پنجابیوں کا بھی عام سندھی ، پشتون ، بلوچ ، مہاجر سے کوئی جھگڑا نہیں پنجابی کی جنگ خاص الخاص ان سندھیوں ، پشتونوں ، بلوچوں اور مہاجروں سے ھے جو بات بے بات پنجابی کو گالی دیتے چور غاصب کہتے پنجابی زبان کو گالی دیتے اور غریب پنجابیوں کو صرف پنجابی ھونے پر قتل کرتے انکی زمین جائیداد پر قبضے کرتے اور جلاتے ھیں ، پنجابیوں کو ھمیشہ یہ کہہ کر بیوقوف بنایا گیا کہ ھماری لڑائی تو پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں پنجابی اشرافیہ سے ھے لیکن حقیقت میں ان کی لڑائی ، بغض اور کینہ کا نشانہ عام غریب پنجابی ھی بنتا آیا ھے ، پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں کا تو سن ۱۹۷۰ تک کہیں عمل دخل ھی نہیں تھا ، رکارڈ اٹھا کر دیکھیں پاکستان بننے سے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے والی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور جرنیلی عہدوں پر تو غیر پنجابی قابض تھے ، پھر باچا خان ، جی ایم سید ، خون خور مری کس پنجابی اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی اور جرنیلوں کی آڑ میں پنجاب پنجابی کے خلاف آپنا بغض کینہ نکالتے تھے ؟؟؟ ان سب کی دال روٹی یعنی عصبیت اور علاقائیت کی دکانداری چلتی ھی پنجاب پنجابی دشمنی کیلئے ملنے والے فنڈز پر تھی اور ھے کل بھی اور آج بھی, پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں کے ساتھ تو انکی رشتہ داریاں اور یارانے ھیں اپنی بیٹیاں یہ نام نہاد پنجابی بیوروکریسی پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی جرنیلوں کے گھر بیاہنے میں فخر محسوس کرتے ھیں باچا خاندان کے بیٹی پنجابی کے گھر ، مینگل کی بیٹی پنجابی کے گھر ، زرداری کی بیٹی پنجابی کے گھر اور اب پشتون کی بیٹی جرنیل باجوہ کے گھر لیکن بیشرمی سے کہتے یہ ھی ھیں کہ ھماری جنگ تو پنجابی اشرافیہ ، جرنیلوں ، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے ھے لیکن نشانہ عام پنجابی اور پنجاب ھی ھوتا ھے آج تک ان سب نے بیانوں اور نعروں کے علاوہ پنجابی اشرافیہ ، جرنیلوں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے خلاف کچھ نہیں کیا لیکن عام غریب پنجابی کو ایک وقت میں درجنوں کے حساب سے قتل زمین جائیداد پر قبضے بیدخلی جلاؤ گھیراؤ اور گالیاں ان کا روز کا معمول ھے . باقیوں کو چھوڑیں لسانیت عصبیت اور علاقائیت کی غلاظت سے تو مفتی محمود بھی پاک نہیں تھے جو کہتے تھے کہ میں پنجابیوں پر پیشاب بھی کرنا پسند نہیں کرتا ، خود کو مہذب اور آپنی زبان کو تہذیب یافتہ کہنے والے ھندستانی وسیم اختر کو یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ھوئی کہ پنجاب کے ہر گھر میں مجرا ھوتا ھے پنجابیوں کو اب کسی سندھو دیش کسی پشتونستان کسی گریٹر بلوچستان کسی جناح ہور یا مہاجر صوبے سے کچھ مسئلہ نہیں ، کل کی بجائے آج بنائیں ، جتنا اسلام پاکستان کا احساس سندھی بلوچ پشتون اور مہاجر کو ھے اب پنجابی بھی اتنا ھی کریں گے کہ وہ بھی اتنے ھی مسلمان اور اتنے ھی پاکستانی ھیں جتنے یہ سب یہ ملک سب کا ھے پھر اس میں ھونے والے غلط کاموں ، بلنڈرز ، اور لوٹ مار کا الزام بغیر کئے پنجابی کیوں برداشت کریں ؟؟؟ کیا بنگلہ دیش بنانے والے اصل محرک ایوب خان ، یحیی خان بھٹو اور مجیب الرحمان پنجابی تھے ؟؟؟ کیا بنگلہ دیش بننے کی وجہ بننے والا اردو کے نفاذ کا فیصلہ پنجابیوں نے کیا تھا ؟؟؟ کیا بلوچستان اور سندھ میں ھونے والے آپریشنوں کا حکم دینے والے پنجابی تھے ؟؟؟ کیا لیاقت علی خان کو پنجابی نے قتل کیا تھا اور اسوقت اسٹیبلشمنٹ، اقتدار ، بیوروکریسی اور فوجی ہائی کمان پنجابیوں کے پاس تھی ؟؟؟ کیا ضیاالحق کے دائیں بائیں اور پالیسی بنانے والے پنجابی تھے ؟؟؟ کیا اکبر بگٹی کو قتل کرنے والی حکومت پنجابی تھی ؟؟؟ کیا بینظیر کو قتل کرنے والی حکومت پنجابی تھی ؟؟؟ کیا مرتضی بھٹو کو پنجابی کی حکومت میں قتل کیا گیا ؟؟؟ کالا باغ ڈیم سے کونسی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور جرنیلوں کو فائدہ ھوتا جو ان سب نے عبادت سمجھ کر مخالفت کی؟؟؟ سندھ والے سندھو دیش بنا کر پانی سے ویسے ھی محروم ھوں گے جیسے پنجاب ستلج راوی بیاس سے محروم ھوا اور جناح پور یا مہاجرستان کی وجہ سے سمندر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیاں گے ، پشتونستان بنانے والے پنجاب کی گندم چاول اور دیگر اجناس کی آسانی سے دستیابی سے محروم ھوں گے ، اور جب قحط ستائے گا تو ان کے پاس ابدالی غوری غزنوی کی طرح ہر سال فصل پر پنجاب آکر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا آپشن بھی نہیں ھوگا پھر دال روٹی کا بھاؤ پتہ چلے گا. گریٹر بلوچستان بنانے والے بھی پنجاب میں موجود بلوچوں کے بوجھ تلے دب کر اور معاش اور غذا کی اھمیت سمجھ سکیں گے کہ زمینی حقیقت کیا ھے ، حد ھوتی ھے بغض اور کینہ کی یہاں تو سب حدیں بغض پنجابی میں پار کر لی گئیں ... «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int

 پنجابیوں کا بھی عام سندھی ، پشتون ، بلوچ ، مہاجر سے کوئی جھگڑا نہیں پنجابی کی جنگ خاص الخاص ان سندھیوں ، پشتونوں ، بلوچوں اور مہاجروں سے ھے جو بات بے بات پنجابی کو گالی دیتے چور غاصب کہتے پنجابی زبان کو گالی دیتے اور غریب پنجابیوں کو صرف پنجابی ھونے پر قتل کرتے انکی زمین جائیداد پر قبضے کرتے اور جلاتے ھیں ، 


پنجابیوں کو ھمیشہ یہ کہہ کر بیوقوف بنایا گیا کہ ھماری لڑائی تو پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں پنجابی اشرافیہ سے ھے لیکن حقیقت میں ان کی لڑائی ، بغض اور کینہ کا نشانہ عام غریب پنجابی ھی بنتا آیا ھے ، پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں کا تو سن ۱۹۷۰ تک کہیں عمل دخل ھی نہیں تھا ، رکارڈ اٹھا کر دیکھیں پاکستان بننے سے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے والی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور جرنیلی عہدوں پر تو غیر پنجابی قابض تھے ، 

پھر باچا خان ، جی ایم سید ، خون خور مری کس پنجابی اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی اور جرنیلوں کی آڑ میں پنجاب پنجابی کے خلاف آپنا بغض کینہ نکالتے تھے ؟؟؟

ان سب کی دال روٹی یعنی عصبیت اور علاقائیت کی دکانداری چلتی ھی پنجاب پنجابی دشمنی کیلئے ملنے والے فنڈز پر تھی اور ھے کل بھی اور آج بھی,

پنجابی اسٹیبلشمنٹ ، پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی جرنیلوں کے ساتھ تو انکی رشتہ داریاں اور یارانے ھیں اپنی بیٹیاں یہ نام نہاد پنجابی بیوروکریسی پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی جرنیلوں کے گھر بیاہنے میں فخر محسوس کرتے ھیں باچا خاندان کے بیٹی پنجابی کے گھر ، مینگل کی بیٹی پنجابی کے گھر ، زرداری کی بیٹی پنجابی کے گھر اور اب پشتون کی بیٹی جرنیل باجوہ کے گھر لیکن بیشرمی سے کہتے یہ ھی ھیں کہ ھماری جنگ تو پنجابی اشرافیہ ، جرنیلوں ، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے ھے لیکن نشانہ عام پنجابی اور پنجاب ھی ھوتا ھے آج تک ان سب نے بیانوں اور نعروں کے علاوہ پنجابی اشرافیہ ، جرنیلوں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے خلاف کچھ نہیں کیا لیکن عام غریب پنجابی کو ایک وقت میں درجنوں کے حساب سے قتل زمین جائیداد پر قبضے بیدخلی جلاؤ گھیراؤ اور گالیاں ان کا روز کا معمول ھے .

باقیوں کو چھوڑیں لسانیت عصبیت اور علاقائیت کی غلاظت سے تو مفتی محمود بھی پاک نہیں تھے جو کہتے تھے کہ میں پنجابیوں پر پیشاب بھی کرنا پسند نہیں کرتا ، 

خود کو مہذب اور آپنی زبان کو تہذیب یافتہ کہنے والے ھندستانی وسیم اختر کو یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ھوئی کہ پنجاب کے ہر گھر میں مجرا ھوتا ھے 

پنجابیوں کو اب کسی سندھو دیش کسی پشتونستان کسی گریٹر بلوچستان کسی جناح ہور یا مہاجر صوبے سے کچھ مسئلہ نہیں ، کل کی بجائے آج بنائیں ، جتنا اسلام پاکستان کا احساس سندھی بلوچ پشتون اور مہاجر کو ھے اب پنجابی بھی اتنا ھی کریں گے کہ وہ بھی اتنے ھی مسلمان اور اتنے ھی پاکستانی ھیں جتنے یہ سب یہ ملک سب کا ھے پھر اس میں ھونے والے غلط کاموں ، بلنڈرز ، اور لوٹ مار کا الزام بغیر کئے پنجابی کیوں برداشت کریں ؟؟؟

کیا بنگلہ دیش بنانے والے اصل محرک ایوب خان ، یحیی خان بھٹو اور مجیب الرحمان پنجابی تھے ؟؟؟

کیا بنگلہ دیش بننے کی وجہ بننے والا اردو کے نفاذ کا فیصلہ پنجابیوں نے کیا تھا ؟؟؟

کیا بلوچستان اور سندھ میں ھونے والے آپریشنوں کا حکم دینے والے پنجابی تھے ؟؟؟

کیا لیاقت علی خان کو پنجابی نے قتل کیا تھا اور اسوقت اسٹیبلشمنٹ، اقتدار ، بیوروکریسی اور فوجی ہائی کمان پنجابیوں کے پاس تھی ؟؟؟

کیا ضیاالحق کے دائیں بائیں اور پالیسی بنانے والے پنجابی تھے ؟؟؟

کیا اکبر بگٹی کو قتل کرنے والی حکومت پنجابی تھی ؟؟؟

کیا بینظیر کو قتل کرنے والی حکومت پنجابی تھی ؟؟؟

کیا مرتضی بھٹو کو پنجابی کی حکومت میں قتل کیا گیا ؟؟؟

کالا باغ ڈیم سے کونسی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور جرنیلوں کو فائدہ ھوتا جو ان سب نے عبادت سمجھ کر مخالفت کی؟؟؟ 


سندھ والے سندھو دیش بنا کر پانی سے ویسے ھی محروم ھوں گے جیسے پنجاب ستلج راوی بیاس سے محروم ھوا اور جناح پور یا مہاجرستان کی وجہ سے سمندر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیاں گے ، 


پشتونستان بنانے والے پنجاب کی گندم چاول اور دیگر اجناس کی آسانی سے دستیابی سے محروم ھوں گے ، اور جب قحط ستائے گا تو ان کے پاس ابدالی غوری غزنوی کی طرح ہر سال فصل پر پنجاب آکر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا آپشن بھی نہیں ھوگا پھر دال روٹی کا بھاؤ پتہ چلے گا. 


گریٹر بلوچستان بنانے والے بھی پنجاب میں موجود بلوچوں کے بوجھ تلے دب کر اور معاش اور غذا کی اھمیت سمجھ سکیں گے کہ زمینی حقیقت کیا ھے ،

حد ھوتی ھے بغض اور کینہ کی یہاں تو سب حدیں بغض پنجابی میں پار کر لی گئیں ...

«افضل پنجابی»

پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )