کیا سندھ کے پنجابی ھمیشہ کے لیے تیسرے درجے کے شھری رھیں گے؟؟؟ کسی بھی قوم کے لیے اھم مسئلہ سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' سیاسی استحکام ' انتظامی بالادستی ھوتا ھے۔ اسوقت دیہی سندھ کے پنجابیوں کی؛ 1۔ سماجی عزت کیا ھے؟ 2۔ معاشی حالت کیا ھے؟ 3۔ سیاسی اھمیت کیا ھے؟ 4۔ انتظامی حیثیت کیا ھے؟

 کیا سندھ کے پنجابی ھمیشہ کے لیے تیسرے درجے کے شھری رھیں گے؟؟؟


کسی بھی قوم کے لیے اھم مسئلہ سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' سیاسی استحکام ' انتظامی بالادستی ھوتا ھے۔ اسوقت دیہی سندھ کے پنجابیوں کی؛

۔ سماجی عزت کیا ھے؟ ۔

 معاشی حالت کیا ھے؟ ۔

 سیاسی اھمیت کیا ھے؟ ۔

 انتظامی حیثیت کیا ھے؟


دیہی سندھ میں پنجابی 1901ء سے آباد ھیں اس لیے سندھی زبان بھی بولتے ھیں سندھی ثقافت بھی اختیار کیے ھوئے ھیں سندھ کی زرعی ترقی میں بھی سب سے اھم کردار سندھ کے پنجابیوں کا رھا ھے سندھ کے سماجی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی مفاد کو بھی سندھ کے پنجابیوں سے کبھی نقصان نہیں ھوا۔


سندھ میں رچ بس جانے اور سندھ کی تعمیر و ترقی میں سب سے اھم کردار ادا کرنے کے باوجود سندھ کے پنجابیوں کی مہاجروں پٹھانوں اور دیگر قوموں کے مقابلے میں نہ سماجی عزت ھے نہ معاشی طور پر خوشحالی ھیں نہ سیاسی طور پر مستحکم ھیں نہ انتظامی بالادستی حاصل ھے۔ 

کیا سندھ کے پنجابی ھمیشہ کے لیے تیسرے درجے کے شھری رھیں گے؟؟؟


1۔ دیہی سندھ میں کتنے پنجابیوں کو بلوچ اور عربی نزاد اھم شخصیتوں کی طرح کی سماجی عزت حاصل ھے؟ 


2۔ دیہی سندھ میں معاشی طور پر مستحکم بلوچوں اور عربی نزادوں کی طرح معاشی طور پر مستحکم پنجابی کتنے ھیں؟ 


3۔ دیہی سندھ کے کتنے پنجابی قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے میمبر اور ڈسٹرکٹ کونسلوں کے چیئرمین ' وفاقی اور صوبائی وزیر ھیں یا رھے ھیں؟ 


4۔ دیہی سندھ کے کتنے پنجابی گریڈ 19 ۔ 20۔ 21۔ 22 کے افسر ھیں یا رھے ھیں؟؟


5- سندھ میں پنجابی پٹھان مہاجر کی آبادی قریب قریب برابر ھے کیا سندھ کے پنجابی سندھ کی سیاست میں مہاجر پٹھان جتنا حصہ پاتے ھیں مہاجر پٹھان کی طرح پنجابی کے نام سے آج تک سندھ کی سیاست میں حصہ ملا کوئی گورنر منسٹر سینیٹر ایم این اے ایم پی اے پنجابی نام کی سیاست کرکے بنا ؟؟؟


جب یہ سب سندھ کا پنجابی نہیں کرتا تو کیا اس لئے اسے تیسرے درجے کے شھری جیسا سلوک ملتا ھے ؟؟؟

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟