میری پوسٹ تے اک اردو بولن آلے بھائی دے اردو دی حمایت تے اھمیت بارے کمنٹ تے میرا جوابی کمنٹ ، محترم ہر کام واقعہ وقوعہ لسانی زبردستی کی جڑ اور شروعات ھی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ھے ھم وہ لوگ ھیں جو اپنی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے لیکن دوسرے کی طرف انگلی اٹھانے میں دیر نہیں کرتے اگر اردو نے خود سے اپنی افادیت کے بل پر جگہ بنائی ھوتی تو نہ بنگلہ دیش بنتا نہ سندھ میں ستر کی دھائی والے مہاجر سندھی فساد ھوتے اور نہ ھی آج پنجابی اپنی مادری زبان اور ثقافت کے اردو کے ہاتھوں برباد ھونے پر اٹھ کھڑے ھوتے اور نہ ھی سپتہ سندھو یا انڈس سولائیزیشن کے اس خطے کی قومیں آج اس کے خلاف آواز اٹھا رھی ھوتیں .

 میری پوسٹ تے اک اردو بولن آلے بھائی دے اردو دی حمایت تے اھمیت بارے کمنٹ تے میرا جوابی کمنٹ ، 


 محترم ہر کام واقعہ وقوعہ لسانی زبردستی کی جڑ اور شروعات ھی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ھے

ھم وہ لوگ ھیں جو اپنی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے لیکن دوسرے کی طرف انگلی اٹھانے میں دیر نہیں کرتے اگر اردو نے خود سے اپنی افادیت کے بل پر جگہ بنائی ھوتی تو نہ بنگلہ دیش بنتا نہ سندھ میں ستر کی دھائی والے مہاجر سندھی فساد ھوتے اور نہ ھی آج پنجابی اپنی مادری زبان اور ثقافت کے اردو کے ہاتھوں برباد ھونے پر اٹھ کھڑے ھوتے اور نہ ھی سپتہ سندھو یا انڈس سولائیزیشن کے اس خطے کی قومیں آج اس کے خلاف آواز اٹھا رھی ھوتیں .

اردو کو انگریز کے ساتھ مل کر یو پی سی پی اشرافیہ نے کس طرح متحدہ پاکستان باالخصوص پنجاب پر مسلط کیا یہ کوئی راز نہیں اور نہ ھی یہ راز ھے کہ پنجابی لٹریچر اور تعلیمی کتب اسلحہ سے بھی زیادہ ترجیحی بنیادوں پر زبردستی پیسے کے لالچ اور ڈرا دھمکا کر تلف برباد اور جلائی گئیں ،

پنجاب کے خطے پر فارسی بھی سات سو سال کے لگ بھگ مسلط رھی ،اقبال نے تو شاعری ھی زیادہ تر فارسی میں کی ، کیا فارسی کا غیر فطری تسلط قائم رہا اور آج پنجاب اور پاکستان میں کتنے لوگ فارسی بول پڑھ اور سمجھ سکتے ھیں ؟؟ 

اردو کو تو ابھی دو سو سال بھی نہیں ھوئے .

ہر زبان اپنے علاقے کلچر کی نسبت سے ھی اپنا وجود برقرار رکھتی ھے یورپ اور ایشیا میں بہت سے ممالک ھیں جو انگریزی کی بجائے اپنی زبانوں کو ھی مقدم رکھتے ھیں فرنچ اور آئرلینڈ کی مثال لے لیں 

کیا چائنہ اپنی زبان کلچر سے جڑے رہ کر دنیا کی سپر پاور اور سب سے مضبوظ معیشت والا ملک نہیں ؟؟

 انگریزی بھی تو انٹرنیشنل رابطے کی زبان کہلاتی ھے .

محترم اردو تو ھندی ھی ھے جو چند عربی فارسی الفاظ کے لبادے اور پنجابی کے شاہ مکھی رسم الخط کو چرا کی تخلیق کی گئی اور اس کی تخلیق کا مقصد ھی ان لوگوں کو پنجاب اور بعد میں بننے والے پاکستان پر اپنے اور یوپی سی پی اشرافیہ کے مفادات کے حصول اور تحفظ کیلئے غیرفطری طور پر مسلط کرنا تھا 

دنیا کے کسی خطے کی مثال پیش کریں جہاں ایک مصنوعی ثقافت اور قوم سے محروم زبان کو جسے صرف اس ملک کی پانچ چھ پرسنٹ آبادی اون کرتی یا اپنا کہتی ھو مسلط کیا گیا ھو یا زبردستی کی سرکاری زبان کہلاتی ھو ؟؟


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int