بلوچ سندھ پر 236 سال پہلے کیسے قابض ھوئے؟؟؟ مغل بادشاہ ھمایوں کے 1555 سے پنجاب میں آباد کیے گئے بلوچ قبائل کو؛ ایک تو پنجاب سے مغلوں کی حکومت کا 1751 سے خاتمہ ھوجانے کی وجہ سے پنجاب میں مغل بادشاھوں کی 196 سالہ سرپرستی سے محروم ھونا پڑا۔

 بلوچ سندھ پر 236 سال پہلے کیسے قابض ھوئے؟؟؟


مغل بادشاہ ھمایوں کے 1555 سے پنجاب میں آباد کیے گئے بلوچ قبائل کو؛ 


ایک تو پنجاب سے مغلوں کی حکومت کا 1751 سے خاتمہ ھوجانے کی وجہ سے پنجاب میں مغل بادشاھوں کی 196 سالہ سرپرستی سے محروم ھونا پڑا۔ 


دوسرا 1751ء سے قلات کا حکمراں نصیر خان براھوئی بن گیا اور 1486 سے قلات پر قابض بلوچوں کا زوال شروع ھوگیا۔ 


تیسرا 1765ء سے نصیر خان براھوئی کی چچازاد بہن کا شوھر ' احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تیمور شاہ پنجاب کا حکمراں بن گیا۔ 


جسکی وجہ سے نہ ٖصرف قلات بلکہ پنجاب میں بھی بلوچ قبائل کی مشکلات میں اضافہ ھونا شروع ھوگیا لیکن سندھ میں چونکہ مغلوں کے نامز کردہ عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکومت تھی۔ 


اس لیے بلوچستان اور پنجاب سے بلوچ قبائل نے سندھ کا رخ کیا ' جو سماٹ علاقہ تھا اور عباسی کلھوڑا کی فوج میں بھرتی ھونا شروع کردیا اور 1783 میں اپنی نمک حرامی اور قبضہ گیری کی عادت کی وجہ سے عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرکے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ 


تالپور بلوچ قبائل کے وادئ سندھ کی حکمرانی سمبھالنے کے بعد مری ' بگٹی ' کھوسہ ' بجارانی ' سندرانی ' مزاری ' لنڈ ' دریشک ' لغاری ' گورشانی ' قیصرانی ' بزدار ' کھیتران ' پژ ' رند ' گشکوری ' دشتی ' غلام بولک ' گوپانگ ' دودائی ' چانڈیئے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے قبائل کے خاندانوں نے پنجاب اور بلوچستان سے سندھ کے علاقے میں آکر قبضہ گیری دھونس زبردستی اور بدمعاشی سے جاگیروں پر قبضے شروع کر دئیے جو آج تک جاری ھیں ،


جس کا تازہ ترین ثبوت سانگھڑ میں ورکشاب اسٹاپ کے علاقے میں سو سال سے زمینوں کے مالک عیسائی پنجابیوں کی زمین پر بگٹی بلوچوں کے قبضہ کی کوشش اور خواتین پر تشدد اور کلہاڑیوں سے جان سے مارنے کی کوشش ھے 

یہ بلوچ بہادر اتنے ھیں کہ خواتین کو مار کر تشدد کرکے اپنے آپ کو مرد کہتے ھیں اور طاقتور کے پیر پکڑ کر لیٹ جاتے ھیں ..


1783 سال سے لیکر اب تک کے 236 سال کے عرصے سے سندھ کے سماٹ پر بلوچ نے اپنی سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی بالادستی قائم کی ھوئی ھے اور سماٹ خود کو بلوچوں کے سامنے بے بس محسوس کرتے ھیں۔


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int