قوم کے لوگوں کا متحد ھونا کیوں ضروری ھوتا ھے؟

 قوم کے لوگوں کا متحد ھونا کیوں ضروری ھوتا ھے؟


قوم کے لوگوں کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے قوم کے لوگوں کا متحد ھونا ضروری ھے۔ لیکن قوم کو قوم پرستی متحد کیا کرتی ھے اور قوم پرستی وھاں فروغ پاتی ھے جہاں قوم کے لوگوں کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کے لیے مدِ مقابل ھو۔ 


پنجاب میں پنجابیوں کے اکثریت میں ھونے کی وجہ سے پنجابی قوم کے لوگوں کا مدِ مقابل نہیں تھا۔ لہٰذا سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے پنجاب میں پنجابی قوم کے لوگ آپس میں برادری کی بنیاد پر متحد تھے۔ اس لیے سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے برادری کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں تھے۔ 


سندھ میں سندھیوں اور جی ایم سید نے 1970 کی دھائی میں جبکہ کراچی میں ھندوستانی مھاجروں اور الطاف حسین نے 1980 کی دھائی میں پنجابیوں کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچا کر مدِ مقابل کے ھونے کی ضرورت کو پورا کرکے پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کو فروغ دینے کا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ 


اب جنوبی پنجاب میں بلوچوں اور عربی نزادوں جبکہ شمالی پنجاب میں پٹھانوں کی پنجابی قوم کے لوگوں کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں نے جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب میں بھی پنجابی قوم پرستی کو فروغ دینے کے لیے مدِ مقابل فراھم کردیے ھیں۔


پنجابی قوم کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے پنجابی قوم کے لوگوں کا متحد ھونا ضروری تھا اور پنجابی قوم کے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے پنجابی قوم پرستی ضروری تھی۔ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی فروغ نہ پاتی تو پنجابی قوم نے برادریوں میں منتشر رھنا تھا اور غیر پنجابیوں نے پنجابی قوم پر اپنی سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی بالادستی قائم رکھنی تھی.

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟