پنجاب حکومت "پنجاب کلچر ڈے" نہیں بلکہ "پنجابی کلچر ڈے" منانے کا اعلان کرے۔

 پنجاب حکومت "پنجاب کلچر ڈے" نہیں بلکہ "پنجابی کلچر ڈے" منانے کا اعلان کرے۔


پنجاب حکومت نے 2020 میں پنجاب میں "پنجاب کلچر ڈے" منانے کا اعلان کرکے پنجابی قوم کو چونا لگایا تھا اور "پنجاب کلچر ڈے" کی وجہ سے پنجاب میں بلوچوں ' پٹھانوں ' ھندوستانی مھاجروں کے کلچر کے پروگرام بھی کیے جاتے رھے۔


کلچر زمین کا نہیں بلکہ زمین پر رھنے والے لوگوں کا ھوتا ھے۔ کلچر کو لوگوں کے ایک خاص گروہ کی خصوصیات ' زبان ' مذھب ' کھانے ' سماجی عادات ' موسیقی اور فنون لطیفہ کے طور پر بیان کیا جاتا ھے۔


"کلچر لوگوں کے مذھب اور کھانوں کے علاوہ احاطہ کرتا ھے کہ؛ لوگ کیا پہنتے ھیں۔ کس طرح پہنتے ھیں۔ لوگوں کی زبان کیسی ھے۔ شادی کا طریقہ کیا ھے۔ موسیقی کیسی ھے۔ عقیدہ کیا ھے۔ دسترخوان پر کیسے بیٹھتے ھیں۔ مہمانوں کی کیسے خدمت کرتے ھیں۔ اپنے پیاروں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتے ھیں اور ایسی بہت ساری دوسری چیزیں ھیں"


1۔ کلچر معاشرے یا معاشرتی گروہ کے اندر انسانی سرگرمیوں کے نمونوں کا مجموعہ ھے۔


2۔ کلچر یہ ھے کہ لوگ اپنے معاشرے کی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر کیسے عمل کرتے ھیں ' سوچتے ھیں اور برتاؤ کرتے ھیں۔


3۔ کلچر یہ ھے کہ لوگ زبان سے لے کر اشارے تک کی علامتوں کو کیسے سمجھتے ھیں۔


پنجابی کلچر دنیا کے قدیم ترین اور امیر ترین کلچروں میں سے ایک ھے۔ اس کا تنوع اور انفرادیت پنجابی شاعری ' فلسفے ' روحانیت ' تعلیم ' آرٹ ' موسیقی ' کھانے ' سائنس ' ٹکنالوجی ' فوجی جنگوں ' فن تعمیر ' روایات ' اقدار اور تاریخ میں واضح ھے۔


زمانہ وسطی میں پنجابی کلچر کسی فرد کی برادری ' ذات اور گاؤں تک محدود تھا۔ آج ایسا نہیں ھے۔ پنجابی کلچر ھر جگہ پھیلا ھوا ھے۔ یہ دلی سے پشاور اور کشمیر سے کشمور تک کے پنجاب کے علاقے میں زیادہ نمایاں ھے۔


پنجابی خوشی سے پیار کرنے والے اور زندہ دل لوگ ھیں۔ ھر ایک روایت اور تہوار کو منانے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ھیں۔


یکم چیتر کو نیا پنجابی سال شروع ھوتا ھے۔ نیا پنجابی سال پنجابیوں کا Happy New Year ھوتا ھے۔ جبکہ پنجابی بہت سارے موسمی تہوار بھی مناتے ھیں۔ جیسے بیساکھی ' دیوالی ' لاھوری اور بہت سے دیگر؛ ایک موسم بہار کا تہوار بسنت (پتنگ بازی) بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ھے۔ رقص کے ذریعے خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا اس طرح کے تہواروں کی ایک خصوصیت ھے۔


پنجابی کلچر میں میوزیکل آرٹ کی سب سے مشہور شکل بھنگڑا ھے اور یہ آھستہ آھستہ مرکزی دھارے میں شامل موسیقی کی صنعت کو اپنی لپیٹ میں لے رھا ھے۔ اس کی لمبی تاریخ کی وجہ سے رقص کی مختلف شکلیں ابھر کر سامنے آئیں۔ جبکہ گدا مقامی پنجابی روایت ھے۔ یہ ایک مزاحیہ گانا اور ناچ ھے جو خواتین پیش کرتی ھیں۔


پنجابی مرد و خواتین کے معروف لوک رقص بھنگڑا ' کرتھی ' جندھوا ' دنداس ھیں۔ جبکہ پنجابی لڑکیوں کے لوک رقص سمی ' گدا ' جاگو ' ککلی ' لڈی ھیں اور مردوں کے لوک رقص دھمال ' ملوائی گدا ' جھومر ' ' مرزا ' سیالکوٹی ' جگنی ' کھچن ' ڈنکارا ' گٹکا ھیں۔


14 مارچ 2021 کو 1 چیتر 2078 ھے۔ 14 مارچ Punjabi New Year ھے۔ اس لیے پنجاب حکومت کو پنجابی سال کی ابتدا Happy New Year کے طور پر پنجاب میں "پنجابی کلچر ڈے" منا کر کرنی چاھیے۔ لیکن پنجاب حکومت 14 مارچ کو نیا پنجابی سال شروع ھونے پر "پنجابی کلچر ڈے" کے بجائے پنجاب کلچر ڈے" منا رھی ھے۔ جبکہ 2 مارچ کو پنجاب میں "بلوچستان کلچر ڈے" نہیں بلکہ "بلوچ کلچر ڈے" منا رھی ھے۔ 


پنجاب کی زمین کے مالک پنجابیوں کو "پنجاب کلچر ڈے" منا کر چونا لگایا جا رھا ھے اور پنجابیوں کی زمین پر قابض ھونے والوں کے لیے "بلوچ کلچر ڈے" منایا جا رھا ھے۔


پنجاب حکومت کو چاھیے کہ 14 مارچ کو نیا پنجابی سال شروع ھونے پر پنجاب میں "پنجاب کلچر ڈے" نہیں بلکہ "پنجابی کلچر ڈے" منانے کا اعلان کرے۔


پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کے لیے ھی نہیں بلکہ پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کے کلچر کے لیے بھی پنجاب حکومت کی طرف سے پنجاب میں "بلوچ کلچر ڈے" ' "پٹھان کلچر ڈے" ' "مھاجر کلچر ڈے" منانے پر پنجابی قوم کو اعتراض نہیں ھے۔


البتہ پنجاب حکومت کی طرف سے پنجاب میں رھنے والے بلوچوں ' پٹھانوں ' ھندوستانی مھاجروں کا کلچر ڈے اگر پنجاب میں منایا جاتا ھے تو پھر سندھ ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا میں رھنے والے پنجابیوں کے لیے "پنجابی کلچر ڈے" منانا پڑے گا۔ 


اس کے لیے؛ پنجاب حکومت کو سندھ ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا کی حکومتوں سے رابطہ کرکے کہنا پڑے گا کہ؛ پنجاب حکومت جب پنجاب میں رھنے والے بلوچوں ' پٹھانوں ' ھندوستانی مھاجروں کا کلچر ڈے مناتی ھے تو پھر سندھ ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا کی حکومتیں اپنے صوبوں میں رھنے والے پنجابیوں کے لیے "پنجابی کلچر ڈے" منائیں۔



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int