انڈیا اور پاکستان کے درمیان ھونے والا "سندھ طاس معاھدہ" کیا ھے ؟؟؟ برطانوی حکام نے 1909ء میں پنجاب کو برصغیر کے لیے "زرعی علاقہ" بنانے کے لیے "سندھ طاس کا منصوبہ" بنایا تاکہ ایک دریا کے پانی کو دوسرے دریا تک پہنچایا جائے۔ جہلم کو ایک نہر کے ذریعہ چناب سے ملا دیا گیا۔ پنجند اور معاون دریاؤں پر بہت سے بند اور بیراج باندھے گئے جو سیلاب کے وقت پانی کا ذخیرہ کرلیتے تھے۔ اس طرح سیلابوں پر کسی حد تک قابوں پایا گیا اور ان میں جمع شدہ پانی کو سردیوں کے خشک موسم میں استعمال کیا جانے لگا۔ 1932ء میں دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر پہلا بیراج تعمیر کیا گیا اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی کے نظام نے کام کرنا شروع کر دیا۔ برٹش انڈیا کی تقسیم سے کچھ عرصہ پہلے کالا باغ کے مقام پر دوسرا بیراج تعمیر کیا گیا۔ 1947ء تک برطانوی انجینئر سندھ طاس کو دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی کا نظام مہیا کرچکے تھے اور انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا اسے دنیا میں ھر جگہ نہروں کی تعمیر اور ان کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ھے۔ تقریباً پچاس سال تک طاقتور دریاؤں کو قابو میں رکھنے اور لگام ڈالنے کا کام ایک مکمل وحدت کے طور پر انجام دیا جاتا رھا۔ مگر 1947ء میں پنجاب کی تقسیم کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ سیرل کلف اس کمیشن کا چیئرمین تھا ، جسے پنجاب تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی سیرل کلف نے پنجاب کی تقسیم کے وقت نہروں اور دریاؤں کو کنٹرول کرنے کے نظام کی اھمیت پوری طرح دونوں فریقوں پر واضح کردی اور تجویز پیش کی کہ دونوں ملک ایک معاھدہ کر لیں کہ وہ اس سارے نظام کو ایک اکائی کی طرح چلائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کے رھنما ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے انہوں نے یہ تجویز رد کردی قائد اعظم اور لیاقت علی خان شاید جانتے تھے یا اس منصوبے کا حصہ تھے کہ کشمیر کو پاکستان میں شامل نہیں کیا جائے گا اس لیے پاکستان کو بھارت کے رحم و کرم پر رھنا پڑے گا جبکہ پنڈت نہرو کو یہ یقین دلایا گیا یا امید تھی کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کے باوجود وھاں کا ھندو راجا بھارت میں شامل ھوگا جبکہ لیاقت علی خان کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کے بجائے حیدرآباد دکن کو پاکستان میں شامل کرنے کو ترجیج دے گا لیکن لیاقت علی خان نے کشمیر حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ سب گنوا دئیے ، کشمیر کے بھارت میں شامل ھونے کی صورت میں دریاؤں پر بھارت کی بالادستی قائم ھونی تھی جو کہ باقاعدہ منصوبے کے تحت انگریز کے وفادار مسلمانوں نے کروا دی .. تقسیم کے وقت پنجاب کی 23 مستقل نہروں میں سے 21 پاکستان کے حصہ میں آئیں اس لیے بظاہر تو پاکستان فائدے میں نظر آرھا تھا لیکن بھارت کے کشمیر پر قبضہ سے بھارت کو پاکستان کی نہروں کو پانی مہیا کرنے کے نظام پر مکمل بالادستی حاصل ھوگئی پجند کے پانچوں دریا مغربی پنجاب میں داخل ھونے سے پہلے کشمیر اور مشرقی پنجاب سے بہتے ھوئے آتے ھیں اور منصوبہ سازوں اور مفاد پرست مسلم اشرافیہ کی ملی بھگت سے یہ کشمیر پر قبضے کی وجہ سے بھارت کے قبضے میں چلے گئے . سندھو دریا بھی لداخ سے ھوتا ھوا سپتہ سندھو میں داخل ھوتا ھے اور لداخ کشمیر کا ایک حصہ ھے ھمالیہ کی دور دراز گھاٹیوں میں بہنے کی وجہ سے وھاں اس کا رخ بدلنا ممکن نہیں اس لئے انڈیا آج تک کوشش کے باوجود سندھو دریا کے پانی کو روک نہیں سکا دوسرے دریا خاص طور پر راوی اور ستلج مشرقی پنجاب میں سے ھوتے ھوئے مغربی پنجاب میں داخل ھوتے ھیں اس وجہ سے پانی کی تقسیم کے لیے راوی اور ستلج پر قائم تمام اھم ھیڈ ورکس بھی بھارت کے قبضہ میں چلے گئے .. راوی اور ستلج کے ھیڈورکس پچاس سال سے ان کھیتوں کو پانی پہنچا رھے تھے جو مغربی پنجاب کے علاقے میں تھے۔ لیکن دریا کے اوپر والے حصے کے لیے دریا کے نچلے حصے کو پانی دینے کا بین الاقوامی قانون نہیں ھےاس لیے بھارت اس پوزیشن میں تھا کہ وہ جب چاھتا مغربی پنجاب کو پانی کی سپلائی روک سکتا تھا بھارت نے آزادی کے فوری بعد مغربی پنجاب کا پانی روک لیا آخر کار رقم کی ادائیگی کے عوض پانی فراھم کرنے کے لیے مارچ 1948ء تک کی مدت کے لیے ایک معاھدے پر دستخط ھوئے۔ جس میں تنازعات کے حل کے لیے ایک کمیٹی کی تجویز بھی شامل تھی۔ مارچ 1948ء میں جب معاھدے کی مدت ختم ھوئی تو بھارت نے راوی اور ستلج کا پانی روک دیا کسانوں نے گرمیوں کی فصلیں بونی شروع کی ھوئی تھیں بھارت کے راوی اور ستلج کا پانی روکنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلیں مکمل طور پر تباہ ھوگئیں اور یہ سب مفاد پرست مسلم اشرافیہ اور ھندو انگریز منصوبہ سازوں کے پنجاب کو مسلسل زیر دست رکھنے اور معاشی طور پر کمزور اور زیردست رکھنے کے منصوبے کا حصہ تھا انڈیا کے پانی روکنے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تکرار جاری تھی پانی کی قیمت اور دریائی پانی وصول کرنے کے اوقات کے حوالے سے تنازعات تھےاس سلسلے میں عارضی بنیادوں پر جو معاھدے ھوئے تھے وہ پاکستان کے لیے غیر تسلی بخش تھےکیونکہ جب مغربی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی سپلائی میں کمی ھوتی تھی تو بھارت اپنے استعمال کے لیے پانی روک لیتا تھاجب موسمی سیلاب پنجند دریاؤں میں امڈ آتے تو پاکستان کے سالانہ کوٹے میں سے وہ سیلابی پانی منہا کر لیا جاتا تھا جو مغربی پنجاب کے کسی کام نہیں آتا تھا۔ 1951ء میں ورلڈ بینک نے کوشش کی کہ دونوں ممالک سندھ طاس نظام کو ایک وحدت کے طور پر چلانے کے لیے آپس میں تعاون کر لیں اور کسی معاھدے پر پہچنے کی کوشش کریں لیکن بھارت کسی ایسے معاھدے کا خواھش مند نہیں تھا جس کے تحت اس کا دریاؤں پر سے کنڑول ختم ھوجائے جبکہ پاکستان کو کسی صورت میں بھارت کی بالادستی اور دریاؤں پر پورا کنڑول منظور نہیں تھا دریاؤں کے بالائی حصوں پر قبضہ کی وجہ سے راوی اور ستلج دریاؤں پر بھارت کی بالادستی قائم تھی اور مغربی پنجاب کو پانی فراھم نہیں ھورھا تھا دوسری طرف بھارت کو اندرونی طور پر بڑھتے ھوئے معاشی اور سیاسی مسائل کا سامنا تھاجبکہ بیرونی سطح پر چین کے دستے ھمالیہ میں اس کی بیرونی چوکیوں پر حملے کر رھے تھے۔ ورلڈ بینک کے نمائندے اور دوست حکومتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس نظام کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے رھی تھیں ان پر واضح ھو گیا تھا کہ سندھ طاس نظام کو ایک وحدت کے طور پر چلانا ممکن نہیں ھے۔ لہذا نئی تجاویز کے ساتھ ورلڈ بینک اور دوست حکومتیں 19 ستمبر 1960ء کو بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس کے معاھدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ھو گئے۔ بھارت اور پاکستان نے دریاؤں کے حوالے سے اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتے ھوئے؛ 1۔ ایک مستقل انڈس کمیشن قائم کیا جو بھارت اور پاکستان کے کمشنروں پر مشتمل تھا۔ 2۔ ھائیڈرولوجیکل اور موسمیاتی مراکز کا ایک مربوط نظام قائم کیا گیا۔ جس کی معلومات تک رسائی دونوں ممالک کو حاصل تھی۔ 3۔ دریائے سندھ اور پنجند کے دو دریاؤں جہلم اور چناب پر بھارت نے پاکستان کی حاکمیت تسلیم کی اور بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے بہاوَ میں کبھی بھی کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔ 4۔ پنجند کے تین مشرقی دریا راوی ' بیاس ' ستلج مکمل طور پر بھارت کے سپرد کر دیے گئے ، بھارت نے ایک مقرہ مدت تک پانی کی ایک طے شدہ مقدار پاکستان کو مہیا کرنی تھی۔ تاکہ پاکستان مغربی دریاؤں پر ڈیم اور ھیڈ ورکس تعمیر کرکے زراعت کے لیے پانی کا انتظام کرسکے۔ پاکستان نے مقرہ مدت کے دوران مغربی دریاؤں پر ڈیم اور ھیڈ ورکس تعمیر کرکے زراعت کے لیے پانی کا انتظام کرنا تھا۔ تاکہ مشرقی دریاؤں کے مکمل بند ھو جانے کی صورت میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے اس لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت تھی بھارت اور پاکستان نے کچھ رقم اکھٹی کی اور ورلڈ بینک نے قرضہ مہیا کیا جبکہ امریکا ' برطانیہ ' کنیڈا اور جرمنی نے امدادی رقوم دیں لہذا مغربی پنجاب میں جہلم کے مقام پر منگلا ڈیم ' صوبہ سرحد (موجودہ نام خیبر پختونخوا) میں دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم اور دریائے کابل پر وارسک ڈیم بنائے گئے۔ دریائے جہلم ' دریائے سندھ اور دریائے کابل پر ڈیم بنا کر پانی و بجلی کا انتظام کرنے کے علاوہ زراعت کے فروغ کے لیے ھیڈ ورکس بناکر بیراج بنانے اور نہریں نکالنے کے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ 1۔ سندھ میں 1955ء میں کوٹری بیراج مکمل ھوا اس سے سندھ کے مشرقی علاقوں میں زراعت کے لیے پانی میسر آیا۔ 2۔ ڈیرہ غازی خان کے نزدیک چشمہ بیراج کی تعمیر کا کام 1953ء میں شروع ھواجس کی منصوبہ بندی برطانیہ نے کی تھی چشمہ بیراج کی تعمیر 1958ء میں مکمل ھوئی۔ 3۔ پنجاب اور سندھ کی سرحد کے نزدیک پنجند اور سکھر کے درمیان گدو کے مقام پر 1962ء میں گدو بیراج کا کام مکمل ھو گیااس بیراج کی منصوبہ بندی بھی برطانیہ نے کی تھی۔ 4۔ دوسرے بڑے ھیڈ ورکس جن کی پاکستان نے منصوبہ بندی کی تھی وہ پنجند کے دریاؤں پر پھیلے ھوئے تھے۔ انڈیا نے فنڈنگ کرکے کالا باغ کے مقام پر ورلڈ بینک کی مدد سے بننے والے ڈیم کو سیاست زدہ کرنے کہلائے فنڈنگ کرکے ڈیم نہ بننے دیا اور اس طرح مستقبل میں پاکستان کیلئے پانی کی شدید کمی اور زرعی نقصان کا بندوبست کیا ... *پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

 انڈیا اور پاکستان کے درمیان ھونے والا "سندھ طاس معاھدہ" کیا ھے ؟؟؟


برطانوی حکام نے 1909ء میں پنجاب کو برصغیر کے لیے "زرعی علاقہ" بنانے کے لیے "سندھ طاس کا منصوبہ" بنایا تاکہ ایک دریا کے پانی کو دوسرے دریا تک پہنچایا جائے۔ جہلم کو ایک نہر کے ذریعہ چناب سے ملا دیا گیا۔ پنجند اور معاون دریاؤں پر بہت سے بند اور بیراج باندھے گئے جو سیلاب کے وقت پانی کا ذخیرہ کرلیتے تھے۔ اس طرح سیلابوں پر کسی حد تک قابوں پایا گیا اور ان میں جمع شدہ پانی کو سردیوں کے خشک موسم میں استعمال کیا جانے لگا۔


1932ء میں دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر پہلا بیراج تعمیر کیا گیا اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی کے نظام نے کام کرنا شروع کر دیا۔ برٹش انڈیا کی تقسیم سے کچھ عرصہ پہلے کالا باغ کے مقام پر دوسرا بیراج تعمیر کیا گیا۔ 1947ء تک برطانوی انجینئر سندھ طاس کو دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی کا نظام مہیا کرچکے تھے اور انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا اسے دنیا میں ھر جگہ نہروں کی تعمیر اور ان کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ھے۔


تقریباً پچاس سال تک طاقتور دریاؤں کو قابو میں رکھنے اور لگام ڈالنے کا کام ایک مکمل وحدت کے طور پر انجام دیا جاتا رھا۔ مگر 1947ء میں پنجاب کی تقسیم کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ 

سیرل کلف اس کمیشن کا چیئرمین تھا ، جسے پنجاب تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی سیرل کلف نے پنجاب کی تقسیم کے وقت نہروں اور دریاؤں کو کنٹرول کرنے کے نظام کی اھمیت پوری طرح دونوں فریقوں پر واضح کردی اور تجویز پیش کی کہ دونوں ملک ایک معاھدہ کر لیں کہ وہ اس سارے نظام کو ایک اکائی کی طرح چلائیں گے۔


پاکستان اور بھارت کے رھنما ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے انہوں نے یہ تجویز رد کردی قائد اعظم اور لیاقت علی خان شاید جانتے تھے یا اس منصوبے کا حصہ تھے کہ کشمیر کو پاکستان میں شامل نہیں کیا جائے گا اس لیے پاکستان کو بھارت کے رحم و کرم پر رھنا پڑے گا جبکہ پنڈت نہرو کو یہ یقین دلایا گیا یا امید تھی کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کے باوجود وھاں کا ھندو راجا بھارت میں شامل ھوگا جبکہ لیاقت علی خان کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کے بجائے حیدرآباد دکن کو پاکستان میں شامل کرنے کو ترجیج دے گا لیکن لیاقت علی خان نے کشمیر حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ سب گنوا دئیے ، کشمیر کے بھارت میں شامل ھونے کی صورت میں دریاؤں پر بھارت کی بالادستی قائم ھونی تھی جو کہ باقاعدہ منصوبے کے تحت انگریز کے وفادار مسلمانوں نے کروا دی ..


تقسیم کے وقت پنجاب کی 23 مستقل نہروں میں سے 21 پاکستان کے حصہ میں آئیں اس لیے بظاہر تو پاکستان فائدے میں نظر آرھا تھا لیکن بھارت کے کشمیر پر قبضہ سے بھارت کو پاکستان کی نہروں کو پانی مہیا کرنے کے نظام پر مکمل بالادستی حاصل ھوگئی پجند کے پانچوں دریا مغربی پنجاب میں داخل ھونے سے پہلے کشمیر اور مشرقی پنجاب سے بہتے ھوئے آتے ھیں اور منصوبہ سازوں اور مفاد پرست مسلم اشرافیہ کی ملی بھگت سے یہ کشمیر پر قبضے کی وجہ سے بھارت کے قبضے میں چلے گئے .


سندھو دریا بھی لداخ سے ھوتا ھوا سپتہ سندھو میں داخل ھوتا ھے اور لداخ کشمیر کا ایک حصہ ھے ھمالیہ کی دور دراز گھاٹیوں میں بہنے کی وجہ سے وھاں اس کا رخ بدلنا ممکن نہیں اس لئے انڈیا آج تک کوشش کے باوجود سندھو دریا کے پانی کو روک نہیں سکا دوسرے دریا خاص طور پر راوی اور ستلج مشرقی پنجاب میں سے ھوتے ھوئے مغربی پنجاب میں داخل ھوتے ھیں اس وجہ سے پانی کی تقسیم کے لیے راوی اور ستلج پر قائم تمام اھم ھیڈ ورکس بھی بھارت کے قبضہ میں چلے گئے ..


راوی اور ستلج کے ھیڈورکس پچاس سال سے ان کھیتوں کو پانی پہنچا رھے تھے جو مغربی پنجاب کے علاقے میں تھے۔ لیکن دریا کے اوپر والے حصے کے لیے دریا کے نچلے حصے کو پانی دینے کا بین الاقوامی قانون نہیں ھےاس لیے بھارت اس پوزیشن میں تھا کہ وہ جب چاھتا مغربی پنجاب کو پانی کی سپلائی روک سکتا تھا بھارت نے آزادی کے فوری بعد مغربی پنجاب کا پانی روک لیا آخر کار رقم کی ادائیگی کے عوض پانی فراھم کرنے کے لیے مارچ 1948ء تک کی مدت کے لیے ایک معاھدے پر دستخط ھوئے۔ جس میں تنازعات کے حل کے لیے ایک کمیٹی کی تجویز بھی شامل تھی۔


مارچ 1948ء میں جب معاھدے کی مدت ختم ھوئی تو بھارت نے راوی اور ستلج کا پانی روک دیا کسانوں نے گرمیوں کی فصلیں بونی شروع کی ھوئی تھیں بھارت کے راوی اور ستلج کا پانی روکنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلیں مکمل طور پر تباہ ھوگئیں اور یہ سب مفاد پرست مسلم اشرافیہ اور ھندو انگریز منصوبہ سازوں کے پنجاب کو مسلسل زیر دست رکھنے اور معاشی طور پر کمزور اور زیردست رکھنے کے منصوبے کا حصہ تھا

انڈیا کے پانی روکنے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تکرار جاری تھی پانی کی قیمت اور دریائی پانی وصول کرنے کے اوقات کے حوالے سے تنازعات تھےاس سلسلے میں عارضی بنیادوں پر جو معاھدے ھوئے تھے وہ پاکستان کے لیے غیر تسلی بخش تھےکیونکہ جب مغربی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی سپلائی میں کمی ھوتی تھی تو بھارت اپنے استعمال کے لیے پانی روک لیتا تھاجب موسمی سیلاب پنجند دریاؤں میں امڈ آتے تو پاکستان کے سالانہ کوٹے میں سے وہ سیلابی پانی منہا کر لیا جاتا تھا جو مغربی پنجاب کے کسی کام نہیں آتا تھا۔


1951ء میں ورلڈ بینک نے کوشش کی کہ دونوں ممالک سندھ طاس نظام کو ایک وحدت کے طور پر چلانے کے لیے آپس میں تعاون کر لیں اور کسی معاھدے پر پہچنے کی کوشش کریں لیکن بھارت کسی ایسے معاھدے کا خواھش مند نہیں تھا جس کے تحت اس کا دریاؤں پر سے کنڑول ختم ھوجائے جبکہ پاکستان کو کسی صورت میں بھارت کی بالادستی اور دریاؤں پر پورا کنڑول منظور نہیں تھا دریاؤں کے بالائی حصوں پر قبضہ کی وجہ سے راوی اور ستلج دریاؤں پر بھارت کی بالادستی قائم تھی اور مغربی پنجاب کو پانی فراھم نہیں ھورھا تھا دوسری طرف بھارت کو اندرونی طور پر بڑھتے ھوئے معاشی اور سیاسی مسائل کا سامنا تھاجبکہ بیرونی سطح پر چین کے دستے ھمالیہ میں اس کی بیرونی چوکیوں پر حملے کر رھے تھے۔


ورلڈ بینک کے نمائندے اور دوست حکومتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس نظام کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے رھی تھیں ان پر واضح ھو گیا تھا کہ سندھ طاس نظام کو ایک وحدت کے طور پر چلانا ممکن نہیں ھے۔ لہذا نئی تجاویز کے ساتھ ورلڈ بینک اور دوست حکومتیں 19 ستمبر 1960ء کو بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس کے معاھدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ھو گئے۔ بھارت اور پاکستان نے دریاؤں کے حوالے سے اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتے ھوئے؛


1۔ ایک مستقل انڈس کمیشن قائم کیا جو بھارت اور پاکستان کے کمشنروں پر مشتمل تھا۔


2۔ ھائیڈرولوجیکل اور موسمیاتی مراکز کا ایک مربوط نظام قائم کیا گیا۔ جس کی معلومات تک رسائی دونوں ممالک کو حاصل تھی۔


3۔ دریائے سندھ اور پنجند کے دو دریاؤں جہلم اور چناب پر بھارت نے پاکستان کی حاکمیت تسلیم کی اور بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے بہاوَ میں کبھی بھی کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔


4۔ پنجند کے تین مشرقی دریا راوی ' بیاس ' ستلج مکمل طور پر بھارت کے سپرد کر دیے گئے ، بھارت نے ایک مقرہ مدت تک پانی کی ایک طے شدہ مقدار پاکستان کو مہیا کرنی تھی۔ تاکہ پاکستان مغربی دریاؤں پر ڈیم اور ھیڈ ورکس تعمیر کرکے زراعت کے لیے پانی کا انتظام کرسکے۔


پاکستان نے مقرہ مدت کے دوران مغربی دریاؤں پر ڈیم اور ھیڈ ورکس تعمیر کرکے زراعت کے لیے پانی کا انتظام کرنا تھا۔ تاکہ مشرقی دریاؤں کے مکمل بند ھو جانے کی صورت میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے اس لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت تھی بھارت اور پاکستان نے کچھ رقم اکھٹی کی اور ورلڈ بینک نے قرضہ مہیا کیا جبکہ امریکا ' برطانیہ ' کنیڈا اور جرمنی نے امدادی رقوم دیں لہذا مغربی پنجاب میں جہلم کے مقام پر منگلا ڈیم ' صوبہ سرحد (موجودہ نام خیبر پختونخوا) میں دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم اور دریائے کابل پر وارسک ڈیم بنائے گئے۔


دریائے جہلم ' دریائے سندھ اور دریائے کابل پر ڈیم بنا کر پانی و بجلی کا انتظام کرنے کے علاوہ زراعت کے فروغ کے لیے ھیڈ ورکس بناکر بیراج بنانے اور نہریں نکالنے کے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔


۔ سندھ میں 1955ء میں کوٹری بیراج مکمل ھوا اس سے سندھ کے مشرقی علاقوں میں زراعت کے لیے پانی میسر آیا۔


۔ ڈیرہ غازی خان کے نزدیک چشمہ بیراج کی تعمیر کا کام 1953ء میں شروع ھواجس کی منصوبہ بندی برطانیہ نے کی تھی چشمہ بیراج کی تعمیر 1958ء میں مکمل ھوئی۔


۔ پنجاب اور سندھ کی سرحد کے نزدیک پنجند اور سکھر کے درمیان گدو کے مقام پر 1962ء میں گدو بیراج کا کام مکمل ھو گیااس بیراج کی منصوبہ بندی بھی برطانیہ نے کی تھی۔


۔ دوسرے بڑے ھیڈ ورکس جن کی پاکستان نے منصوبہ بندی کی تھی وہ پنجند کے دریاؤں پر پھیلے ھوئے تھے۔


انڈیا نے فنڈنگ کرکے کالا باغ کے مقام پر ورلڈ بینک کی مدد سے بننے والے ڈیم کو سیاست زدہ کرنے کہلائے فنڈنگ کرکے ڈیم نہ بننے دیا اور اس طرح مستقبل میں پاکستان کیلئے پانی کی شدید کمی اور زرعی نقصان کا بندوبست کیا ...


*پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int