بلوچوں اور عربی نژادوں کو کیوں سندھی قرار نہیں دیا جاسکتا؟؟؟

 بلوچوں اور عربی نژادوں کو کیوں سندھی قرار نہیں دیا جاسکتا؟؟؟


قوم کے لیے زبان کے بنیادی عنصر کے علاوہ ثانوی عنصر کے طور پر مشترکہ زمین ' ثقافت اور تاریخ کا ھونا بھی لازم ھے۔ 


سندھ میں رھنے والے بلوچوں اور عربی نژادوں کو اس لیے سندھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا ھے کہ بلوچ اور عربی نژاد صرف سندھی زبان بولتے ھیں لیکن؛


1۔ بلوچوں اور عربی نژادوں نے سندھیوں کی زمین پر ابھی تک قبضہ کیا ھوا ھے۔ اس لیے بلوچوں اور عربی نژادوں نے سندھیوں سے سندھ پر حکمرانی کا حق چھین کر سندھ پر سندھیوں کی حکمرانی کے بجائے اپنی حکمرانی قائم کی ھوئی ھے۔


2۔ بلوچوں اور عربی نژادوں نے سندھیوں کی زمین پر ابھی تک اپنی ثقافت رائج کی ھوئی ھے۔ اس لیے بلوچوں اور عربی نژادوں نے سندھیوں کی ثقافت کو تباہ و برباد کر دیا ھے۔


3۔ بلوچوں اور عربی نژادوں کے سندھ پر قابض ھونے اور سندھیوں کے مقبوض ھونے کی وجہ سے سندھیوں کی تاریخ اور بلوچوں و عربی نژادوں کی تاریخ باھمی اشتراک کے بجائے فاتح اور مفتوح والی تاریخ رھی ھے۔


اس لیے زمین ' ثقافت ' تاریخ کے مشترکہ نہ ھونے کی وجہ سے سندھ پر قابض بلوچوں اور عربی نژادوں کو صرف سندھی زبان بولنے کی وجہ سے سندھی قرار نہیں دیا جاسکتا ..

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int