کیا پنجابی واقعی مزاحمت نہیں کرتے؟؟؟

 کیا پنجابی واقعی مزاحمت نہیں کرتے؟


تحریر: Yasir Pirzada

 

میرا دوست ’الف‘ آج کل کچھ تشکیک کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب اُس سے بات ہوتی تھی تو وہ اپنے خیالات کا اظہار قطعیت کے ساتھ کرتا تھا۔ اُس کی رائے دو ٹوک ہوتی تھی اور وہ پاکستانی تاریخ کے حوالے سے کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں لگتا تھا۔ شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی اُس کے ہیرو تھے کیونکہ وہ مسلمان حملہ آور تھے جنہوں نے برصغیر کے ہندو حکمرانوں پر حملے کیے تھے۔ پنجاب کے عوام کے بارے میں الف کا خیال تھا کہ پنجابیوں نے کبھی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ شہنشاہ اکبر کے مقابلے میں الف کا ووٹ اورنگزیب کی طرف تھا۔ تاہم اب کچھ عرصے سے الف کے خیالات میں تبدیلی آ گئی تھی۔


اِس بات کا علم مجھے یوں ہوا کہ گزشتہ ہفتے الف میرے پاس آیا اور باتو ں باتو ں میں مجھ سے پوچھنے لگا کہ پنجابیوں پر بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کے الزام کے بارے میں میری کیا رائے ہے؟ کیا بابر کا ابراہیم لودھی سے جنگ کرنا درست تھا؟ نیز اکبر اعظم کا نظام حکومت کیسا تھا؟ تاریخ سے مثالیں دے کر واضح کروں۔ میں نے الف کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے زمانے میں یہ تاریخ کہیں پڑھی تھی۔ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ سلاطین دہلی پہلے آئے تھے یا مغل حکمران۔ اِس لیے بہتر ہے کہ اِن سوالوں کا جواب تم سہیل وڑائچ صاحب سے لو جو پنجابیوں کے سب سے بڑے وکیل ہیں۔ الف نے بتایاکہ اُس نے سہیل وڑائچ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نصیبو لعل کے ساتھ ایک دن گزارنے میں مصروف تھے اِس لیے بات نہ ہو سکی۔ اب ظاہر ہے کہ میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ میں الف کے ساتھ دن گذارتا۔ اُس روز مجھے اندازہ ہوا کہ الف تشکیک کا شکار نہیں ہوا بلکہ ذہنی طور پر تقریباً بدل چکا ہے۔


الف کی میرے ساتھ گفتگو بیرونی حملہ آوروں اور پنجابیوں کے کردار کے گرد ہی گھومتی رہی۔ میں نے الف کو کہا کہ محمود غزنوی نسلاً ترک تھا جس کا تعلق افغانستان کے علاقے غزنی سے تھا۔ اُس نے جب ہندوستان پر حملے کیے تو جواب میں پنجاب کی جنجوعہ برادری نے مزاحمت کی۔ اُس وقت یہ لوگ ہندو تھے۔ اس کے علاوہ گکھڑ، کھوکھر، سیال اور بھٹی برادری سے تعلق رکھنے والے پنجابیوں نے بھی بےجگر ی سے محمود غزنوی کا مقابلہ کیا مگر غزنوی کے آگے کوئی نہ ٹھہر سکا اور بالآخر 1021میں لاہور شہر محمود غزنوی کے قبضے میں چلا گیا۔ ابھی میں نے یہ پہلی مثال ہی دی تھی کہ الف میری بات کاٹتے ہوئے بولا ”جو بات تم کہہ رہے ہو اِس کا حوالہ دو۔ “میں نے اسے بتایا کہ یہ بات راج موہن گاندھی کی کتاب ”Punjab – A history from Aurangzeb to Mountbatten“ میں لکھی ہے۔ نکال کر پڑھ لو، پنجاب کی تاریخ پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔


اسی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے مزید کہا کہ محمود غزنوی کے بعد شہاب الدین غوری بھی افغانستان سے آیا تھا۔ یہ بھی نسلاً ترک تھا۔ پہلے پہل جب اس نے حملہ کیا تو پرتھوی راج چوہان سے شکست کھا گیا مگر اگلے برس غوری نے دوبارہ حملہ کیا اور پرتھوی راج کو شکست دے دی۔ اس شکست کی وجوہات جو بھی ہوں مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پنجاب میں کسی نے بیرونی حملہ آور کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔ اسی طرح جب تیمور لنگ نے ہندوستان پر حملہ کیا تو ظلم و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی، تیمور کو ازبکستان میں ہیرو سمجھا جاتا ہے مگر ہندوستان میں جتنا خون تیمور نے بہایا اُس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ تیمور کے خلاف مزاحمت کرنے والے پنجابیوں میں جسرت گکھڑ شامل تھا۔ یہ وہی گکھڑ تھے جنہوں چار سو سال پہلے شہاب الدین غوری کے خلاف بھی لڑائی کی تھی۔ جسرت کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ہندو تھا یا مسلمان۔ مگر یہ بات طے ہے کہ تیمور جیسے سفاک حملہ آور کے خلاف مزاحمت کی داستان اسی پنجابی نے رقم کی تھی۔


الف نے میری گفتگو کافی تحمل سے سنی اور جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ خود بھی تاریخ کے حوالے سے کافی تشکیک کا شکار تھا۔ اِس لیے زیادہ اختلاف نہیں کیا۔ سچ پوچھیں تو جو باتیں جواب میں الف نے کیں انہوں نے مجھے خاصا متاثر کیا۔ اُن میں سے زیادہ تر میں بیان نہیں کر سکتا کہ الف تو آزاد پنچھی ہے جبکہ میرے پر جلتے ہیں۔ مثلاً الف نے کہا کہ اب وہ اِس بات کا قائل ہو چکا ہے کہ وہ لوگ ہمارے ہیرو نہیں ہوسکتے جنہوں نے برصغیر اور پنجاب میں خون کی ندیاں بہائیں اور لوٹ مار کی۔ چاہے اُن کا تعلق کسی بھی رنگ، نسل یا مذہب سے تھا۔ اُن کے مقابلے میں وہ تمام لوگ ہیرو تھے جنہوں نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی چاہے وہ ہندو تھے یا مسلمان۔ اِس مزاحمت کے نتیجے میں اگر انہیں شکست بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں۔ اصل بات دیکھنے کی یہ ہے کہ کیا وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے تھے؟ اِس کا جواب ہے کہ ہاں۔


یہاں ایک اور بحث بھی جنم لیتی ہے کہ بیرونی حملہ آور ہم کس کو کہتے ہیں؟ غزنوی، غوری، تیمور کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ وہ بیرونی حملہ آور تھے۔ بابر کے بارے میں بھی یہی رائے رکھی جائے گی لیکن بعد میں آنے والے مغل حکمران جو ہندوستان میں ہی پیدا ہوئے اور یہیں شادیاں کیں اور یہیں وفات پائی۔ کیا انہیں بھی بیرونی حملہ آور کہا جائے گا؟ اِس کا جواب سادہ نہیں۔ مثلاً اکبر اعظم ہندوستان میں پیدا ہوا۔ پلا بڑھا اور یہیں فوت ہوا۔ کیا اب بھی یہ بیرونی حکمرا ن کہلائے گا؟ اِس کے جواب میں بہت سارے عوامل میں سے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اِن مغل حکمرانوں نے اپنے گورنروں کی تعیناتی کیسے کی؟ کیا اِن کے گورنر ہندوستان کے لو گ تھے یا باہر سے امپورٹ کیے جاتے تھے ؟ اِس کی مثال یوں ہے کہ اگر انگریز مزید سو سال بر صغیر میں رہ جاتا اور اس کی اگلی نسلیں ہندوستان میں ہی پیدا ہوتیں تو کیا انہیں مقامی حکمران تصور کیا جاتا ؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔


الف نے جاتے جاتے ایک پتے کی بات یہ بھی کی کہ آج ہماری سوسائٹی میں جو مذہبی منافرت نظر آتی ہے کہیں نہ کہیں اُس کی کڑیاں اِس تاریخی مغالطے سے جا ملتی ہیں۔ جس کے تحت غوری اور غزنوی محض اِس لیے ہمارے ہیرو ہیں کہ ایک نے سومنات کا مندر تباہ کیا اور دوسرے نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دی۔ اور تو اور ہم تیمور جیسے سفاک شخص کو بھی محض اس لیے ہیرو ماننے کے لیے تیار ہیں کہ وہ مسلمان تھا۔ حالانکہ جتنا نقصان اُس نے پنجاب کو پہنچایا شاید کسی اور حملہ آور نے نہیں پہنچایا۔ بقول الف، مختصر بات یہ ہے کہ پنجابیوں نے بیرونی حکمرانوں کے خلاف اتنی ہی مزاحمت کی جتنی کسی اور خطے کے لوگوں نے کی۔ لہذا پنجابیوں کے بارے میں غلط فہمی اب ہمیں دور کر لینی چاہیے۔ میں نے اِس بات پر الف کو غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر اس وقت تشکیک کے آثار نہیں تھے۔


میری اور الف کی گفتگو ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ الف کو اُس کی بیوی کا فون آ گیا کہ اگر وہ پندرہ منٹ کے اندر اندر سبزی اور انڈے لے کر گھر واپس نہ پہنچا تو اُس کا حشر کر دیا جائے گا۔ الف نے زمینی حقائق دیکھتے ہوئے فوراً مزاحمت کی پالیسی ترک کی اور مجھ سے ہاتھ ملا کر نکل گیا۔ میں پکارتا ہی رہ گیا کہ ابھی تو ہم نے رنجیت سنگھ کے بارے میں بات کرنی تھی کہ کیا اُسے ہیرو مانا جا سکتا ہے جو کہ خالصتاً مقامی پنجابی حکمران تھا؟ اِس سوال کا جواب شاید ہم اگلی کسی ملاقات میں تلاش کریں۔


یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ





Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int