نور الہدی شاہ ٢٢ جولای ١٩۵٢ کو حیدر آباد میں پیدا ھوئیں ابتدائی تعلیم حیدرآباد اور اعلیٰ تعلیم سندھ یونیورسٹی سے حاصل کی ، متحرک سندھی قوم پرست ھیں،اپنے نام کے ساتھ شاہ لکھتی ھیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سید ھو کر سندھ کے حقوق کے بارے میں اتنی فکر مند کیوں ہیں تو آپ نے تاریخی جواب دیا کہ جب جی ایم سید کو سندھی اپنا والد محترم تسلیم کرسکتے ہیں تو مجھ میں کیا کمی ھے . آپ نے بہت سے ڈرامہ بھی لکھے جن میں سندھی وڈیروں کے سماٹ سندھیوں پر ظلم وجبر کو اجاگر کیا گیا مگر عملی زندگی میں ان وڈیروں کی حمایت کرتی نظر آتی ھیں ۔ اسی طرح انھیں پٹھان سامراج اور کرد نزاد قبضہ گیر فیوڈلز سے بھی دلی ھمدردی اور عقیدت ھے اور فیس بک پر ان کی حمایت میں بہت سرگرم کمپین بھی چلاتی ھیں ، آرمی پر کھل کر تنقید کرتی ھیں لیکن یہ بھول جاتی ھیں کہ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے جن بلنڈرز پر وہ تنقید کر رھی ھیں وہ بلنڈر پچھلے ستر سال سے آرمی اور اسٹیبلشمنٹ پر قابض پٹھان اور اردو مافیا نے کئے ، پٹھان اور اردو مافیا آرمی میں اپنی آبادی سے تین سے سات گنا زیادہ ھیں اور فیصلہ کن پوزیشنوں پر ھیں ، اس مسئلے پر یہ کچھ فرمانے کی بجائے چپ کا روزہ رکھ لیتی ھیں .. حیرت انگیز طور پر انھوں نے کبھی کھل کر الطاف اور اسکی مافیا کے سندھی اور پنجابی عوام کے قتل بوری بند لاشوں اور املاک کے نقصان پر لب کشائی نہیں کی شاید بوری بند مافیا کے ڈر سے ، لیکن پنجاب اور پنجابی پر کھل کر تنقید اور الزامات لگاتی ھیں بی ایل اے کے دہشت گردوں کی لاشوں جو آرمی اور فورسز پر حملے میں مارے جائیں دیکھ کر انھیں بلال حبشی رض یاد آجاتے ھیں لیکن بلوچستان میں بسوں سے شںاخت کرکے اتار کر ھاتھ پیر اور آنکھیں باندھ کر مارے گئے بیگناہ پنجابی مزدوروں کی لاشوں کو دیکھ کر نہ انھیں کچھ یاد آتا اور کچھ بولنا گوارا کرتی کیونکہ یہ عربی بلوچ قبضہ گیر استعمار کے مفاد کے خلاف ھے. وہ یہ تو فرما دیتی ھیں ‏مت بھولو کہ بنگلہ دیش کیوں اور کیسے بنا تھا یہ بھی یاد رکھو کہ آگ تم نے ابھی بھی بجھائی نہیں ھے چنگاریاں ابھی بھی بھڑک بھڑک اٹھتی ہیں تم ابھی بھی چنگاریوں کو شعلہ بنا رھے ھو لیکن پچھلے ستر سالوں میں جو سندھ کے پنجابیوں پر جو ظلم و جبر ھوا کسی اور کے کئے گناھوں کی سزا سندھ کے پنجابیوں کو دی گئی ، بینظیر کے قتل پر سندھ میں ھونے والے پنجابیوں کے جانی مالی نقصان پر بھی یہ کچھ بولنے اور لکھنے کی زحمت نہیں کرتیں نہ انھیں بلال حبشی یاد آتے ھیں نہ انسانیت .... افسوس *Afzal Punjabi* PGF Int.(Punjabi Graduates Forum International) Rajpoot Zulfiqar

نور الہدی شاہ 


  ٢٢ جولای ١٩۵٢ کو حیدر آباد میں پیدا ھوئیں ابتدائی تعلیم حیدرآباد اور اعلیٰ تعلیم سندھ یونیورسٹی سے حاصل کی ، متحرک سندھی قوم پرست ھیں،اپنے نام کے ساتھ شاہ لکھتی ھیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سید ھو کر سندھ کے حقوق کے بارے میں اتنی فکر مند کیوں ہیں تو آپ نے تاریخی جواب دیا کہ جب جی ایم سید کو سندھی اپنا والد محترم تسلیم کرسکتے ہیں تو مجھ میں کیا کمی ھے .


آپ نے بہت سے ڈرامہ بھی لکھے جن میں سندھی وڈیروں کے سماٹ سندھیوں پر ظلم وجبر کو اجاگر کیا گیا مگر عملی زندگی میں ان وڈیروں کی حمایت کرتی نظر آتی ھیں ۔

 اسی طرح انھیں پٹھان سامراج اور کرد نزاد قبضہ گیر فیوڈلز سے بھی دلی ھمدردی اور عقیدت ھے اور فیس بک پر ان کی حمایت میں بہت سرگرم کمپین بھی چلاتی ھیں ، آرمی پر کھل کر تنقید کرتی ھیں لیکن یہ بھول جاتی ھیں کہ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے جن بلنڈرز پر وہ تنقید کر رھی ھیں وہ بلنڈر پچھلے ستر سال سے آرمی اور اسٹیبلشمنٹ پر قابض پٹھان اور اردو مافیا نے کئے ، پٹھان اور اردو مافیا آرمی میں اپنی آبادی سے تین سے سات گنا زیادہ ھیں اور فیصلہ کن پوزیشنوں پر ھیں ، اس مسئلے پر یہ کچھ فرمانے کی بجائے چپ کا روزہ رکھ لیتی ھیں ..


حیرت انگیز طور پر انھوں نے کبھی کھل کر الطاف اور اسکی مافیا کے سندھی اور پنجابی عوام کے قتل بوری بند لاشوں اور املاک کے نقصان پر لب کشائی نہیں کی شاید بوری بند مافیا کے ڈر سے ، لیکن پنجاب اور پنجابی پر کھل کر تنقید اور الزامات لگاتی ھیں 


بی ایل اے کے دہشت گردوں کی لاشوں جو آرمی اور فورسز پر حملے میں مارے جائیں دیکھ کر انھیں بلال حبشی رض یاد آجاتے ھیں لیکن بلوچستان میں بسوں سے شںاخت کرکے اتار کر ھاتھ پیر اور آنکھیں باندھ کر مارے گئے بیگناہ پنجابی مزدوروں کی لاشوں کو دیکھ کر نہ انھیں کچھ یاد آتا اور کچھ بولنا گوارا کرتی کیونکہ یہ عربی بلوچ قبضہ گیر استعمار کے مفاد کے خلاف ھے.


وہ یہ تو فرما دیتی ھیں 

‏مت بھولو کہ بنگلہ دیش کیوں اور کیسے بنا تھا

یہ بھی یاد رکھو کہ آگ تم نے ابھی بھی بجھائی نہیں ھے

چنگاریاں ابھی بھی بھڑک بھڑک اٹھتی ہیں

تم ابھی بھی چنگاریوں کو شعلہ بنا رھے ھو


لیکن پچھلے ستر سالوں میں جو سندھ کے پنجابیوں پر جو ظلم و جبر ھوا کسی اور کے کئے گناھوں کی سزا سندھ کے پنجابیوں کو دی گئی ، بینظیر کے قتل پر سندھ میں ھونے والے پنجابیوں کے جانی مالی نقصان پر بھی یہ کچھ بولنے اور لکھنے کی زحمت نہیں کرتیں نہ انھیں بلال حبشی یاد آتے ھیں نہ انسانیت .... افسوس


*Afzal Punjabi*

PGF Int.(Punjabi Graduates Forum International)

Rajpoot Zulfiqar 






Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟