں دیا جاتا اسی لیے پاکستان کی دوسری قومیں بھی ھندوستانی مھاجر ' پشتون اور بلوچ فیوڈلز و اشرافیہ کے پروپیگنڈہ کو درست تسلیم کرکے پنجابیوں سے بدظن رھتی ھیں۔ سندھی در اصل سماٹ ھیں پاکستان کی سب سے بڑی آبادی پنجابی ھے ، جبکہ دوسری بڑی آبادی سماٹ ھے براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر دیگر قومیں ھیں جو پاکستان میں رہتی ھیں پاکستان کی آبادی میں سے 15٪ آبادی کی پشتون اشرافیہ ' بلوچ فیوڈلز ' ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سندھی پر اپنی مکاری' عیاری اور بدمعاشی کے ذریعے بالادستی قائم کی ھوئی ھے تو پھر پاکستان کی باقی 85% آبادی میں سے براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کا کیا حال ھوگا؟؟؟ کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کے ھونے کی وجہ سے پاکستان کا صدر ' وزیر اعظم ' سینٹ کا چیئرمین ' قومی اسمبلی کا اسپیکر ' سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین ' قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر ' پنجاب کا وزیر اعلی ' سندھ کا وزیر اعلیٰ پنجابی اور سماٹ نہیں ھونے چاھئیں؟؟؟ کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کو پاکستان کی صنعت ' تجارت ' ذراٰعت ' ھنرمندی کے پیشوں ' سیاست ' صحافت ' سول سروسز ' ملٹری سروسز کے شعبوں اور بڑے بڑے شھروں میں چھایا ھوا نظر نہیں آنا چاھیے؟؟؟ پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ جب 15% کی مکاری عیاری اور بدمعاشی سے نجات حاصل نہیں کر پا رھیں تو پھر براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کس طرح ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کے تسلط سے نجات حاصل کر سکیں گے؟؟؟ پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ میں سیاسی شعور پیدا نہ ھونے تک پاکستان میں سماجی و سیاسی استحکام اور انتظامی و اقتصادی بہتری نہیں آسکتی کیونکہ؛ 1۔ نہ ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کی بالادستی اور بلیک میلنگ سے پنجابی اور سماٹ کو نجات حاصل ھو سکتی ھے 2۔ نہ براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو ھندوستانی اشرافیہ اور بلوچ پشتون اشرافیہ فیوڈلز کے ظلم اور جبر سے نجات ملنی ھے۔ 3. اور نہ ھی غریب ھندوستانی مہاجروں ، غریب پٹھانوں اور غریب بلوچوں کی غربت اور پسماندگی کم ھونی ھے کیونکہ یو پی سی پی، پشتون اور بلوچ اشرافیہ اور فیوڈلز مفاد پرست ھیں اور مفاد پرست کی کوئی قوم طبقہ فرقہ مذہب نہیں ھوتا یہ اپنی قوموں کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے قربانی کا بکرا بناتے ،مرواتے اور گرفتار کرواتے رہتے ھیں . جب تک اکثریت کو اس کا حق اقتدار و اختیار نہیں ملتا اقلیت بھی پستی ھی رھے گی اور مفاد پرست اشرافیہ اور فیوڈلز انہیں لڑاتے اور حکومت کرتے رھیں گے ... «افضل پنجابی » *پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int*

 پاکستانی دو بڑی قوموں پنجابی اور سندھی پر کس کی بالادستی/ حکمرانی ھے؟؟؟


پاکستان کی تشکیل، بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد سے آج تک اقتدار و اختیار پر غلبہ یو پی سی پی اور پشتون اشرافیہ کا رہا. 

بھٹو کے بعد بننے والی سویلین حکومت کیلئے سندھی وزیراعظم بے نظیر بھٹو 1988 میں منتخب ھوئیں لیکن 1990 میں پاکستان کے پشتون اشرافیہ کے نمائندے صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی اسوقت پاکستان کی فوج کا سربراہ یوپی سی پی اشرافیہ کا نمائندہ جنرل اسلم بیگ تھا بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد پنجابی نواز شریف پہلی بار 1990 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1993 میں ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی پر پوری طرح قابض پشتون اشرافیہ کے مہرے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت ختم کردی اسوقت پاکستان کی فوج کا سربراہ پشتون جنرل عبدالوحید کاکڑ تھااور بینظیر کی پیپلز پارٹی ان کا مہرہ بنی ۔


سندھی بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993 میں پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ھوئیں لیکن 1997 میں پاکستان کے بلوچ سردار صدر فاروق لغاری نے اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی پر قابض پشتون اور یوپی سی پی اشرافیہ کے ساتھ مل کر بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی جس میں نواز شریف بوجوہ مہرہ بنا اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ ککے زئی پشتون جنرل جہانگیر کرامت تھا۔ 

بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد نواز شریف دوسری بار 1997 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1999 میں پاکستان کی فوج کے سربراہ یوپی سی پی اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف نے پنجابی نواز شریف کی حکومت ختم کرکے خود پاکستان کی حکومت پر بطور فوجی ڈکٹیٹر قبضہ کیا جو 2008 تک رہا۔


یو پی سی پی اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کے دور میں سندھی بے نظیر بھٹو اور پنجابی نواز شریف کو پاکستان سے باھر رھنا پڑا جو کہ باری باری اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے مہرے بن چکے تھے حالات سے سبق سیکھتے ھوئے بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے جمہوریت کی بقاء کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے،

2007 میں عام انتخابات کا اعلان ھونے کی وجہ سے بینظیر بھٹو نے مھاجر جنرل پرویز مشرف کی خواھش کے خلاف پاکستان پہنچ کر انتخابی مہہم شروع کردی, 

27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بینظیر قاتلانہ حملے میں قتل ھو گئیں جس کا الزام پاکستان کے آمر حکمراں مھاجر جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے شوھر بلوچ سردار/ فیوڈل آصف زرداری پر لگا ..


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے اور دوسری بڑی قوم سندھی ھے لیکن اس وقت بھی، 

پاکستان کاصدر یو پی سی پی اشرافیہ سے ھے 

پاکستان کا وزیر اعظم پشتون اشرافیہ سے ھے

پاکستان کی سینٹ کا چیئرمین بلوچ فیوڈل ھے۔ 

پاکستان کی قومی اسمبلی کا اسپیکر پشتون اشرافیہ سے ھے۔ 

پاکستان کی سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین یو پی سی پی اشرافیہ سے ھے۔ 

پاکستان کی قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر پشتون اشرافیہ سے ھے۔ 

حتی کہ پنجاب کا وزیر اعلی تک بلوچ فیوڈل ھے۔


یو پی سی پی اشرافیہ ( ھندوستانی مہاجر) ' پٹھان اور بلوچ اپنی اشرافیہ اور فیوڈلز کے بیانیہ پر چلتے ھوئے پھر بھی پنجابیوں کو گالیاں اور الزام لگانے سے باز نہیں آتے ہر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کی رٹ لگائے رکھتے ھیں اور شور مچاتے رھتے ھیں کہ؛ 

پاکستان پر پنجابیوں کی حکمرانی ھے۔ 

پنجاب ان کے وسائل پر پلتا ھے۔ 

پنجابی ان کو حقوق نہیں دیتے۔ 

اس پروپیگنڈہ کا پنجابی قوم کی طرف سے جواب نہیں دیا جاتا اسی لیے پاکستان کی دوسری قومیں بھی ھندوستانی مھاجر ' پشتون اور بلوچ فیوڈلز و اشرافیہ کے پروپیگنڈہ کو درست تسلیم کرکے پنجابیوں سے بدظن رھتی ھیں۔


سندھی در اصل سماٹ ھیں پاکستان کی سب سے بڑی آبادی پنجابی ھے ، جبکہ دوسری بڑی آبادی سماٹ ھے

 براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر دیگر قومیں ھیں جو پاکستان میں رہتی ھیں


پاکستان کی آبادی میں سے 15٪ آبادی کی پشتون اشرافیہ ' بلوچ فیوڈلز ' ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سندھی پر اپنی مکاری' عیاری اور بدمعاشی کے ذریعے بالادستی قائم کی ھوئی ھے تو پھر پاکستان کی باقی 85% آبادی میں سے براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کا کیا حال ھوگا؟؟؟


کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کے ھونے کی وجہ سے پاکستان کا صدر ' وزیر اعظم ' سینٹ کا چیئرمین ' قومی اسمبلی کا اسپیکر ' سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین ' قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر ' پنجاب کا وزیر اعلی ' سندھ کا وزیر اعلیٰ پنجابی اور سماٹ نہیں ھونے چاھئیں؟؟؟


کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کو پاکستان کی صنعت ' تجارت ' ذراٰعت ' ھنرمندی کے پیشوں ' سیاست ' صحافت ' سول سروسز ' ملٹری سروسز کے شعبوں اور بڑے بڑے شھروں میں چھایا ھوا نظر نہیں آنا چاھیے؟؟؟


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ جب 15% کی مکاری عیاری اور بدمعاشی سے نجات حاصل نہیں کر پا رھیں تو پھر براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کس طرح ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کے تسلط سے نجات حاصل کر سکیں گے؟؟؟


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ میں سیاسی شعور پیدا نہ ھونے تک پاکستان میں سماجی و سیاسی استحکام اور انتظامی و اقتصادی بہتری نہیں آسکتی کیونکہ؛


۔ نہ ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کی بالادستی اور بلیک میلنگ سے پنجابی اور سماٹ کو نجات حاصل ھو سکتی ھے


۔ نہ براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو ھندوستانی اشرافیہ اور بلوچ پشتون اشرافیہ فیوڈلز کے ظلم اور جبر سے نجات ملنی ھے۔


. اور نہ ھی غریب ھندوستانی مہاجروں ، غریب پٹھانوں اور غریب بلوچوں کی غربت اور پسماندگی کم ھونی ھے 


کیونکہ یو پی سی پی، پشتون اور بلوچ اشرافیہ اور فیوڈلز مفاد پرست ھیں اور مفاد پرست کی کوئی قوم طبقہ فرقہ مذہب نہیں ھوتا یہ اپنی قوموں کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے قربانی کا بکرا بناتے ،مرواتے اور گرفتار کرواتے رہتے ھیں .

جب تک اکثریت کو اس کا حق اقتدار و اختیار نہیں ملتا اقلیت بھی پستی ھی رھے گی اور مفاد پرست اشرافیہ اور فیوڈلز انہیں لڑاتے اور حکومت کرتے رھیں گے ...


«افضل پنجابی »

*پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int