جو افغانی پناہ گزین پاکستان کو گالی دیتے ہیں اور پنجابیوں کو راجہ رنجیت سنگھ کی اولاد کہتے ہیں ان کو آپ لاہور اور کراچی میں ہی کیوں لانے پر بضد ہیں؟ انہیں، ترقی یافتہ خیبر پختون خواہ، چمن ژوب اور وزیرستان میں کیوں نہیں لے جایا جارہا؟ حالانکہ اس سے پہلے 40 لاکھ پناہ گزین افغانیوں کی اکثریت کیمپوں میں رہنے کی بجاٸے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آٸی حکومتوں کی ملی بھگت سے جعلی شناختی کارڈ بنوا کر اپرپنجاب, لوٸر سندھ اور کراچی میں وسیع علاقوں پر قابض ہو چکی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہ پنجاب اور سندھ کے علاقوں کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا پلان ہے تاکہ بوقت ضرورت انہیں اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی سے استعمال کرسکے اور قباٸلی شدت پسندی سے مقامی باشندوں کو خوف کے ذریعے کنٹرول کیا جاٸے اور دبایا جاسکے. اب یہ پنجابی, سندھی قیادتوں کا فریضہ ہے کہ اٹھیں اور مل کر مقامی قوموں کو اقلیت بننے سے بچاٸیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Copied پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int
جو افغانی پناہ گزین پاکستان کو گالی دیتے ہیں اور پنجابیوں کو راجہ رنجیت سنگھ کی اولاد کہتے ہیں ان کو آپ لاہور اور کراچی میں ہی کیوں لانے پر بضد ہیں؟
انہیں، ترقی یافتہ خیبر پختون خواہ، چمن ژوب اور وزیرستان میں کیوں نہیں لے جایا جارہا؟
حالانکہ اس سے پہلے 40 لاکھ پناہ گزین افغانیوں کی اکثریت کیمپوں میں رہنے کی بجاٸے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آٸی حکومتوں کی ملی بھگت سے جعلی شناختی کارڈ بنوا کر اپرپنجاب, لوٸر سندھ اور کراچی میں وسیع علاقوں پر قابض ہو چکی ہے۔
سیدھی سی بات ہے کہ یہ پنجاب اور سندھ کے علاقوں کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا پلان ہے تاکہ بوقت ضرورت انہیں اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی سے استعمال کرسکے اور قباٸلی شدت پسندی سے مقامی باشندوں کو خوف کے ذریعے کنٹرول کیا جاٸے اور دبایا جاسکے.
اب یہ پنجابی, سندھی قیادتوں کا فریضہ ہے کہ اٹھیں اور مل کر مقامی قوموں کو اقلیت بننے سے بچاٸیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Copied
پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int
Comments
Post a Comment