پچھلے ستر سال میں جب پنجابی کو ڈھگہ جاہل پینڈو کہا جاتا رہا ، پنجابی سندھ کھا گیا پنجابی پاکستان کھا گیا سندھ سرحد بلوچستان کے وسائل پر پنجابی کا قبضہ ھے فوج پنجابی ھے پاکستان بنایا ھی پنجابیوں کیلئے گیا ، پی آئی اے کو پنجاب انٹرنیشنل ایئر لائنز کہا گیا ، ایگل اسکواڈ کو کی گل اسکواڈ کہا گیا ، پنجاب کو گالیاں دی گئیں ، شناخت کرکے بیگناہ قتل کیا گیا،بوری بند کیا گیا، بسوں سے اتار کر شناخت کر کے مارا گیا ، عزتیں برباد کی گئیں ، املاک جلائی اور قبضہ کی گئیں بہت سے علاقوں سے بے دخل کرکے پنجاب جانے پر مجبور کیا گیا،،، کسی نے اسے غلط کہا؟؟؟ لسانیت یا عصبیت کہا ؟؟؟ اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ کہا ؟؟؟ نہ کسی کو اسلام یاد آیا نہ پاکستان نہ اخلاق اور نہ ھی انسانیت ....... اب جبکہ پنجابیوں نے ان سب مظالم اور الزاموں کا صرف علمی انداز اور دلائل سے جواب دینا شروع کیا ھے سماٹ اور براہوی پر ھونے والے ظلم اور غصب ھونے والے حقوق کی بات کرنا شروع کی ھے ھندکو پنجابی بولنے والوں کے غصب شدہ حقوق کی بات کرنا شروع کی یہ حقیقت واضح کرنا شروع کی کہ پنجابی پاکستان کی سب بڑی قوم ھے سندھ کے سماٹ سندھ کی بڑی قوم ھے بلوچستان کے براہوی وہاں کی بڑی قوم ھے کے پی کے میں ھندکو پنجابی بھی بڑی قوم ھے پنجاب پر چند پرسنٹ اردو مافیا ، بلوچ سردار اور مخدوم اکثریت پنجابیوں پر مسلط اور حاکم ھیں ، سندھ میں سماٹ اکثریت پر دیہی سندھ میں بلوچ سردار اور سید اقلیت اور شھری سندھ میں اردو مافیا مسلط اور حاکم ھے کے پی کے میں ھندکو پنجابی بولنے والوں پر افغان نزاد پشتون مسلط اور حاکم ھیں ، بلوچستان میں براہوی اکثریت پر بلوچ سردار اور افغان نزاد پشتون مسلط اور حاکم ھیں تو پنجابیوں پر لسانیت عصبیت اور نفرت پھیلانے کا الزام لگنے لگا ھے اور تو اور اردو زدہ مطالعہ پاکستان کے مارے ذہنی غلام ڈڈو پنجابی بھی جو ستر سال سے پنجابیوں پر ھونے والے ظلم پر اندھے اور بہرے بنے ھوئے تھے اسے اسلام اور پاکستان کے خلاف اور عصبیت کہہ رھے ھیں حالانکہ اب تک کسی پنجابی قوم پرست نے پنجاب میں موجود کسی سندھی بلوچ پٹھان مہاجر کو کسی قسم کا جانی مالی نقصان نہیں پہنچایا ، کسی کو شناخت کرکے بس سے اتار کر قتل نہیں کیا کسی سندھی پٹھان بلوچ اور اردو بولنے والے کو پنجاب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا.... جبکہ پاکستان میں اگر کسی کے حقوق کو سب سے زیادہ غصب کیا گیا ھے تو وہ پنجابی ھے ، پنجابی کو اسکی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم کیا گیا جبکہ دوسرے صوبے کم از کم اس ظلم سے محفوظ ھیں ، بڑا بھائی کہہ کر پنجاب کے حصے کا پانی بھی کم کیا گیا مرکز سے پنجاب کے حصے کے پیسے سے کٹوتی کرکے دوسرے صوبوں کو دئیے گئے ..پنجابیوں نے بڑے دل سے مان لیا.. اب وقت آگیا ھے کہ پنجابی قوم پرست سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود ذہنی غلام اور مطالعہ پاکستان کے مارے اردو زدہ ڈڈو پنجابی شناخت کریں ، قوم پرست بنیں ، عصبیت یا لسانیت یا علاقائیت پرست نہ بنیں ، سچا قوم پرست اپنے ساتھ قوم کی جان مال اور عزت کی بھی حفاظت کرتا ھے ، ظلم اور ناانصافی کے خلاف لڑتا ھے جبکہ لسانیت عصبیت اور علاقائیت پرست جائز ناجائز حق ناحق کی شناخت کئے بغیر اپنی قوم زبان اور علاقے کیلئے ناجائز طور پر بھی لڑتا اور ظلم کرتا ھے ... *PNF SINDH*

 پچھلے ستر سال میں جب پنجابی کو ڈھگہ جاہل پینڈو کہا جاتا رہا ، پنجابی سندھ کھا گیا پنجابی پاکستان کھا گیا سندھ سرحد بلوچستان کے وسائل پر پنجابی کا قبضہ ھے فوج پنجابی ھے پاکستان بنایا ھی پنجابیوں کیلئے گیا ، پی آئی اے کو پنجاب انٹرنیشنل ایئر لائنز کہا گیا ، ایگل اسکواڈ کو کی گل اسکواڈ کہا گیا ، پنجاب کو گالیاں دی گئیں ، شناخت کرکے بیگناہ قتل کیا گیا،بوری بند کیا گیا، بسوں سے اتار کر شناخت کر کے مارا گیا ، عزتیں برباد کی گئیں ، املاک جلائی اور قبضہ کی گئیں بہت سے علاقوں سے بے دخل کرکے پنجاب جانے پر مجبور کیا گیا،،،


 کسی نے اسے غلط کہا؟؟؟

 لسانیت یا عصبیت کہا ؟؟؟

اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ کہا ؟؟؟


نہ کسی کو اسلام یاد آیا نہ پاکستان نہ اخلاق اور نہ ھی انسانیت .......


اب جبکہ پنجابیوں نے ان سب مظالم اور الزاموں کا صرف علمی انداز اور دلائل سے جواب دینا شروع کیا ھے 

 سماٹ اور براہوی پر ھونے والے ظلم اور غصب ھونے والے حقوق کی بات کرنا شروع کی ھے

 ھندکو پنجابی بولنے والوں کے غصب شدہ حقوق کی بات کرنا شروع کی 

یہ حقیقت واضح کرنا شروع کی کہ پنجابی پاکستان کی سب بڑی قوم ھے

 سندھ کے سماٹ سندھ کی بڑی قوم ھے 

بلوچستان کے براہوی وہاں کی بڑی قوم ھے 

 کے پی کے میں ھندکو پنجابی بھی بڑی قوم ھے 

 پنجاب پر چند پرسنٹ اردو مافیا ، بلوچ سردار اور مخدوم اکثریت پنجابیوں پر مسلط اور حاکم ھیں ،

 سندھ میں سماٹ اکثریت پر دیہی سندھ میں بلوچ سردار اور سید اقلیت اور شھری سندھ میں اردو مافیا مسلط اور حاکم ھے

 کے پی کے میں ھندکو پنجابی بولنے والوں پر افغان نزاد پشتون مسلط اور حاکم ھیں ،

 بلوچستان میں براہوی اکثریت پر بلوچ سردار اور افغان نزاد پشتون مسلط اور حاکم ھیں 

تو پنجابیوں پر لسانیت عصبیت اور نفرت پھیلانے کا الزام لگنے لگا ھے اور تو اور اردو زدہ مطالعہ پاکستان کے مارے ذہنی غلام ڈڈو پنجابی بھی جو ستر سال سے پنجابیوں پر ھونے والے ظلم پر اندھے اور بہرے بنے ھوئے تھے اسے اسلام اور پاکستان کے خلاف اور عصبیت کہہ رھے ھیں 

حالانکہ اب تک کسی پنجابی قوم پرست نے پنجاب میں موجود کسی سندھی بلوچ پٹھان مہاجر کو کسی قسم کا جانی مالی نقصان نہیں پہنچایا ، کسی کو شناخت کرکے بس سے اتار کر قتل نہیں کیا کسی سندھی پٹھان بلوچ اور اردو بولنے والے کو پنجاب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا.... 

جبکہ پاکستان میں اگر کسی کے حقوق کو سب سے زیادہ غصب کیا گیا ھے تو وہ پنجابی ھے ،

 پنجابی کو اسکی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم کیا گیا جبکہ دوسرے صوبے کم از کم اس ظلم سے محفوظ ھیں ، بڑا بھائی کہہ کر پنجاب کے حصے کا پانی بھی کم کیا گیا مرکز سے پنجاب کے حصے کے پیسے سے کٹوتی کرکے دوسرے صوبوں کو دئیے گئے ..پنجابیوں نے بڑے دل سے مان لیا..

اب وقت آگیا ھے کہ پنجابی قوم پرست سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود ذہنی غلام اور مطالعہ پاکستان کے مارے اردو زدہ ڈڈو پنجابی شناخت کریں ، 

 قوم پرست بنیں ، عصبیت یا لسانیت یا علاقائیت پرست نہ بنیں ، سچا قوم پرست اپنے ساتھ قوم کی جان مال اور عزت کی بھی حفاظت کرتا ھے ، ظلم اور ناانصافی کے خلاف لڑتا ھے جبکہ لسانیت عصبیت اور علاقائیت پرست جائز ناجائز حق ناحق کی شناخت کئے بغیر اپنی قوم زبان اور علاقے کیلئے ناجائز طور پر بھی لڑتا اور ظلم کرتا ھے ...

*PNF SINDH*



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int