کیا کبھی مہاجر پٹھان بلوچ نے اس بات پر غور کیا کہ جو نفرت گالی تذلیل جائیدا پر قبضے بیدخلی بیگناہ قتل وہ پنجابی کو دے رھے ھیں اس کا ردعمل بھی آ سکتا ھے؟؟؟

کیا کبھی مہاجر پٹھان بلوچ نے اس بات پر غور کیا کہ جو نفرت گالی تذلیل جائیدا پر قبضے بیدخلی بیگناہ قتل وہ پنجابی کو دے رھے ھیں اس کا ردعمل بھی آ سکتا ھے؟؟؟ 


پنجابی قوم پرستی کی طرف بہت تیزی سے جا رھے ھیں پنجابی کے قوم پرستی کی طرف جانے سے نقصان عام مہاجر پٹھان بلوچ کا ھی ھونا ھے کیونکہ پٹھان بلوچ مہاجر کے نام سے سیاست کرنے والے اپنی قوموں سے بھی مخلص نہیں اگر مخلص ھوتے تو اپنی جیبیں بھرنے بینک بیلنس جائیدادیں بیرون ملک املاک بنانے کی بجائے اپنی قوموں کی حالت بدلتے جبکہ پچھلے ستر سال اقتدار و اختیار پر بھی یہ ھی لوگ قابض رھے اور صرف اپنی اور اپنی اولادوں رشتے داروں کے علاوہ اپنی قوموں سمیت کسی کا بھلا نہیں کیا .


پنجابی قوم پرستوں نے تو ابھی پنجابی قوم پرستی کا کام شروع کیا ھے۔ لیکن جو پٹھان ' بلوچ ' اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر ' اتنے عرصے سے سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' مہاجر قوم پرستی کے نعرے لگا رھے تھے؛

۔ کیا ان کو کبھی کسی نے کہا کہ؛ وہ سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کی بات کیوں کرتے ھیں؟ پاکستان کی بات کیوں نہیں کرتے؟

۔ کیا کبھی کسی نے پٹھان ' بلوچ ' اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر کو سمجھایا کہ؛ پاکستان کی 60% آبادی پنجابی ھے۔ تم پٹھان ' بلوچ ' مہاجر قوم پرستی کے نعرے لگا رھے ھو لیکن اگر پنجابی نے پنجابی قوم پرستی کا نعرہ لگا دیا تو پھر تمہارا کیا بنے گا؟

۔ کیا کبھی کسی نے پٹھان ' بلوچ ' اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر کو سمجھایا کہ؛ اگر پنجابی نے پنجابی قوم پرستی کا نعرہ لگا دیا تو پھر پٹھان کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار ھندکو ' بلوچ کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار بلوچستان میں براھوئی اور سندھ میں سماٹ ' یو پی ' سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار گجراتی اور راجستھانی کو بھی آزاد ھوکر خود کو سیاسی ' سماجی اور معاشی طور پر مظبوط اور مستحکم کرنے کے لیے پنجابی قوم پرستوں کی مدد اور سرپرستی مل جانی ھے؟


پاکستان "وادئ سندھ کی تہذیب" والی زمین پر قائم ھے۔ "وادئ سندھ کی تہذیب" والی زمین کی درجہ بندی "وادئ سندھ کی تہذیب" کے پنجابی خطے۔ سماٹ خطے۔ براھوئی خطے۔ ھندکو خطے کے طور پر کی جاسکتی ھے۔


"وادئ سندھ کی تہذیب" کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا %85 ھیں۔ جنہیں پاکستان کی %15 آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ %15 آبادی والے لوگ ھیں؛. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔

. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔.

 ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ لہذا پنجابی قوم کا بنیادی فرض اور اخلاقی ذمہ داری ھے کہ؛

. خیبر پختونخوا میں ھندکو قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے افغانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو پٹھان کہلواتے ھیں۔

. بلوچستان میں براھوئی قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔

. سندھ میں سماٹ قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے دیہی سندھ میں کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں اور شہری سندھ میں ھندوستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو مھاجر کہلواتے ھیں۔

. جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔

*PNF SINDH* 

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟