مبارک ہو، بارکھان بلوچستان میں پنجاب سے آئے تمام مزدوروں اور محنت کشوں کو نکال دیا وہاں کے نام نہاد مظلوم بلوچستانیوںَ نے: آج کے بعد اگر پنجاب کا کوئ بندہ ان ظالم بلوچستانیوں کو مظلوم کہتا ہوا نظر آیا تو اس کے منہ پر دو لگائیں۔ پاکستان میں سب بھائ بھائ ہیں سوائے پنجابیوں کے۔ اس لیے یہ بھائ چارے کا ٹوپی ڈرامہ اپنے پاس رکھو۔ یہ ان بیوقوف پنجابیوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ پنجاب کو توڑ کر نام نہاد انتظامی صوبہ بننے سے کیا ہوجائے گا۔ وہی ہوگا جو بلوچستان میں ہوا پنجابیوں کے ساتھ اور ہورہا ہے مزید۔. بلوچستان صوبہ جو کسی دوسرے ملک میں ہے جو کبھی اسی سپت سندھو دھرتی کی براہوی و جاتکی سرزمین تھا وہاں کے علاقے بارکھان میں اس بات پر خوشی منائ جارہی ہے کہ پنجاب سے آئے ہوئے مزدوروں اور محنت کشوں کو ڈنڈے اور بندوق کے زور پر نکال دیا گیا ہے۔ البتہ پنجاب میں بلوچستان کے لوگ مستقل آکر آباد بھی ہورہے ہیں، تعلیم اور وہ بھی مفت تعلیم یعنی پنجاب کے بچوں کا حق مار کر حاصل کر رہے ہیں، بلوچستان کے افراد یہاں افسر بھی لگ سکتے ہیں، پنجاب کے کسان کا حق مار کر اس کے حصے کا نہری پانی بھی بلوچستان کے انھی علاقوں کو دیا جارہا ہے جس سے پنجاب کا کسان مزید پانی کی کمی کا شکار ہے، پنجاب کے پہلے سے کم بجٹ میں سے بھی ارب روپیہ بلوچستان کو دیا جارہا، جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کے حصے کے پندرہ فیصد حصے سے دستبرداری کے بعد بھی زیادہ حصہ بلوچستان کو ملا لیکن پنجاب والوں کے لیے بلوچستان جانا ممنوع ہے۔ یہ ہی بلوچستان ہے جہاں سے کئ دہائیوں سے پنجاب کے افراد کی لاشیں آرہی ہیں، جبکہ 45 سال پہلے یہاں سے پنجابی ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اسی دور میں پنجابیوں پر وہاں حملے شروع ہوئے اور ان کی بیدخلی شروع ہوئ۔ میں تو کہتا ہوں اچھا ہورہا ہے جو بلوچستان میں افغانی مہاجرین بڑھتے جارہے ہیں اور پشتون اکثریت ہوچکی ہے بلوچستان میں، اور وہاں اب کاروبار و روزگار پر افغانیوں اور پشتونوں کا زیادہ کنٹرول ہوتا جارہا ہے۔ اب یہ بلوچستانی قوم پرست اور دہشت گرد ان پشتونوں اور افغانی مہاجرین کو نکالنے کی ہمت نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر ان پر حملہ کیا تو وہ سارے متحد ہوکر ان بلوچستانی قوم پرستوں کی بینڈ بجادیں گے۔ سچ ہے کہ ایک ظالم پر دوسرا ظالم مسلط ہوجاتا ہے۔ پہلے چند صدیاں قبل ان بلوچستانی قوم پرستوں نے براہویوں، جاتکیوں اور مکرانیوں کی زمین و شناخت پر قبضہ کیا۔ اور جب وہاں پنجاب سے لوگ گئے تو ان کو ان قوم پرستوں نے غیرلوکل کہہ کر نکالنا شروع کردیا۔ گویا خود جیسے یہ ہمیشہ سے وہیں رہ رہے تھے حالانکہ خود بھی صرف چند صدیاں قبل آئے تھے عراق سے۔ خیر چکھو اب افغانیوں کی آبادکاری کا مزہ اور ان کو نکال کر دکھاؤ لگ پتہ جائے گا تمہیں۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے کوئٹہ کو افغان اکثریتی شہر بنادیا ہے اور اب گوادر کو افغان اکثریتی شہر بنایا جارہا ہے، کرلو حو کرسکتے ہو۔ ایف سی میں بھی اکثریت پشتونوں کی ہے، تاکہ ہر طرف سے تم بلوچستانی تعصبی پنجاب دشمن قوم پرستوں کی منجی ٹھوکی جائے۔ تمہارا زور صرف بےبس پنجابی محنت کش، مزدور، تاجر اور پنجابی اساتذہ پر ہی چلتا تھا۔ تحریر حسن رانا Hassan Rana *پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

 مبارک ہو، بارکھان بلوچستان میں پنجاب سے آئے تمام مزدوروں اور محنت کشوں کو نکال دیا وہاں کے نام نہاد مظلوم بلوچستانیوںَ نے:

آج کے بعد اگر پنجاب کا کوئ بندہ ان ظالم بلوچستانیوں کو مظلوم کہتا ہوا نظر آیا تو اس کے منہ پر دو لگائیں۔ پاکستان میں سب بھائ بھائ ہیں سوائے پنجابیوں کے۔ اس لیے یہ بھائ چارے کا ٹوپی ڈرامہ اپنے پاس رکھو۔

یہ ان بیوقوف پنجابیوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ پنجاب کو توڑ کر نام نہاد انتظامی صوبہ بننے سے کیا ہوجائے گا۔ وہی ہوگا جو بلوچستان میں ہوا پنجابیوں کے ساتھ اور ہورہا ہے مزید۔.

بلوچستان صوبہ جو کسی دوسرے ملک میں ہے جو کبھی اسی سپت سندھو دھرتی کی براہوی و جاتکی سرزمین تھا وہاں کے علاقے بارکھان میں اس بات پر خوشی منائ جارہی ہے کہ پنجاب سے آئے ہوئے مزدوروں اور محنت کشوں کو ڈنڈے اور بندوق کے زور پر نکال دیا گیا ہے۔

البتہ پنجاب میں بلوچستان کے لوگ مستقل آکر آباد بھی ہورہے ہیں، تعلیم اور وہ بھی مفت تعلیم یعنی پنجاب کے بچوں کا حق مار کر حاصل کر رہے ہیں، بلوچستان کے افراد یہاں افسر بھی لگ سکتے ہیں، پنجاب کے کسان کا حق مار کر اس کے حصے کا نہری پانی بھی بلوچستان کے انھی علاقوں کو دیا جارہا ہے جس سے پنجاب کا کسان مزید پانی کی کمی کا شکار ہے، پنجاب کے پہلے سے کم بجٹ میں سے بھی ارب روپیہ بلوچستان کو دیا جارہا، جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کے حصے کے پندرہ فیصد حصے سے دستبرداری کے بعد بھی زیادہ حصہ بلوچستان کو ملا لیکن پنجاب والوں کے لیے بلوچستان جانا ممنوع ہے۔

یہ ہی بلوچستان ہے جہاں سے کئ دہائیوں سے پنجاب کے افراد کی لاشیں آرہی ہیں، جبکہ 45 سال پہلے یہاں سے پنجابی ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اسی دور میں پنجابیوں پر وہاں حملے شروع ہوئے اور ان کی بیدخلی شروع ہوئ۔

میں تو کہتا ہوں اچھا ہورہا ہے جو بلوچستان میں افغانی مہاجرین بڑھتے جارہے ہیں اور پشتون اکثریت ہوچکی ہے بلوچستان میں، اور وہاں اب کاروبار و روزگار پر افغانیوں اور پشتونوں کا زیادہ کنٹرول ہوتا جارہا ہے۔ اب یہ بلوچستانی قوم پرست اور دہشت گرد ان پشتونوں اور افغانی مہاجرین کو نکالنے کی ہمت نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر ان پر حملہ کیا تو وہ سارے متحد ہوکر ان بلوچستانی قوم پرستوں کی بینڈ بجادیں گے۔ سچ ہے کہ ایک ظالم پر دوسرا ظالم مسلط ہوجاتا ہے۔

پہلے چند صدیاں قبل ان بلوچستانی قوم پرستوں نے براہویوں، جاتکیوں اور مکرانیوں کی زمین و شناخت پر قبضہ کیا۔ اور جب وہاں پنجاب سے لوگ گئے تو ان کو ان قوم پرستوں نے غیرلوکل کہہ کر نکالنا شروع کردیا۔ گویا خود جیسے یہ ہمیشہ سے وہیں رہ رہے تھے حالانکہ خود بھی صرف چند صدیاں قبل آئے تھے عراق سے۔ خیر چکھو اب افغانیوں کی آبادکاری کا مزہ اور ان کو نکال کر دکھاؤ لگ پتہ جائے گا تمہیں۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے کوئٹہ کو افغان اکثریتی شہر بنادیا ہے اور اب گوادر کو افغان اکثریتی شہر بنایا جارہا ہے، کرلو حو کرسکتے ہو۔ ایف سی میں بھی اکثریت پشتونوں کی ہے، تاکہ ہر طرف سے تم بلوچستانی تعصبی پنجاب دشمن قوم پرستوں کی منجی ٹھوکی جائے۔ تمہارا زور صرف بےبس پنجابی محنت کش، مزدور، تاجر اور پنجابی اساتذہ پر ہی چلتا تھا۔

تحریر حسن رانا Hassan Rana 


*پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟