وفاق اس وقت سندھ کے گیس ' تیل اور کوئلہ کو پیسے لے کر پنجابیوں کو فروخت کرتا ھے۔ وفاق کی طرف سے سندھ کو گیس ' تیل اور کوئلہ کی مد میں رائلٹی بھی دی جاتی ھے جبکہ پنجاب میں گیس ' تیل اور کوئلہ کی کھپت زیادہ ھونے کی وجہ سے وفاق ' پنجاب سے گیس ' تیل اور کوئلہ پر ٹیکس ڈیوٹی کی مد میں روینو جمع کرکے این ایف سی کے نام پر سندھ ' خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تقسیم بھی کردیتا ھے

 وفاق اس وقت سندھ کے گیس ' تیل اور کوئلہ کو پیسے لے کر پنجابیوں کو فروخت کرتا ھے۔ وفاق کی طرف سے سندھ کو گیس ' تیل اور کوئلہ کی مد میں رائلٹی بھی دی جاتی ھے جبکہ پنجاب میں گیس ' تیل اور کوئلہ کی کھپت زیادہ ھونے کی وجہ سے وفاق ' پنجاب سے گیس ' تیل اور کوئلہ پر ٹیکس ڈیوٹی کی مد میں روینو جمع کرکے این ایف سی کے نام پر سندھ ' خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تقسیم بھی کردیتا ھے۔ اس سے گیس ' تیل اور کوئلہ کی قیمت کے علاوہ پنجاب سے وصول کیے گئے ٹیکس میں سے بھی سندھ ' خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو حصہ مل جاتا ھے۔ 


آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDCL) نے گزشتہ 15 سال کے دوران صوبوں کو تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 229.733 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔ سرکاری ذرائع نے 10 اپریل 2016 کو کہا کہ GDCL نے مالی سال 02-2001 سے 2015-16 کے دوران سندھ ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب اور بلوچستان کے صوبوں کو 229.733 ملین روپے کی رائلٹی ادا کر دی ھے۔ کمپنی نے 558'124 ارب روپے سندھ کو 327'50 ارب روپے صوبہ خیبر پختونخواہ کو 244'35 ارب روپے پنجاب کو 645'19 ارب روپے بلوچستان کو ادا کیے۔


اسکے باوجود پنجابیوں کو طعنے دیے جاتے ھیں کہ؛ پنجاب تو سندھ اور بلوچستان کے گیس ' تیل اور کوئلہ کا محتاج ھے۔ جبکہ پنجابیوں کو گالیاں دی جاتی ھیں کہ؛ پنجابی ' سندھ اور بلوچستان کے قدرتی وسائل گیس ' تیل اور کوئلہ لوٹ رھے ھیں۔ گیس ' تیل اور کوئلہ سندھ اور بلوچستان کے قدرتی وسائل ھیں۔ اس لیے گیس ' تیل اور کوئلہ کو سندھ اور بلوچستان پہلے استعمال کرے۔ سندھ کے استعمال کرنے کے بعد اگر گیس ' تیل اور کوئلہ بچ جائے تو دوسرے صوبوں کو بین الاقوامی قیمت پر فروخت کرے۔ دریا کا پانی پنجاب کا قدرتی وسیلہ ھے۔ اس لیے دریا کے پانی کو پنجاب پہلے استعمال کرے۔ پنجاب کے استعمال کرنے کے بعد اگر دریا کا پانی بچ جائے تو سندھ اور بلوچستان کو فروخت کرے۔ جبکہ زرعی اجناس کو پنجاب عالمی مارکیٹ کی قیمت پر دوسرے صوبوں کو فراخت کرے۔

*افضل پنجابی*

*PGF International*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟