کورنگی میں قبضہ گیر افغانیوں کا سندھ کے وارثوں پر قابل مذمت حملہ

 کورنگی میں قبضہ گیر افغانیوں کا سندھ کے وارثوں پر قابل مذمت حملہ ، 

اس دھرتی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں یہاں کے اصل زمین زاد پنجابی سندھی براہوی قومیت عصبیت کے نام چھ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی ایک بار بھی آپس میں نہیں لڑے کسی قتل و غارت کے شواہد نہیں ملتے امن سکون اور بھائی چارے کی مثالی ہزاروں سالہ سپتہ سندھو کی تاریخ کو ان بیرونی ڈاکوؤں حملہ آوروں قبصہ گیروں اور در اندازوں نے برباد اور تباہ کیا جن علاقوں سے یہ لوگ آئے وہاں تاریخ میں کبھی بھی امن سکون سے نہ رھے لوٹ مار اور قتل غارت بدامنی انھیں نسل در نسل ورثے میں ملی ھے ، ثبوت کیلئے افغانستان ،کردستان اور ھندوستان کے یو پی سی پی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ..

سپتہ سندھو تہذیب کی تین بڑی پنجابی سندھی براہوی کے علاوہ چھ چھوٹی قومیں موجودہ پاکستان جو کہ سپتہ سندھو کی زمین پر بنا ، پچاسی فیصد سے زائد ھونے کے باوجود ان پندرہ پرسنٹ والوں کی قبضہ گیری ، دہشت گردی ، دادا گیری اور چالبازی سازش اور لڑاؤ اور حکومت کرو کے گھناؤنے کھیل کی وجہ سے گزشتہ ستر سال سے اپنی دھرتی پر حق اقتدار و اختیار سے محروم ھیں ،

ان بیرونی قبضہ گیروں افغانی پشتونوں ، کرد بلوچ سردار اور وڈیروں ، عرب نژاد سیدوں مخدوموں شاھوں اور یوپی سی پی کی ھندوستانی اشرافیہ کی سازشوں کی بدولت ہزاروں سال امن سکون محبت بھائی چارے سے رہنے والے سپتہ سندھو کے اصل وارث پنجابی سندھی براہوی آج باہم دست و گریباں ھیں اور ایک اجنبی چھوٹی سی اقلیت ان پر حکمرانی کر رھی ھے ،

پاکستان میں چلنے والی عصبیت لسانیت علاقائیت اور نفرت کا پرچار کرنے والی کوئی بھی تنظیم تحریک پارٹی یا گروہ دیکھ لیں اس کی قیادت اور فتنہ گیری کا منبع یہ افغانی پشتون ، کرد بلوچ سردار وڈیرے, عرب نژاد شاہ مخدوم سید اور یو پی سی پی اشرافیہ کے منظم گروہ ھی ھیں ،


اب وقت آگیا ھے کہ سپتہ سندھو کے وارث پنجابی سندھی براہوی سمیت تمام نو قومیں متحد ھوں ، ان قبضہ گیروں دراندازوں اور پناہ گیروں سے اپنا حق اقتدار و اختیار واپس لیں اپنی دھرتی کی ہزاروں سالہ امن سکون شانتی اور بھائی چارے والی فضا بحال کریں، ان قبضہ گیروں دراندازوں اور پناہ گیروں کی قوم کے غریب پشتونوں ، بلوچوں سیدوں اور مہاجروں کی حالت زار بھی بدلیں . 


اگر سپتہ سندھو کی وارث قوموں اور اس خطے کی اکثریت نے ھوش کے ناخن نہ لئے تو اس سرزمین کی بربادی اور تباھی کی ذمہ داری ان پر بھی آئے گی ..

*افضل پنجابی*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟