آگ کا دریا اور پنجاب میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا. قلم کی حرمت کا پاس تھا. عجیب کشمکش کا شکار رہا کہ کہیں اس سے عصبیت کو ہوا نہ ملے. کہیں نفرتیں پروان نہ چڑھیں. میں نے آنکھیں موند لیں تو ذہن کے نہاں خانوں میں بارہ کڑوڑ پنجابی مزدور دہقان , محنت کش ہنر مند نظر آئے جن کی ماں بولی ان سے چھین لی گئی. جن کی تہذیب و ثقافت ختم کردی گئی اور اب منظم منصوبے کے تحت یہاں دیگر اقوام کے لوگ بسائے جارہے ہیں.دل کی تاروں نے ہاتھوں کو جنبش دی اور درد دل بیان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا. میری دھرتی نے پچھلے ہزار سالوں مین شمال سے سینکڑوں حملے برداشت کیے ہیں. ہمارے شہر مٹا دیے گئے. تخت و تاج اچھالے گئے. کھڑی فصلیں لوٹ لی گئیں اور غلامی کی طویل رات میں پنجابی جکڑے رہے. پھر پہلی افغان جنگ کے بعد جو لاکھوں مہاجرین آئے. وہ اپنے ساتھ کلاشن, ہیروئن اور جرائم لائے. پنجاب کے گنڈاسے کلچر کی جگہ کلاشن متعارف ہوئی. دھرتی کے گبھرو جوان نشے کی لت میں پڑھ کر سسک سسک کر دم توڑتے رہے. سمگلنگ کے مال کی بہتات سے پنجابی تاجر کی کمر توڑ دی گئی.فرقہ ورانہ آگ لگائی گئی. لاکھوں مہاجرین نے شناختی کارڈ بنوا لیے کالے دھن کو سفید کیا اور شہروں میں بس کر صنعت و تجارت ہر قابض ہوگئے. اور ایک بار پھر بیس ہزار مہاجر آنے کو ہیں. بھئی ہمارے درمیان مواخات مدینہ موجود نہیں ہے. وہ دارلکفر سے نہیں آرہے بلکہ اسلامی خالص حکومت سے بھاگ کر آرہے ہیں. یعنی امریکہ , بھارت اور اشرف غنی کے حمایتی قوم پرست ہیں جو پاکستان کے جھنڈے جلاتے رہے. جو عام پاکستانی کو نفرت و حقارت سے پنجابی کہا کرتے ہیں. جو پنجابیوں کو دال خور, کالے, رنجیت سنگھ کی اولاد اور ہیرا-- منڈی کی پیداوار کہتے ہیں. جو اٹک و چکوال تک پبجابی علاقے پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں. ایسے بدبخت لوگوں کو حکومت وقت سرکاری مہمان بنا کر پنجاب لارہی ہے. ان کے لئے تین جامعات جن میں جی سی یو, یو ای ٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز شامل ہیں کہ کالا شاہ کاکو میں موجود سب کیمپسز خالی کروا لئے گئے ہیں طلبہ کو ہاسٹلز سے نکالا جارہا ہے, اساتذہ سے گھر خالی کروائے جارہے ہیں. آخر ہمارے طلبہ کا قصور کیا ہے جو ان کی پڑھائی روک دی گئی ہے. پشتون ولی روایات کے ہم تو پابند نہیں تو آخر پنجاب کا قصور کیا ہے جو ہم پر یہ عذاب مسلط کیا جارہا ہے. افغانستان کے حالات تو ٹھیک ہونے کا امکان نظر نہیں آتا نہ ان بیس ہزار لوگوں کو امریکہ و یورپ قبول کرے گا. تو یہ کیونکر کہیں اور جائیں گے یہ یہیں رہیں گے... آج بیس ہزارا آئے ہیں کل یہ لاکھوں اور بلا لیں گے. اور شناختی کارڈ بنوا لیں گے. پنجاب پر ایک بار پھر یہ حملہ آور ہیں. پنجابیت دم توڑ رہی ہے. پنجاب کی ڈیمو گرافی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے. حالیہ عرصے میں ٹیکسلا, چکوال ,پنڈی اور اٹک میں یہ اپنی بستیاں بسا کر ظلم کی حدیں پار کر رہے ہیں. اب ان بگھوڑوں کو پنجاب کے دل پر قابض کیا جارہا ہے. پنجاب کے لئے کہ زندگی اور موت کا وقت ہے. پنجابی اب بھی بیدار نہ ہوئے تو یقیین جانییے کل کو آپ کو اپنے شہروں سے ہی نکالا جائے گا. قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی کراچی میں 1986 میں ہونے والی نسل کشی ذہن میں رکھیے جب افغان مہاجرین نے سہراب گوٹھ آپریشن کا بدلہ لینے کے لئے نہتے لوگوں کا قتل عام کیا تھا. عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کی تھی, چھوٹے بچوں کے سر قلم کیے تھے اور زندہ آگ میں ڈالا تھا. کل کو حکومت ان پر کنڑول کی کوشش کرے گی یا پنجابی بیدار ہوں گے تو یہ پنجاب میں بھی خون کی ندیاں بہانے سے دریغ نہیں کریں گے. اہل پنجاب کے توسیع پنسدانہ عزائم نہیں ہم نے کسی کے علاقے پر حملہ کیا نہ قبضہ کیا نہ آبادکار ہوئے. ہم اپنے آباو اجداد کی زمین ہر ہیں. اور اس کا تحفظ کرنا ہمارا حق اور ہمارا فرض ہے. خدارا بیدار ہوئیے. اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کیجئے. پبجابی قوم پسندی اپنائیے. . حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کیجئے. ایجی ٹیشن منظم کیجئے, تحریک چلائیے. اپنے علاقے کے ایم.پی ایز تک پیغام پہنچائیے. وگرنہ آگ کا دریا پنجاب کی طرف رواں ہےجو پنجابیت کو جلا کر بھسم کردے گا. ......... لکھت: مخدوم عدیل عزیز *پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

 آگ کا دریا اور پنجاب


میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا. قلم کی حرمت کا پاس تھا. عجیب کشمکش کا شکار رہا کہ کہیں اس سے عصبیت کو ہوا نہ ملے. کہیں نفرتیں پروان نہ چڑھیں. میں نے آنکھیں موند لیں تو ذہن کے نہاں خانوں میں بارہ کڑوڑ پنجابی مزدور دہقان , محنت کش ہنر مند نظر آئے جن کی ماں بولی ان سے چھین لی گئی. جن کی تہذیب و ثقافت ختم کردی گئی اور اب منظم منصوبے کے تحت یہاں دیگر اقوام کے لوگ بسائے جارہے ہیں.دل کی تاروں نے ہاتھوں کو جنبش دی اور درد دل بیان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا.


میری دھرتی نے پچھلے ہزار سالوں مین شمال سے سینکڑوں حملے برداشت کیے ہیں. ہمارے شہر مٹا دیے گئے. تخت و تاج اچھالے گئے. کھڑی فصلیں لوٹ لی گئیں اور غلامی کی طویل رات میں پنجابی جکڑے رہے. پھر پہلی افغان جنگ کے بعد جو لاکھوں مہاجرین آئے. وہ اپنے ساتھ کلاشن, ہیروئن اور جرائم لائے. پنجاب کے گنڈاسے کلچر کی جگہ کلاشن متعارف ہوئی. دھرتی کے گبھرو جوان نشے کی لت میں پڑھ کر سسک سسک کر دم توڑتے رہے. سمگلنگ کے مال کی بہتات سے پنجابی تاجر کی کمر توڑ دی گئی.فرقہ ورانہ آگ لگائی گئی. لاکھوں مہاجرین نے شناختی کارڈ بنوا لیے کالے دھن کو سفید کیا اور شہروں میں بس کر صنعت و تجارت ہر قابض ہوگئے.


اور ایک بار پھر بیس ہزار مہاجر آنے کو ہیں. بھئی ہمارے درمیان مواخات مدینہ موجود نہیں ہے. وہ دارلکفر سے نہیں آرہے بلکہ اسلامی خالص حکومت سے بھاگ کر آرہے ہیں. یعنی امریکہ , بھارت اور اشرف غنی کے حمایتی قوم پرست ہیں جو پاکستان کے جھنڈے جلاتے رہے. جو عام پاکستانی کو نفرت و حقارت سے پنجابی کہا کرتے ہیں. جو پنجابیوں کو دال خور, کالے, رنجیت سنگھ کی اولاد اور ہیرا-- منڈی کی پیداوار کہتے ہیں. جو اٹک و چکوال تک پبجابی علاقے پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں. ایسے بدبخت لوگوں کو حکومت وقت سرکاری مہمان بنا کر پنجاب لارہی ہے.


ان کے لئے تین جامعات جن میں جی سی یو, یو ای ٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز شامل ہیں کہ کالا شاہ کاکو میں موجود سب کیمپسز خالی کروا لئے گئے ہیں طلبہ کو ہاسٹلز سے نکالا جارہا ہے, اساتذہ سے گھر خالی کروائے جارہے ہیں. آخر ہمارے طلبہ کا قصور کیا ہے جو ان کی پڑھائی روک دی گئی ہے. پشتون ولی روایات کے ہم تو پابند نہیں تو آخر پنجاب کا قصور کیا ہے جو ہم پر یہ عذاب مسلط کیا جارہا ہے. افغانستان کے حالات تو ٹھیک ہونے کا امکان نظر نہیں آتا نہ ان بیس ہزار لوگوں کو امریکہ و یورپ قبول کرے گا. تو یہ کیونکر کہیں اور جائیں گے یہ یہیں رہیں گے... آج بیس ہزارا آئے ہیں کل یہ لاکھوں اور بلا لیں گے. اور شناختی کارڈ بنوا لیں گے.


پنجاب پر ایک بار پھر یہ حملہ آور ہیں. پنجابیت دم توڑ رہی ہے. پنجاب کی ڈیمو گرافی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے. حالیہ عرصے میں ٹیکسلا, چکوال ,پنڈی اور اٹک میں یہ اپنی بستیاں بسا کر ظلم کی حدیں پار کر رہے ہیں. اب ان بگھوڑوں کو پنجاب کے دل پر قابض کیا جارہا ہے. پنجاب کے لئے کہ زندگی اور موت کا وقت ہے. پنجابی اب بھی بیدار نہ ہوئے تو یقیین جانییے کل کو آپ کو اپنے شہروں سے ہی نکالا جائے گا. قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی کراچی میں 1986 میں ہونے والی نسل کشی ذہن میں رکھیے جب افغان مہاجرین نے سہراب گوٹھ آپریشن کا بدلہ لینے کے لئے نہتے لوگوں کا قتل عام کیا تھا. عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کی تھی, چھوٹے بچوں کے سر قلم کیے تھے اور زندہ آگ میں ڈالا تھا. کل کو حکومت ان پر کنڑول کی کوشش کرے گی یا پنجابی بیدار ہوں گے تو یہ پنجاب میں بھی خون کی ندیاں بہانے سے دریغ نہیں کریں گے.


اہل پنجاب کے توسیع پنسدانہ عزائم نہیں

ہم نے کسی کے علاقے پر حملہ کیا نہ قبضہ کیا نہ آبادکار ہوئے. ہم اپنے آباو اجداد کی زمین ہر ہیں. اور اس کا تحفظ کرنا ہمارا حق اور ہمارا فرض ہے. خدارا بیدار ہوئیے. اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کیجئے. پبجابی قوم پسندی اپنائیے. . حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کیجئے. ایجی ٹیشن منظم کیجئے, تحریک چلائیے. اپنے علاقے کے ایم.پی ایز تک پیغام پہنچائیے. وگرنہ آگ کا دریا پنجاب کی طرف رواں ہےجو پنجابیت کو جلا کر بھسم کردے گا.

.........

لکھت: مخدوم عدیل عزیز


*پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان بنن توں باد متحدہ پاکستان دی سب توں وڈی قوم بنگالی تے دوجے نمبر تے وڈی قوم پنجابی نوں اقتدار , اختیار تے حق حکمرانی توں کداں محروم کیتا گیا؟؟؟ انگریز نیں جد جنگ عظیم توں باد آپنے معاشی مسئلیاں دی وجہ توں اے فیصلہ کرلیا کہ ھن ھندوستان چھڈنا اے تے اونھے ایس خطے وچ آپنے مفاداں دے تحفظ تے آپنے وظیفہ خور غدار ابن غداراں نوں حاکم بنان لئی ھندوستان نوں ونڈن دا پروگرام بنایا ، ھندوستان دے مسلماناں ولوں وکھرے ملکاں لئی چلن آلی تحریک جنھوں تحریک آزادی وی آکھیا جاندا اے تے اوس ویلے دی مقبول مسلم پارٹی مسلم لیگ نوں پاکستان بنن توں کج سال پہلاں ہائی جیک کیتا گیا ، آپنے وفادار تے وظیفہ خور غلام مسلم لیگ دے لیڈراں طور مسلط کیتے گئے تاں کہ ھندستان دی ونڈ توں باد ایس خطے وچ انگریز مفادات دے تحفظ دا ایجنڈا پورا ھو سکے ایس کم لئی سارے کردار غیر زمین زاد چنے گئے صرف محمد علی جناح نوں ایس خطے دے لوکاں نوں دھوکہ دین لئی کج وقت لئی اگے رکھیا گیا تے پاکستان بنن توں کج ای عرصے باد محمد علی جناح نوں آپنے غیر زمین زاد ایجنٹاں ذریعے قتل کرکے جناح ناں دی اک برائے ناں رکاوٹ وی دور کردتی گئی ، فاطمہ جناح تے تحریک پاکستان نال جڑے مخلص لوکاں نوں غدار قرار دے کے یاں دیس نکالا / جلاوطن کر دتا گیا یاں فاطمہ جناح وانگ زہر دے کے مار دتا گیا، اصولی طور تے پاکستان بنن توں باد متحدہ پاکستان دی سب توں وڈی قوم بنگالی دا گورنر جنرل، تے دوجے نمبر تے وڈی قوم پنجابی دا وزیراعظم تے تیجے نمبر دی وڈی قوم سندھی دا وزیر خزانہ تے چوتھے نمبر دی وڈی قوم براہوی دا وزیر خارجہ یاں ایس برابر دی کوئی اھم وزارت دے کے ، غیر زمین زاد قوماں ھندوستان وچوں پشتون ، بلوچ تے پاکستان بنن دے چار سال باد آکے مہاجر اکھوان آلیاں نوں وی حصہ دتا جاندا ، الٹا کم کیتا گیا گجراتی بولن تے سندھ وچ پیدا ھون آلے محمد علی جناح نوں وکھاوے لئی اگے رکھ کے پاکستان دی اوس ویلے دی آبادی وچ ادھے( %۰۵) پرسنٹ توں وی گھٹ حصہ رکھن آلے انگریز دے نسل در نسل وفادار (UP) والیاں دے نمائندے لیاقت علی خان نوں وزیراعظم بنا کے اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی تے فوج دی ہائی کمان جرنیل لیول تے سارے غیر زمین زاد تے انگریز دے نسل در نسل وفادار (UP) یونائیٹڈ پراونس انڈیا تے افغانی پشتوناں نوں مسلط کر دتا گیا . یاد رہوے کہ لیاقت علی خان دے دادے نواب احمد علی خان نیں ۱۸۵۷ دی جنگ آزادی دوران انگریز فوج دی اوس ویلے مدد کیتی جد انگریز کرنال وچ جنگ ہار رہیا سی ، (حوالہ لیپل گریفن پنجاب چیفس جلد اول ) لیاقت علی دے پیو نواب رستم علی خان نوں انگریز سرکار نیں رکن الدولہ ، شمشیر جنگ تے نواب بہادر دے خطاب دتے ھوئے سن وجہ آپنیاں نال غداری تے زمین جائیداد دے لالچ وچ انگریز دی وفاداری سی ، انگریز سرکار ایناں دی مسلماناں نال غداری توں ایناں خوش سی کہ انگریز افسر سرکاری دورے دوران UP مظفر نگر وچ ایناں مادر فروشاں دی حویلی وچ قیام کردے سن . انگریز دے وفادار لیاقت علی خان نیں انگریز نال وفاداری دے ثبوت دے طور تے انگریز دے زیر عتاب صوبے پنجاب دی اسمبلی سسپینڈکرکے آپنے ھم نوالہ تے ھم پیالہ انگریزدے غلام پشتون نواب افتخار ممدوٹ نوں وزیراعلی بنا دتا ، کیوں جے پنجاب اسمبلی دے پنجابی ایم پی اے وکاؤ مال نئیں بنے پنجاب اسمبلی توڑ کے گورنر راج لایا گیا تے اک ھور انگریز دے غلام تے وفادار پشتون عبدالرب نشتر نوں گورنر بنا دتا گیا تاں کہ پنجابی قوم اپر پشتون حکومت کردے رہن ، تے باقی قوماں بنگالی ،سندھی ،بلوچ ، پشتون ، براہوی نوں اونھاں دی محرومی تے غربت دا ذمہ وار پنجابی نوں قرار دے کے پنجابی خلاف پروپیگنڈہ کرن تے الزام تراشی گالاں کڈن تے لا دتا . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int