دیس پنجاب دی تریخی ٹائم لائن۔ 3300 - 1300 ق م: وادی سندھ دی رہتل 2600–1900 ق م: ہڑپہ رہتل 1500–1000 ق م: ویدک رہتل 599 ق م: جین مت 567–487 جاں 400 ق م: مہاتما بدھ 550–600 ق م: بدھ مت دا ودھن پھلن 550–515 ق م: فارسیاں دی دریاۓ سندھ دے لہندے پاسے مل

دیس پنجاب دی تریخی ٹائم لائن۔

3300 - 1300 ق م: وادی سندھ دی رہتل

2600–1900 ق م: ہڑپہ رہتل

1500–1000 ق م: ویدک رہتل

599 ق م: جین مت

567–487 جاں 400 ق م: مہاتما بدھ

550–600 ق م: بدھ مت دا ودھن پھلن

550–515 ق م: فارسیاں دی دریاۓ سندھ دے لہندے پاسے مل

326 ق م: سکندر دا حملہ

322–185 ق م: موریہ سلطنت

45–180 : کشان سلطنت

200–400 : انڈو سیتھی

320–550: گپتا سلطنت

500: چٹے ہناں دا حملہ

510–650: ہرش وردھن راجہ دا ویلہ

770-810: پالا سلطنت

647–1192: راجپوت ویلہ

711–713: محمد بن قاسم, عرب جرنیل جسنے اموی سلطنت ولوں اج دے پاکستان چ دریاۓ سندھ دے نال نال سندھ تے ملتان دا علاقہ فتح کیتا۔

713–1300: دلی سلطنت (ترک سلطنتاں).

1206–1290: غلاماں ٹبر بانی محمد غوری

1290–1320: خلجی ٹبر بانی جلال الدین فیروز

1320–1413: تغلق ٹبر بانی غیاث الدین تغلق

1414–1451: سید ٹبر بانی خضر خان

1451–1526: لودھی ٹبر بانی بہلول خان لودھی

1526–1707: مغل سلطنت

1526–1530: ظہیرالدین محمد بابر

1530–1540: نصیرالدین محمد ہمایوں

1540–1545: شیر شاہ سوری

1545–1554: اسلام شاہ سوری

1555–1555: نصیرالدین ہمایوں

1556–1556: ہیمو بقال

1556–1605: جلال الدین محمد اکبر

1605–1627: نورالدین محمد جہانگیر

1627–1658: شہاب الدین محمد شاہجہان

1658–1707: محی الدین محمد اورنگزیب

1707: مغل سلطنت ماڑی پے گئی

1469–1539: بابا گرو نانک (سکھ مت دا پہلا گرو)

1539–1675: 8 سکھ گروآں دا ویلہ گرو انگد دیو توں گرو تیغ بہادر تک

1675–1708: گرو گوبند سنگھ (10واں سکھ گرو)

1708–1715: بندہ سنگھ بہادر دیاں شورشاں

1716–1759: سکھاں دیاں مغل گورنراں خلاف جنگاں

1739: نادر شاہ افشار دا ہندستان اتے حملہ

1748–1769: احمد شاہ ابدالی دے ہندستان اتے حملے ،پنجاب کنٹرول حاصل کرن لئی سکھاں تے درانی سلطنت وچکار کھچ دھؤ تے لڑائیاں گوہالور دی لڑائی (امرتسر,1757)۔

1761 : پانی پت دی تیجی لڑائی, سیالکوٹ دی لڑائی (1761), گجرانوالا دی لڑائی (1761), سیالکوٹ دی لڑائی (1763).

1762 :1762ء چ احمد شاہ ابدالی دے پنجاب اتے سکھاں خلاف 6 ویں حملے چ احمد شاہ دا سکھاں دا قتل عام ، جسنوں سکھ وڈا گھلوگھارا آکھدے نیں ۔

1764–1799: پنجاب اتے 12 سکھ مثلاں دی حکومت

1799–1839: مہاراجہ رنجیت سنگھ دا پنجاب اتے راج تے سکھ سلطنت دا ٹرنا ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ (جم1780, تاجپوشی12 اپریل1801, موت1839)

مہاراجہ کھڑک سنگھ (1801–1840),رنجیت سنگھ دا وڈا پتر

کنور نونہال سنگھ (1821–1840), رنجیت سنگھ دا پوترا.

مہاراجہ شیر سنگھ (1807–1843), رنجیت سنگھ دا پتر.

دلیپ سنگھ (جم1838, تاجپوشی1843, موت1893), رنجیت سنگھ دا سبتوں نکا پتر.

1849: پنجاب دا برطانوی راج چ رلنا - 1845-49:پہلی تے دوجی اینگلو سکھ جنگ چ سکھ سلطنت دی ہار پچھوں سلطنت برطانیہ دا پنجاب اتے مل ۔

1849–1947: پنجاب 98 سال تک برطانوی راج چ بطور اک صوبہ (برطانوی پنجاب) رہیا ۔

1911ء چ برطانوی ہند دا راجگڑھ کلکتہ توں دلی بدلیا گیا تے دلی نوں پنجاب توں کڈ کے دلی راجگڑھ علاقہ بنا دتا گیا ۔

1947: 1947ء چ ہندستان دی ونڈ نال ای پنجاب وی 2 حصےآں, پاکستانی پنجاب(لہندا پنجاب) تے بھارتی پنجاب(چڑھدا پنجاب) وچ ونڈیا گیا ۔

1966ء چ بھارتی پنجاب نوں بولی دے آدھار اتے 3 صوبے ہریانہ ، ہماچل پردیش تے ہن دے چڑھدے پنجاب چ ونڈ دتا گیا ۔

* لکھت دے سنوار کار 

Drraza Punjabi 

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int