««اک سندھی بھرا دی پنجابی لئی محبت بھری پوسٹ تے میرا جواب »» جی ہاں پنجابی غاصب ھے سامراج ھے اور باقی قوموں سے محبت نہیں کرتا ، اسی لئے ، پنجاب کا وزیراعلی بلوچ ھے اور وہ پنجاب کے ٹکڑے کرنا بھی چاھتا ھے ، پاکستان کا وزیراعظم پنجاب میں رھنے والا پٹھان ھے اور وہ میڈیا کے سامنے پنجابیوں کو بیوقوف کہتا ھے ، پنجاب کا وزیرتعلیم مردار راس ایک ھندی بولنے والا مہاجر ھے جو پنجابی زبان کو میڈیا پر چھوٹی سی زبان کہتا ھے اس کے علاوہ بھی پنجابی کے دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عدم برداشت کے بہت سے ثبوت ھیں ، پنجابی دوسری قوموں کو برداشت نہیں کرتا تب ھی، ساری قومیں پٹھان بلوچ مہاجر سندھی بڑے سکون اور امن کے ساتھ پنجاب کے کسی بھی کونے میں رہ ، گھوم کما اور نوکری کر سکتے ھیں جبکہ پنجابی کیلئے بلوچستان نو گو ایریا ھے سندھ میں دوسرے درجے کے شھری کا سلوک کیا جاتا ھے آئے دن زمین جائیداد پر قبضے حملے قتل کی خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ھوتی ھیں کے پی کے میں بیچ چوراہے پر ہر ایلا میلا پنجاب پنجابی کو گالی دیتا ھے اور کے پی کے میں آنے کیلئے پنجابی کو ویزہ لینے کا کہتا ھے ، سندھی ساری قوموں سے بہت محبت کرتے ھیں اسی لئے آج تک پنجابی کو سندھ میں دوسرے درجے کے شھری کا سلوک ملتا ھے پشتون پنجابیوں سے ٹوٹ کر محبت کرتے ھیں اسی لئی محبت میں ھیرا منڈی اور رنجیت کی اولاد کہتے ھیں اور محبت میں ویزہ لے کے پی کے آنے کا بولتے ھیں اور خود پنجاب میں بیفکر رھتے کماتے کھاتے اور قبضہ گیری کرتے ھیں . بلوچ کی محبت تو ان سب سے بڑھ کر ھے پنجاب میں بلوچ وزیراعلی بنانے کا احسان یہ بلوچستان کو پنجابی کیلئے نو گو ایریا بنا کر دیتے ھیں بسوں سے اتار کر شناخت کرکے ایک ایک وقت میں درجن سے زائد غریب نہتے مزدوروں کو قتل کرکے اتارتے اور پنجابی سے محبت کا ثبوت دیتے ھیں صرف پنجابی ھی دوسری قوموں کو برداشت نہیں کرتے جبھی کراچی بلوچستان کے پی کے سے ملنے والی پنجابیوں کی لاشوں گالیوں اور الزامات کے جواب میں پنجاب میں موجود پشتون مہاجر بلوچ سندھی کو اف تک نہیں کہتے واقعی یہ حد سے بڑھی ھوئی زیادتی ھے پنجاب پنجابی کی ، جیسے کو تیسے جیسا بے لوث اور عظیم پیار دینا چاھئیے پنجابی کو ..

 ««اک سندھی بھرا دی پنجابی لئی محبت بھری پوسٹ تے میرا جواب »»


جی ہاں پنجابی غاصب ھے سامراج ھے اور باقی قوموں سے محبت نہیں کرتا ، اسی لئے ،

پنجاب کا وزیراعلی بلوچ ھے اور وہ پنجاب کے ٹکڑے کرنا بھی چاھتا ھے ،

پاکستان کا وزیراعظم پنجاب میں رھنے والا پٹھان ھے اور وہ میڈیا کے سامنے پنجابیوں کو بیوقوف کہتا ھے ،

پنجاب کا وزیرتعلیم مردار راس ایک ھندی بولنے والا مہاجر ھے جو پنجابی زبان کو میڈیا پر چھوٹی سی زبان کہتا ھے اس کے علاوہ بھی پنجابی کے دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عدم برداشت کے بہت سے ثبوت ھیں ،

پنجابی دوسری قوموں کو برداشت نہیں کرتا تب ھی،

 ساری قومیں پٹھان بلوچ مہاجر سندھی بڑے سکون اور امن کے ساتھ پنجاب کے کسی بھی کونے میں رہ ، گھوم کما اور نوکری کر سکتے ھیں جبکہ پنجابی کیلئے بلوچستان نو گو ایریا ھے سندھ میں دوسرے درجے کے شھری کا سلوک کیا جاتا ھے آئے دن زمین جائیداد پر قبضے حملے قتل کی خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ھوتی ھیں کے پی کے میں بیچ چوراہے پر ہر ایلا میلا پنجاب پنجابی کو گالی دیتا ھے اور کے پی کے میں آنے کیلئے پنجابی کو ویزہ لینے کا کہتا ھے ،

سندھی ساری قوموں سے بہت محبت کرتے ھیں اسی لئے آج تک پنجابی کو سندھ میں دوسرے درجے کے شھری کا سلوک ملتا ھے

پشتون پنجابیوں سے ٹوٹ کر محبت کرتے ھیں اسی لئی محبت میں ھیرا منڈی اور رنجیت کی اولاد کہتے ھیں اور محبت میں ویزہ لے کے پی کے آنے کا بولتے ھیں اور خود پنجاب میں بیفکر رھتے کماتے کھاتے اور قبضہ گیری کرتے ھیں .

بلوچ کی محبت تو ان سب سے بڑھ کر ھے پنجاب میں بلوچ وزیراعلی بنانے کا احسان یہ بلوچستان کو پنجابی کیلئے نو گو ایریا بنا کر دیتے ھیں بسوں سے اتار کر شناخت کرکے ایک ایک وقت میں درجن سے زائد غریب نہتے مزدوروں کو قتل کرکے اتارتے اور پنجابی سے محبت کا ثبوت دیتے ھیں

صرف پنجابی ھی دوسری قوموں کو برداشت نہیں کرتے جبھی کراچی بلوچستان کے پی کے سے ملنے والی پنجابیوں کی لاشوں گالیوں اور الزامات کے جواب میں پنجاب میں موجود پشتون مہاجر بلوچ سندھی کو اف تک نہیں کہتے واقعی یہ حد سے بڑھی ھوئی زیادتی ھے پنجاب پنجابی کی ، 

جیسے کو تیسے جیسا بے لوث اور عظیم پیار دینا چاھئیے پنجابی کو ..



Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟