سیاسی جرنیلوں، بکاؤ ججوں اردو استعمار اور پٹھان سامراج نے پاکستان، پنجاب اور سندھ کو کیسے برباد کیا ؟؟؟

 سیاسی جرنیلوں، بکاؤ ججوں اردو استعمار اور پٹھان سامراج نے پاکستان، پنجاب اور سندھ کو کیسے برباد کیا ، 


1955ءمیں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔

4 لاکھ مقامی افراد میں تقسیم کی بجائے یہ افراد زمین کے حقدار پائے:

1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ

2:کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ

3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ

4:کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ

5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ

6:میجرعامر۔۔243ایکڑ

7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ

8:صبح صادق۔۔400ایکڑ

صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔


1962ءمیں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔

اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپے

ایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔

گدوبیراج کی زمین اس طرح بٹی:

1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ

2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ

3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ

4:بریگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ

 دیگر کئ افسران کو بھی نوازا گیا۔

ایوب خان کےعہدمیں ہی مختلف شخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:

1:ملک خدا بخش بچہ 

وزیر زراعت۔۔158ایکڑ

2:خان غلام سرور خان،

 وزیرمال۔۔240ایکڑ

3:جنرل حبیب اللّہ

 وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ

4:این-ایم-عقیلی 

وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ

5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ

6:اخترحسین

گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ

7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ

8:سیدحسن 

ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ

9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ

10:این-اے-قریشی 

چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ

11:امیرمحمد خان

 سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ

12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ


جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:

1:جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ

2:میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ

3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔۔240ایکڑ

4:جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ


گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔

جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے۔


جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی گئ:

1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ

2:جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ

3:جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ

4:جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ

5:جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ

جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں۔


ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں:

1:ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ

2:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ

3:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ

نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔

اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے۔

 

1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑبکریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی قیمتی زمین240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔

اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی میں25لاکھایکڑزمین خریدی۔

1993میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی۔

جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔

جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی۔


2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑ زمین فوج کےحوالےکی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔


اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔

2003میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔

اوکاڑہ فارم کی16627ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔ 2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔

اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔


2003میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔ 

اسی عرصےمیں16ایکڑکے 130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔


فوج کےپاس موجود زمین کی تفصیل:

لاھور۔۔12ہزارایکڑ

کراچی۔۔12ہزارایکڑ

اٹک۔۔3000ایکڑ

ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ

پشاور۔۔4000ایکڑ

کوئٹہ۔۔2500ایکڑ

اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔

2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوا۔


بہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔

چندنام یہ ہیں:

پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔


مختلف اعدادوشمارکےمطابق فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔


سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔


ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں۔


حوالہ جات:

Report on lands reforms under ppls govt. 

Booklet by Govt in 1972.


Case of Sindh.(G.M.Syed)


The Military and Politics in Pakistan..

(Hassan Askari)


Military Inc.

(Dr. Ayesha siddiqa)

پی۔ایل۔ڈیز اور مختلف اخبارات۔

 Rajpoot Zulfiqar 

*افضل پنجابی*

PGF Int.(Punjabi Graduates Forum International)

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟