پنجابی نسل کشی (Genocide) عزیزان گرامی حقائق کا ادراک (percetion) بہت ضروری ہے مگر بد قسمتی سے پٹھان کرد اسٹیبلشمنٹ جو ریاست پر قابض ہیں ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔بلوچستان اور سندھ میں کرد بلوچ و پٹھان استعمار کے ہاتھوں پنجابیوں کا قتل عام علاقوں سے جبری بے دخلی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں. حتی کے اس بات کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ھے ۔ ریاست سے سوال ھے کہ وہ مظلوم پنجابیوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں رہی اور ھے ؟؟؟ جن لوگوں کے عزیز و اقارب بچے عورتیں سندھ بلوچستان کے پی کے میں پنجابی ھونے کے جرم میں قتل ہوئے جائیداد پر قبضے ھوئے اور بچے کھچے پنجاب بدر کئے گئےانھیں تحفظ اور حقوق دینا کس کی ذمہ داری تھی اور ھے ؟؟؟ ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بدلہ فطرت انسانی ھے انسان اپنے عزیزوں اور پیاروں کے قتل کو نہیں بھولتا خاص طور پر جب قاتل اور غاصب کرد، پٹھان استعمار کی صورت میں پنجاب میں موجود ھو میری جتنے بھی ایسے لوگوں سے بات ھوئی وہ موقع کے انتظار میں بیٹھے ہیں ایسی صورتحال میں اداروں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور متاثرہ پنجابیوں کی داد رسی کرنی چاہیے تھی مگر ہوا الٹ اداروں نے پٹھان اور کرد سامراج کو ریاست پر مسلط کر کے مظلوم پنجابیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی حتی کے پنجاب پر بھی بکسہ چوری کرکے کرد بھگوڑا بلوچ مسلط کیا گیا یہ حقائق ہیں اور ریاست ان سے چشم پوشی کرکے تباھی کے راستے پر گامزن ھے ۔ پنجاب کی تقسیم کا شوشہ چھوڑ کر ادارے حالات کو پوائنٹ أف نو ریٹرن کی طرف دھکیل چکے ہیں ۔ایسے پالیسی میکر کے ہوتے ہوے ہمیں بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں . متقدر حلقوں اور اقتدار کی سنگھاسن پر براجمان فرعونوں ھوش کے ناخن لو کہیں پانی سر سے اونچا نہ ھو جائے اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین ڈاکڑ زولفقار راجپوت PGF Int.(Punjabi Graduates forum international)

 پنجابی نسل کشی (Genocide)                       


    عزیزان گرامی حقائق کا ادراک (percetion) بہت ضروری ہے مگر بد قسمتی سے پٹھان کرد اسٹیبلشمنٹ جو ریاست پر قابض ہیں ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔بلوچستان اور سندھ میں کرد بلوچ و پٹھان استعمار کے ہاتھوں پنجابیوں کا قتل عام علاقوں سے جبری بے دخلی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں.


حتی کے اس بات کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ھے ۔

 

ریاست سے سوال ھے کہ وہ مظلوم پنجابیوں کو تحفظ دینے میں ناکام کیوں رہی اور ھے ؟؟؟


جن لوگوں کے عزیز و اقارب بچے عورتیں سندھ بلوچستان کے پی کے میں پنجابی ھونے کے جرم میں قتل ہوئے جائیداد پر قبضے ھوئے اور بچے کھچے پنجاب بدر کئے گئےانھیں تحفظ اور حقوق دینا کس کی ذمہ داری تھی اور ھے ؟؟؟ ۔


 بات یہیں ختم نہیں ہوتی بدلہ فطرت انسانی ھے انسان اپنے عزیزوں اور پیاروں کے قتل کو نہیں بھولتا خاص طور پر جب قاتل اور غاصب کرد، پٹھان استعمار کی صورت میں پنجاب میں موجود ھو میری جتنے بھی ایسے لوگوں سے بات ھوئی وہ موقع کے انتظار میں بیٹھے ہیں


ایسی صورتحال میں اداروں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور متاثرہ پنجابیوں کی داد رسی کرنی چاہیے تھی مگر ہوا الٹ اداروں نے پٹھان اور کرد سامراج کو ریاست پر مسلط کر کے مظلوم پنجابیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی حتی کے پنجاب پر بھی بکسہ چوری کرکے کرد بھگوڑا بلوچ مسلط کیا گیا

یہ حقائق ہیں اور ریاست ان سے چشم پوشی کرکے تباھی کے راستے پر گامزن ھے ۔


 پنجاب کی تقسیم کا شوشہ چھوڑ کر ادارے حالات کو پوائنٹ أف نو ریٹرن کی طرف دھکیل چکے ہیں ۔ایسے پالیسی میکر کے ہوتے ہوے ہمیں بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں .

متقدر حلقوں اور اقتدار کی سنگھاسن پر براجمان فرعونوں ھوش کے ناخن لو کہیں پانی سر سے اونچا نہ ھو جائے  

 

اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین                    


        ڈاکڑ زولفقار راجپوت

PGF Int.(Punjabi Graduates forum international)




Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟