««بہاول پور... تاریخ کے آئینے میں»» ریاست بہاول پور کی بنیاد 1727ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اوّل نے رکھی اور تحصیل لیاقت پور کا قصبہ، اللہ آباد اس کا پہلا دارالحکومت قرار پایا۔

 ««بہاول پور... تاریخ کے آئینے میں»»


ریاست بہاول پور کی بنیاد 1727ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اوّل نے رکھی اور تحصیل لیاقت پور کا قصبہ، اللہ آباد اس کا پہلا دارالحکومت قرار پایا۔ قبلِ ازیں1258ء میں مشہور تاتاری فاتح، چنگیز خان کے بیٹے ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے بعد عباسی شہزادوں نے سندھ کا رُخ کیاتھا۔ امیر چنی خان عباسی کو اکبراعظم کے بیٹے سے پنج ہزاری کا منصب ملا تو اُسے اوباڑو سے لاہوری بندر تک کا خطّہ اجارے پر دے دیا گیا۔ بعدازاں، امیرچنی خان کی اولاد میں مہدی خان اور دائود خان کے خاندانوں میں جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا، تومقامی قبائل نے مہدی خان کی نسل کا، جو کلہوڑے کہلاتے تھے اور صدیوں سندھ پر حکمرانی کی، بھرپور ساتھ دیا، جب کہ عرب قبائل نے دائود خان کا ساتھ دیا، جو ’’دائود پوتا عباسی‘‘ کہلاتے تھے۔ واضح رہے کہ ریاست بہاول پور کے بانی، نواب صادق محمد خان عباسی اوّل، امیر دائود خان کی تیرہویں پشت سے تھے۔ عباسی دائود پوتوں نے صادق آباد، خان پور، منچن آباد، شہر فرید، اوچ سمیت ریاست جیسلمیر اور بیکانیر، کلہوڑوں سے چھین کر فتح حاصل کی اور موجودہ ریاست بہاول پور کی بنیاد رکھی۔ نواب صادق محمد خان عباسی اوّل نے 1739ء میں نادر شاہ درّانی سے نواب کا خطاب حاصل کیا۔ اس طرح اس کی حکمرانی موجودہ ریاست بہاول پور کے علاوہ شکارپور، لاڑکانہ، سیوستان، چھتار وغیرہ کے علاقوں تک قائم ہوگئی۔ نواب صادق محمدخان عباسی کے صاحب زادے، نواب بہاول خان عباسی اوّل نے 1774ء میں دریائے ستلج کے جنوب میں ایک نئے شہر ،بہاول پور کی بنیاد رکھی۔

 نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی30 ستمبر 1904ء کو پیدا ہوئے، وہ نواب حاجی محمد بہاول خان خامس عباسی کے اکلوتے فرزند تھے۔ جب وہ دو برس کے تھے، تو والد کے ساتھ سفرِ حج پر گئے، لیکن واپسی پر دورانِ سفر ان کے والد نواب بہاول خان کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد 15مئی1907ء کو سر صادق کو ریاست کا حکمران مقرر کرنے کا اعلان کردیا گیا، مگر چوں کہ نواب صادق محمد خان بہت کم سِن تھے، لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت اور ریاست کے انتظام و انصرام کے لیے حکومتِ برطانیہ نے آئی سی ایس آفیسر، سر رحیم بخش کی سربراہی میں کائونسل آف ریجینسی قائم کردی۔ نواب صاحب نے ابتدائی تعلیم اُس وقت کی نام وَر علمی شخصیت، علاّمہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی۔ 3 برس کی عمر میں تخت نشین ہونے والے شہزادے کی شخصیت کے نکھار کے لیے، انہیں دنیاوی تعلیم کے ساتھ مذہبی اور اعلیٰ انتظامی و عسکری تربیت بھی دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 1911ء میں وہ صرف سات برس کی عمر میں فوج کی کمان کرتے ہوئے شہنشاہِ برطانیہ، جارج پنجم کے سامنے پیش ہوئے۔


ریاست بہاول پور میں صادق گڑھ پیلس اور صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) کی لائبریریز نادر و نایاب کتب کے حوالے سے مشہور ہیں۔ سرصادق دنیا بھر سے اہم کتاب کے تین نسخے منگواتے، اور ایک نسخہ صادق ریڈنگ لائبریری (سینٹرل لائبریری)، دوسرا صادق گڑھ پیلس اور تیسرا صادق ایجرٹن کالج کی لائبریری میں رکھاجاتا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست بہاول پور میں علم وادب کی کس قدر سرپرستی کی جاتی تھی۔ نواب صاحب مرحوم اور ان کے پیش روئوں نے ہمیشہ تعلیم کی ترویج کے لیے اقدامات کیے۔نواب سر صادق نے1925ء میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دینی مدرسے، صدر دینیات کو ترقی دے کر جامعۃ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ قائم کیا۔ یہ پورے برصغیر میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ تھا، جہاں طلبہ، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و اساتذہ سے اکتسابِ فیض کرتے۔ جامعہ عباسیہ میں دینی و مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ ریاضی، انگریزی اور سائنس کی بھی تعلیم دی جاتی۔ اس کے علاوہ طبِ یونانی کی تعلیم کے لیے 1926ء میں جامعہ عباسیہ کا ذیلی ادارہ، ’’طبیّہ کالج‘‘ قائم کیا گیا، جو آج بھی پنجاب کا واحد سرکاری طبیّہ کالج ہے۔


نواب سر صادق مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ، ایچی سن کالج کی طرز پر1954ء میں صادق پبلک اسکول جیسے اعلیٰ معیاری ادارے کا قیام ہے۔ مذکورہ ادارے کے لیے نواب صاحب نے اپنی 450ایکڑ ذاتی زمین دینے کے علاوہ، تعمیرکی مَد میں مطلوبہ فنڈزبھی فراہم کیے۔ قبلِ ازیں، قیام پاکستان سے پہلے 1928ء میں ستلج ویلی پراجیکٹ کا بھی افتتاح کیا، جس کے تحت دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمان کی، ہیڈاسلام اور ہیڈپنجند تعمیر کرکے پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھاکر غیر آباد زمینوں کی آبادکاری کے لیے مختلف علاقوں سے آبادکاروں کو ریاست میں آباد ہونے کی ترغیب دی گئی۔ نئی منڈیاں قائم کرکے ہارون آباد، فورٹ عباس، حاصل پور، چشتیاں، یزمان، لیاقت پور اور صادق آباد جیسے شہر بسائے گئے۔ یہیں سے نواب سر صادق اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے درمیان لازوال دوستی کا رشتہ بھی قائم ہوا۔ ریاست کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات نے (یونینسٹ رہنما) جب ریاست کے خلاف درپردہ سازش کا آغاز کیا، تو ریاست کے اُس وقت کے وزیر داخلہ اور نواب مرحوم کے اتالیق، مولوی غلام حسین قریشی مرحوم نے اس سازش کو بے نقاب کیا اور نواب مرحوم کو اپنے قانونی مشیر سے مشورہ لینے کو کہا۔اس مقدمے کی پیروی اُس وقت کے ریاست کے قانونی مشیر، قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کی اور مقدمے کا فیصلہ بہاول پور کے حق میں ہوا۔ 1930ء میں سر صادق نے ریاست کپور تھلہ میں جامع مسجد تعمیر کروائی اور مہاراجہ کپور تھلہ کی فرمایش پر خود اس کا افتتاح کیا۔ 3 دسمبر 1930ء کو سر راس مسعود (وائس چانسلر) کی دعوت پر مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے سالانہ کانووکیشن کی صدارت کی اور ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم بہ طور عطیہ دی۔1908ء میں ندوۃالعلماء، لکھنو ٔکے لیے نواب صاحب کی والدہ محترمہ کی طرف سے دی جانے والی پچاس ہزار روپے کی مالی امداد کے جواب میں علامہ شبلی نعمانی نے شکریے کا خط تحریر کیا، جو محافظ خانہ (محکمہ دستاویزات) بہاو ل پور میں محفوظ ہے۔ پنجاب یونی ورسٹی اولڈ کیمپس کا سینیٹ ہال (جہاں اِس وقت یونی ورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم ہے) سرصادق ہی نے تعمیر کروایا۔ عمارت کی پیشانی پر نواب صاحب کے نام کی تختی آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کابہاول پور بلاک اور ایچی سن کالج کا بورڈنگ ہائوس نواب سر صادق ہی کی یادگاریں ہیں۔


27 فروری 1934ء کو نواب صاحب کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں رجسٹرار، پنجاب یونی ورسٹی، ڈاکٹر وُلز نے بہ طورِ خاص بہاول پور آکر صادق گڑھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں انہیں ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری تفویض کی۔ 1935ء میں زلزلہ زدگان کے لیے ایک امدادی ٹرین کوئٹہ روانہ کی اور اسی سال فریضہ ٔ حج کی ادائیگی کے لیے تقریباً ایک سو افراد کو اپنے ساتھ لے کرگئے۔ سامان کے لیے جو فوجی گاڑیاں اور موٹرکاریں بحری جہاز پر ساتھ لے گئے، سب سعودی حکومت کو بہ طور تحفہ دے دیں۔ مسجدِ نبویؐ میں قیمتی فانوس لگوائے اور اسی سال جولائی میں جامع مسجد دہلی کی طرز پر ’’جامع مسجد الصادق‘‘ کی ازسرِ نو تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا، جس کا شمار اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد میں ہوتا ہے۔

ریاست میں ماہرینِ علم وفن، ادبا، شعراء اور علماء کی قدردانی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرشیخ عبدالقادر (مدیرِ مخزن) 1942ء سے 1946ء تک بغداد، الجدید ہائی کورٹ، بہاول پورکے چیف جسٹس رہے۔ ابوالاثر حفیظؔ جالندھری بہ طور درباری شاعر، بہاول پور میں طویل عرصے ملازم رہے۔1943ء میں نواب سر صادق کی سرپرستی اور سر عبدالقادر کی صدارت میں صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) میں آل انڈیا مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس کی تین نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں برصغیر کے طول و عرض سے نام وَر شعرائے کرام نے شرکت کی۔ نواب سر صادق کے مطابق، دبیر الملک الحاج عزیز الرحمٰن عزیزؔ نے پہلی بار سرائیکی کے قادر الکلام صوفی شاعر، حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام ’’دیوانِ فرید‘‘ ترجمے اور تشریح کے ساتھ 1942ء میں شایع کیا۔ ریاست کے طول و عرض میں موجود بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کے مزارات کی تعمیر اور مرمّت کی گئی۔ 1950ء میں صادق ایجرٹن کالج میں عالمی سائنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے سائنس دانوں نے شرکت کی۔ اس موقعے پر ایک سائنسی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔1952ء میں پیرا میڈیکل اسکول، نرسنگ اسکول اور ایل ایس ایم ایف کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ اسی سال علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی سربراہی میں ریاست میں تعلیمی اصلاحات اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا۔ بہاول پورمیں ترویجِ اسلام کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا، اس حوالے سے اُس وقت کے حکمراں، اسلامی اصول و ضوابط پر سختی سے کاربند تھے،بلکہ شہریوں کو بھی خصوصی مراعات دیتے تھے۔ حج کے موقعے پر حاجیوں کوتین ماہ کی چھٹی مع ایڈوانس تن خواہ دی جاتی۔ بہاول پور حکومت کی طرف سے مکّے اور مدینے میں سرائے موجود تھیں، جہاں بہاول پور کے حجاج کے لیے مفت رہائش اور خوراک کا انتظام ہوتا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تمام مساجد میں حکومت کی طرف سے مرمّت اور سفیدی کروائی جاتی۔ اسی طرح ہندوئوں اور سکھوں کو بھی اپنے مذہبی تہواروں پر مسلمانوں کی طرح مساوی حقوق حاصل تھے۔ دورانِ تعلیم وفات پاجانے والے ملازمین کی بیواؤں اورنابالغ بچّوں کی کفالت کے لیے پینشن مقرر کی جاتی ۔ بہاول پور اور ڈیرہ نواب صاحب میں قائم یتیم خانے میں مفت رہائش اور خوراک کے علاوہ ذہین طلبہ کو وظائف بھی دیئے جاتے۔ واضح رہے کہ اردو اور سرائیکی کے معروف شاعر اور ادیب، پروفیسر عطا محمد دلشاد کلانچوی، ٹیکنیکل ہائی اسکول کے سابق پرنسپل، عبدالقادر جوہرؔ اور متعدد مشاہیر نے اسی یتیم خانے میں پرورش پائی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے خصوصی وزارت قائم کرکے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقے سے آباد کیا گیا۔الغرض، ریاست بہاول پور صحیح معنوں میں ’’دارالسرور‘‘ تھی۔1867ء میں محکمۂ صحت کی بنیاد رکھی گئی اوربرطانوی ڈاکٹر Mr.Deane کو انچارج مقرر کیا گیا۔ جس کی نگرانی میں پوری ریاست میں ڈیسپنسریز قائم کی گئیں۔ نواب صادق محمد خان چہارم کے عہد تک چوک بازار میں ایک مرکزی اقامتی اسپتال کے علاوہ 1906ء میں بہاول وکٹوریہ اسپتال قائم کیا گیا، جس کے لیے برطانوی حکومت نے خصوصی مالی امداد فراہم کی۔ ملکہ وکٹوریہ کے دورِ اقتدار کی گولڈن جوبلی کی یادگار کے طور پر 1892ء میں اندرونِ شہر مفت ’’جوبلی زنانہ اسپتال‘‘ قائم کیا گیا، جو آج بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں، بہاول نگر اور احمدپور شرقیہ میں بھی خواتین کے علاج معالجے کے لیے اسپتال قائم کیے گئے۔ یعنی پوری ریاست میں اسپتالوں اور ڈیسپنسریز کا ایسا جال بچھا دیا گیا،جہاں نہ صرف مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جاتیں بلکہ مریضوں کو خوراک بھی مہیا کی جاتی تھی۔ پھر یہاں تعینات ڈاکٹرز، نرسز، ڈیسپنسرز اور حکماء کو ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت بہتر معاوضہ اور مراعات دی جاتیں۔ طبِ یونانی کی ترویج کے لیے ریاست کے شہروں میں متعدد شفاخانے بھی قائم کیے گئے۔ مشہور ناول نگار، بشریٰ رحمٰن کے والد، حکیم عبدالرشید کو اس منصوبے کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ سر صادق کے دور میں شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ کا مفت معائنہ کیا جاتا۔ اسلامی روایات کی علَم بردار، ریاست بہاول پور میں ننگے سر پھرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ترکی ٹوپی درباری لباس (یونی فارم) کا اہم حصّہ تھی اور سرخ یا کلیجی رنگ کی ترکی ٹوپی پہننے کا رواج عام تھا۔ فوجی وردی کے ساتھ خاکی رنگ کی ترکی ٹوپی استعمال کی جاتی، جس پر ریاست کا پیلیکن والا سرکاری مونو گرام ہوتا تھا۔ روایات کی پابندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ وزیراعظم، کرافٹن اور کرنل ڈرنگ بھی جب نواب صاحب کے سامنے پیش ہوتے، تو ترکی ٹوپی ضرور پہنتے تھے۔ کرافٹن کی کار میں ترکی ٹوپی کا ڈبّا ہر وقت موجود رہتا، وہ جیسے ہی صادق گڑھ پیلس میں داخل ہوتے، فلیٹ ہیٹ اتار کر ترکی ٹوپی پہن لیتے۔

تقسیمِ برصغیر کے وقت انڈین نیشنل کانگریس اور جواہر لعل نہرو کی طرف سے نواب سرصادق کو خصوصی آفر کی گئی کہ وہ اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان سے کردیں، تو نواب صاحب نے اس موقعے پر یہ تاریخی جملہ کہا کہ’’میرا سامنے کا دروازہ پاکستان اور پچھلا ہندوستان میں کھلتا ہے اور ہر شریف آدمی اپنے سامنے کے دروازے سے آمدروفت پسند کرتا ہے۔‘‘جب کہ اگست 1947ء میں (قیامِ پاکستان کے وقت) نواب سر صادق نے سب سے پہلے ریاست بہاول پور کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔ ریاست کے وزیر اعظم، نواب مشتاق احمد گورمانی نے پاکستان کے قیام کے صرف تین روز بعد عیدالفطر کے موقعے پر عیدگاہ میدان میں اس الحاق کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ اس موقعے پر سر صادق نے اپنی فوج پاکستان آرمی میں ضم کردی۔ قائداعظم محمد علی جناح بہ طور گورنرجنرل حلف اٹھانے کے لیے نواب صاحب کی ذاتی رولز رائس کار میں تقریب میں پہنچے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا خزانہ خالی تھا، تو اس مشکل گھڑی میں نواب سر صادق محمد خان عباسی نے ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کے لیے7 کروڑ اور دیگر اخراجات کے لیے 2 کروڑ روپے کے ساتھ22 ہزار ٹن گندم اور مہاجرین کے لیےخصوصی طور پر 5 لاکھ کی خطیر رقم فراہم کی۔5 اکتوبر 1947ء کو قائد اعظم نے ریاست بہاول پور کےپاکستان سے الحاق کے معاہدے کے دستاویز پر 5 اکتوبر 1947ء کو دستخط ثبت کیے۔ اس طرح بہاول پور کو پاکستان میں شامل ہونے والی سب سے پہلی ریاست کا اعزاز حاصل ہوا۔


1727ء میں قائم ہونے والی ریاست بہاول پور، ہر دَور اور ہر اعتبار سے اسلامی تہذیب وتمدّن کا نمونہ تھی۔ ریاست کے باشندوں کے درمیان بِلا تخصیصِ رنگ ونسل اور مذہب، رواداری کا رشتہ قائم تھا۔ نیز، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی حاصل تھی۔ گویا بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور امن وامان اس اسلامی ریاست کا خاصّہ تھے۔اسی مذہبی رواداری کے پیشِ نظر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم خاندان بھی ریاست میں آکر نہ صرف آباد ہوئے بلکہ آسودہ حال زندگیاں گزارتے رہے۔ مذہبی تقریبات اور تہواروں میں ایک دوسرے کے احترام کوملحوظِ خاطر رکھا جاتا۔ جس طرح مسلمان ملازمین کو حج کے موقعے پر چھٹی اور پیشگی تن خواہ دی جاتی، اسی طرح ہندوئوں اور سکھوں کو بھی ان کے تہواروں کے موقعے پرباقاعدہ چھٹی اور پیشگی تن خواہ دی جاتی تھی۔ نواب سر صادق کے عہد میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان کبھی کوئی تنازع دیکھنے میں نہیں آیا۔ الغرض، نواب سر صادق کا بہاول پور ایک ایسا خطہ ٔ اُلفت تھا، جہاں ہرسُو امن کا دَور دورہ تھا، باشندگانِ ریاست ایک دوسرے کا احترام کرتے۔ اس خطّے میں ایک ایسی مکمل اسلامی ریاست موجود تھی، جو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی عطا کرتی تھی۔ نواب سر صادق کا انتقال 24 مئی 1966ء کو لندن، سِرے کاونٹی میں ہوا، جب ان کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا،تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ڈیرہ نواب صاحب کی عیدگاہ میں خطیبِ ریاست، حضرت قاضی عظیم الدین علویؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور میّت کو21 توپوں کی سلامی کے بعد پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ قلعہ ڈیراورمیں شاہی قبرستان کے اندر مقبرہ نوابین میں سپردِ خاک کیا گیا۔

*Copied*

(نوٹ : اس تحریر سے متفق ھونا ضروری نہیں اسے معلومات کے اضافے کیلئے پوسٹ کیا جا رہا ھے ، اگر کسی کو اس تحریر یا اسکے کسی حصے سے اختلاف ھو تو وہ اپنی رائے دے یا اسکی تصحیح کر سکتے ھیں )



PGF Int.(Punjabi Graduates forum international)

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int