سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں پربلوچ وڈیروں سرداروں کی سرپرستی میں مسلسل ظلم وتشدد، قتل ، زمین جائیدادوں پر قبضوں اور ارباب اقتدار واختیار کی مجرمانہ چشم پوشی اور عدم توجہ پنجابیوں کو مندرجہ ذیل معاملات کی طرف دھکیلنے کی منظم اور مربوط کوشش تو نہیں ؟؟؟؟

 سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں پربلوچ وڈیروں سرداروں کی سرپرستی میں مسلسل ظلم وتشدد، قتل ، زمین جائیدادوں پر قبضوں اور ارباب اقتدار واختیار کی مجرمانہ چشم پوشی اور عدم توجہ پنجابیوں کو مندرجہ ذیل معاملات کی طرف دھکیلنے کی منظم اور مربوط کوشش تو نہیں ؟؟؟؟


سندھ کا علاقہ سماٹ سندھیوں کا ھے لیکن سندھ کے دیہی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے جبکہ سندھ کے شھری علاقوں پر قبضہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کیا ھوا ھے۔

 

بلوچستان کا علاقہ براھوئیوں کا ھے لیکن بلوچستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ افغانستان سے آکر پشتونوں نے کیا ھوا ھے اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے۔


پشتونوں' بلوچوں اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا موقف ھے کہ؛

سندھ اور بلوچستان پر پنجابیوں کا کوئی حق نہیں ھے اس لیے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی حقوق کے لحاظ سے نظر انداز کیا جانا ضروری ھے جسکی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابی تیسرے درجے کے شھری کی حیثیت سے زندگی گزار رھے ھیں۔


چونکہ مستقبل میں بھی اسی روش اور رویہ کے تسلسل کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سماجی عزت ' معاشی استحکام ' سیاسی حقوق ' انتظامی انصاف اور جان و مال کا تحفظ ملنے کے امکانات نہ ھونے کے برابر ھیں تو پھر کیوں نہ سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان سے واپس پنجاب لاکر آباد کر دیا جائے ؟؟؟


اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛

 *جتنے پنجابی بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھتے ھیں اس سے زیادہ پشتون پنجاب میں رھتے ھیں۔


 *جتنے پنجابی بلوچستان کے بلوچ علاقے اور دیہی سندھ میں رھتے ھیں اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں رھتے ھیں۔ 


*جتنے پنجابی سندھ کے شھری علاقوں میں رھتے ھیں اس سے زیادہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی پنجاب میں رھتے ھیں۔


پھر کیوں نہ سندھ میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کرکے پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو پنجابیوں کی جگہ دیہی سندھ منتقل کردیا جائے؟؟

تاکہ دیہی سندھ کے پنجابی کو تیسرے درجے کے شھری کی زندگی گزارنے سے نجات ملے.


 کیوں نہ پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کے شھری علاقوں میں منتقل کرکے سندھ کے شھری علاقوں میں دوسرے تیسرے درجے کی زندگی اور ڈر اور خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے کی اذیت سے نجات دلانے کیلئے شھری سندھ کے پنجابیوں کو پنجاب منتقل کرکے انکی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے ؟؟؟


کیوں نہ بلوچستان کے پشتون اور بلوچ اکثریتی علاقوں میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کرکے ان کی جان و مال کو ھونے والے مسلسل نقصان سے بچایا جائے اور پنجاب میں رھنے والے پشتونوں کو بلوچستان کے پشتون علاقے میں اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو بلوچستان کے بلوچ علاقے میں منتقل کرکے ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے ؟؟؟

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int