سندھ میں رھنے والا پنجابی نہ صرف سندھی بولتا بلکہ پڑھتا لکھتا بھی ھے لیکن اس کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا اور نہ ھی برابری کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ پٹھان اور اردو بولنے والے سمیت سندھ میں رہنے والے غیر سندھی زیادہ تر نہ تو سندھی لکھنا پڑھنا پسند کرتے ھیں اور نہ ھی سندھی بولنا ' لیکن اس کے باوجود کسی سندھی کو پٹھان ، اردو بولنے والوں کے سامنے بات کرنے کی ھمت تک نہیں ھوتی ۔ جبکہ یہ سندھ کے تمام بڑے بڑے شھروں اور مین شاہراہوں پر مکمل طور پر قابض ھیں۔ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ٹرانسپورث ، ھوٹل ریسٹورینٹ، سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان کا مکمل کنٹرول ھے۔ سندھ کی گورنرشپ ھمیشہ اردو بولنے والے کے پاس ھوتی ھے اور سندھ کی کابینہ میں بھی کافی بڑی نمائندگی ھوتی ھے. وفاقی کابینہ اور سندھ کی سرکاری نوکریوں میں بھی سندھ کے حصہ کا ایک بڑا حصہ ان کے پاس ھوتا ھے لیکن سندھیوں کو رگڑا لگانا صرف سندھ کے پنجابی کو آتا ھے. مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پورے سندھ میں آباد پنجابی اردو بولنے والوں سے اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں لیکن نہ کوئی گورنر شب نہ وزارت نہ آبادی کے حساب سے ایم پی اے یا ایم این اے، کوئی اکا دکا پیپلز پارٹی یا فنکشنل لیگ سے ذاتی وابستگی یا تعلقات کی وجہ بن جائے تو علیحدہ بات ھے سندھ میں پنجابیوں کی بہت بڑی تعداد رھتی ھے جن کے ساتھ سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں انتہائی نامناسب سلوک ھو رھا ھے، بلکہ اب تک اس ابہام کو بھی طے نہیں کیا جارھا کہ سندھ میں رھنے والے پنجابی کی حیثیت کیا ھے؟؟؟؟؟ ایک طرف تو سندھ میں رھنے والے سید اور بلوچ وڈیرے خود کو سندھی قرار دیتے ھیں تو دوسری طرف سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد پنجابی کو سندھی تسلیم کرکے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں برابری کا حق دینے کی مخالفت کرتے ھیں۔ حالانکہ سن دو ہزار تک مجموعی طور پر سندھ میں رھنے والے پنجابی اپنے نام کے ساتھ پنجابی کا لفظ تک نہیں لگاتے تھے اور آج بھی مجھ جیسے کچھ لوگوں کے علاوہ اب بھی بڑی اکثریت اپنے نام کے پنجابی نہیں لکھتے، جبکہ بلوچ اور سید اپنے نام کے ساتھ لفظ بلوچ اور سید ضرور لکھتے ھیں لیکن پھر بھی پنجابی کو تو نہ سندھی تسلیم کیا جاتا ھے اور نہ برابر کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ بلوچ اور سید کو نہ صرف سندھی تسلیم کیا جاتا ھے بلکہ دیہی سندھ ان کے کنٹرول میں ھے اور بیشتر سماٹ سندھیوں کو بھی انکے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ھمت نہیں ھوتی. اب جبکہ پاکستان باالخصوص پنجاب میں قوم پرستی کی لہر مضبوط ھو رھی ھے سندھیوں کے ساتھ پنجاب کے تعلقات کا انحصار سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے سلوک سے منسلک ھے اسلیے سندھیوں کو جلداز جلد طے کرنا چاھئے کہ سندھ میں موجود پنجابیوں کو بھی ویسی ھی عزت اور مقام ملنا چاھئے جیسا دوسری غیر سندھی قوموں کو حاصل ھے ، یاد رھے سندھ کو سرسبز اور ہرا بھرا بنانے میں پچھلی صدی کے شروع میں سندھ لائے گئے پنجاب واسیوں کا بڑا ھاتھ ھے یہاں کا نہری نظام بھی ان کی محنت سے بنا . سندھ چونکہ پنجاب کا پڑوسی ھے اس لیے پنجابیوں کو معلوم ھونا چاھیئے کہ سندھ کا اصل وارث کون ھے تاکہ بین الصوبائی معاملات اور قوموں کے باھمی تعلقات کے مطلق پالیسی بناتے وقت پنجابیوں کو آسانی ھو۔ سندھ کے سماٹ سندھی ھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ھیں اور یہ تب ھی ممکن ھے جب حق اقتدار اور اختیار بلوچ اور سید وڈیرہ شاھی کی بجائے ان کے پاس ھو سندھ میں ' سندھ کا چیف منسٹر سماٹ سندھی کو بنانے کا اصول طے کرلیا جائے تو سندھ میں پائیدار امن اور سندھ میں رہنے والی دوسری قوموں کے ساتھ برابری کا برتاؤ اور انصاف ممکن ھے *PNF SINDH*

 سندھ میں رھنے والا پنجابی نہ صرف سندھی بولتا بلکہ پڑھتا لکھتا بھی ھے لیکن اس کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا اور نہ ھی برابری کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ پٹھان اور اردو بولنے والے سمیت سندھ میں رہنے والے غیر سندھی زیادہ تر نہ تو سندھی لکھنا پڑھنا پسند کرتے ھیں اور نہ ھی سندھی بولنا ' لیکن اس کے باوجود کسی سندھی کو پٹھان ، اردو بولنے والوں کے سامنے بات کرنے کی ھمت تک نہیں ھوتی ۔ جبکہ یہ سندھ کے تمام بڑے بڑے شھروں اور مین شاہراہوں پر مکمل طور پر قابض ھیں۔ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ٹرانسپورث ، ھوٹل ریسٹورینٹ، سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان کا مکمل کنٹرول ھے۔ سندھ کی گورنرشپ ھمیشہ اردو بولنے والے کے پاس ھوتی ھے اور سندھ کی کابینہ میں بھی کافی بڑی نمائندگی ھوتی ھے. وفاقی کابینہ اور سندھ کی سرکاری نوکریوں میں بھی سندھ کے حصہ کا ایک بڑا حصہ ان کے پاس ھوتا ھے لیکن سندھیوں کو رگڑا لگانا صرف سندھ کے پنجابی کو آتا ھے. مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پورے سندھ میں آباد پنجابی اردو بولنے والوں سے اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں لیکن نہ کوئی گورنر شب نہ وزارت نہ آبادی کے حساب سے ایم پی اے یا ایم این اے، کوئی اکا دکا پیپلز پارٹی یا فنکشنل لیگ سے ذاتی وابستگی یا تعلقات کی وجہ بن جائے تو علیحدہ بات ھے


سندھ میں پنجابیوں کی بہت بڑی تعداد رھتی ھے جن کے ساتھ سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں انتہائی نامناسب سلوک ھو رھا ھے، بلکہ اب تک اس ابہام کو بھی طے نہیں کیا جارھا کہ سندھ میں رھنے والے پنجابی کی حیثیت کیا ھے؟؟؟؟؟


 ایک طرف تو سندھ میں رھنے والے سید اور بلوچ وڈیرے خود کو سندھی قرار دیتے ھیں تو دوسری طرف سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد پنجابی کو سندھی تسلیم کرکے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں برابری کا حق دینے کی مخالفت کرتے ھیں۔ حالانکہ سن دو ہزار تک مجموعی طور پر سندھ میں رھنے والے پنجابی اپنے نام کے ساتھ پنجابی کا لفظ تک نہیں لگاتے تھے اور آج بھی مجھ جیسے کچھ لوگوں کے علاوہ اب بھی بڑی اکثریت اپنے نام کے پنجابی نہیں لکھتے، جبکہ بلوچ اور سید اپنے نام کے ساتھ لفظ بلوچ اور سید ضرور لکھتے ھیں لیکن پھر بھی پنجابی کو تو نہ سندھی تسلیم کیا جاتا ھے اور نہ برابر کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ بلوچ اور سید کو نہ صرف سندھی تسلیم کیا جاتا ھے بلکہ دیہی سندھ ان کے کنٹرول میں ھے اور بیشتر سماٹ سندھیوں کو بھی انکے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ھمت نہیں ھوتی.

 اب جبکہ پاکستان باالخصوص پنجاب میں قوم پرستی کی لہر مضبوط ھو رھی ھے سندھیوں کے ساتھ پنجاب کے تعلقات کا انحصار سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے سلوک سے منسلک ھے اسلیے سندھیوں کو جلداز جلد طے کرنا چاھئے کہ سندھ میں موجود پنجابیوں کو بھی ویسی ھی عزت اور مقام ملنا چاھئے جیسا دوسری غیر سندھی قوموں کو حاصل ھے ، یاد رھے سندھ کو سرسبز اور ہرا بھرا بنانے میں پچھلی صدی کے شروع میں سندھ لائے گئے پنجاب واسیوں کا بڑا ھاتھ ھے یہاں کا نہری نظام بھی ان کی محنت سے بنا .


 سندھ چونکہ پنجاب کا پڑوسی ھے اس لیے پنجابیوں کو معلوم ھونا چاھیئے کہ سندھ کا اصل وارث کون ھے تاکہ بین الصوبائی معاملات اور قوموں کے باھمی تعلقات کے مطلق پالیسی بناتے وقت پنجابیوں کو آسانی ھو۔ 


 سندھ کے سماٹ سندھی ھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ھیں اور یہ تب ھی ممکن ھے جب حق اقتدار اور اختیار بلوچ اور سید وڈیرہ شاھی کی بجائے ان کے پاس ھو


 سندھ میں ' سندھ کا چیف منسٹر سماٹ سندھی کو بنانے کا اصول طے کرلیا جائے تو سندھ میں پائیدار امن اور سندھ میں رہنے والی دوسری قوموں کے ساتھ برابری کا برتاؤ اور انصاف ممکن ھے


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int