(انگریز سے پنجاب میں جاگیریں لینے والے پٹھان ' بلوچ ' عربی نزاد)*

 پنجاب تے پاکستان دی جڑاں وچ بیٹھے دراندازاں ، قبضہ گیراں تے پناہ گیراں دی لسٹ ،

 سوچن آلی گل انگریز نیں ایناں نوں اے زمیناں تے جگیراں کہڑی خدمت دے صلے وچ دتیاں ؟؟؟

اے تے آپنے آپ نوں وڈے غیرت آلے بہادر آکھدے نیں ؟؟؟

انگریز نیں ایناں دی کہڑی بہادری دے صلے وچ جگیراں تے زمیناں دتیاں اور وی پنجاب وچ ؟؟؟

پنجاب پنجابی نوں انگریز دی فوج کہن آلے وی ایہو ای پٹھان بلوچ تے ھندی بولن آلے نیں تے ایناں دے جھوٹ تے دروغ دا ایس توں وڈا کی ثبوت ھووے گا .

ھن او ویلہ دور نئیں جد پنجاب دے وارث ایناں انگریز دے پٹھو ، غدار ، کتے نہوان آلیاں کولوں آپنی دھرتی ماں آزاد کران گے. ان شاء الله

*افضل پنجابی*


**(انگریز سے پنجاب میں جاگیریں لینے والے پٹھان ' بلوچ ' عربی نزاد)**


تحریر: رانا علی 


جنہوں نے انگریز سے پنجاب میں لاکھوں ایکڑ زمین وصول کی۔ ان میں سب سے بڑی تعداد پٹھانوں کی تھی۔ دوسرے نمبر پر بلوچوں کا نمبر آتا تھا۔ پھر عربی نزادوں کا نمبر آتا تھا۔


بہاولپور۔

1۔ رکن الدولہ ، نصرت جنگ، حافظ الملک، مخلص الدولہ، نواب بہادر، نواب صادق محمد خان داؤدپوترا 

(انکے انگریز کے لیے کارنامے بہت طویل ہیں اور ایک الگ پوسٹ میں انہیں بیان کرچکا ہوں)

ملیر کوٹلہ


2۔ نواب محمد ابراہیم علی خان، (افغان)

پتوڑی۔


3۔ نواب ممتاز حسین علی خان ، (افغان)

لوہارو۔


4۔ نواب امیرالدین احمد خان، (مُغل)

دوجانہ۔


5۔ نواب جلال الدولہ مستقل جنگ بہادر، نواب محمد ممتاز علی خان (افغان)

دہلی ڈویژن


6۔ مرزا سلمان شکوہ (مغل)


7۔ محمد سراج الدین حیدر خان آف فرخ نگر (بُخاری)


8۔ نواب ابراہیم علی خان آف کنج پورا (پٹھان)


9۔ نواب عظمت علی خان، منڈل (لیاقت علی خان کا پردادا)


10۔ نواب فضل احمد خان آف پانی پت (عرب انصاری) 

جالندھر ڈویژن


11۔ شہزادہ نادر سڈوزئی (افغان)

 (کابل کے بھگوڑے حکمران شاہ شجاع الملک کی اولاد)


12۔ فیض طالب خان آف رائے کوٹ 


13۔ مولوی سیّد شریف حسین آف جگراؤں


14۔ نواب نظام الدین خاں آف ممڈوت (پٹھان ، پہلے قصور میں مقیم تھے)


15۔ سردار خان ، قصوریا

ضلع لدھیانہ


16۔ سردار محمد ہمدم سڈوزئی (افغان)


17۔ خان بہادر رائے عنایت خان آف رائیکوٹ


18۔ میر سیّد احمد آف جگراؤں


19۔ سردار حسن رضا آف لدھیانہ


20۔ شہزادہ سلطان فغفور آف لدھیانہ

ضلع لاہور۔


21۔ نواب نثار علی خان قِزلباش


22۔ شہزادہ صالح محمد


23۔ فقیر سید حسین الدین ، بخاری


24۔ شیخ غیاث الدین


25۔ ملک غلام محمد خان آف بیتو


26۔ لاہور کا سڈوزئی (افغانی) خاندان


27۔ لاہور کا مالوائی خاندان


28۔ خان بہادر سردار محمد شہباز خان خلف زئی آف قصور


29۔ شہزادہ احمد علی درانی (افغانی)

پشاور ڈویژن

ہزارہ ضلع۔


30۔ نواب سر محمد اکرم خان آف امب (تنولی)


31۔ راجہ جہانداد خان ، خان بہادر ، گکھڑ ، آف خان پور


32۔ سمندر خان گھڑی حبیب اللہ (سواتی ، عربی النسل)


33۔ علی گوہر خان آف اگرور (افغانی)


34۔ سید محمد خان ، کرل

 

35۔ خان زمان خان کالابات (عثمانزئی)


36۔ قاضی فضل الٰہی آف سکندرپور (اعوان)


37۔ دوست محمد خان آف شِنگری (تنولی)


38۔ مقدم غُلام احمد آف کوٹ نجیب اللہ

ضلع پشاور۔


39۔ نواب وزیرزادہ محمد افضل خان ، کے ایس آئی ، سڈوزئی (افغانی)


40۔ ارباب محمد حسین خان ، مہمند (افغانی)


41۔ قاضی عبدالقادر خان آف پشاور (قاضی خیل ، یوسفزئی، دولتزئی شاخ سے)


42۔ ارباب محمد عباس خان، خلیل، آف تاہکل بالا (گھوریا خیل افغان)


43۔ محمد خان، سردار بہادُر (افغانی پناہ گیر)


44۔ خواجہ محمد خان کمالزئی آف ہوتی (افغانی پناہ گیر)


45۔ محمد عمر خان کھادرزئی آف شیوا


46۔ محمد اکبر خان آف ٹوپی (عثمانی زئی پٹھان)


47۔ سردار بہادر حبیب خان آف کھُنڈا (افغانی پناہ گیر ، دولت خیل سڈوزئی)


48۔ مولوی محمد جان آف کافر ڈھیری (عمرزئی پٹھان)


49۔ حسین شاہ آف ولئی (کاکا خیل)


50۔ دوست محمد خان آف گڑی دولت زئی (امان زئی، کپرخیل پٹھان)


51۔ اکبر خان آف اسماعیلیہ (اکو خیل)


52۔ خان بہادر ابراہیم خان آف مردان (کشرانزئی، کمالزئی)


53۔ محبت خان آف تورو ، مردان (مشرانزئی کمالزئی)


54۔ آذاد خان آف ہُنڈ (سڈوزئی پٹھان

ضلع کوہاٹ۔


55۔ سردار سُلطان جان (افغانی پناہ گیر)


56۔ نواب سر خواجہ محمد خان، تری (اکوڑہ خٹک کے تیری پٹھان)


57۔ نوابزادہ رستم خان ، بنگش (بائیزئی بنگش)


58۔ مظفر خان تحصیل دار آف ہنگو 


59۔ خان بہادر محمد عثمان خان آف ہنگو


60۔ شیر محمد خان  


61۔ سید احمد شاہ، بانوری (عربی النسل)


62۔ بلند خان ، خٹک ، آف خوشالگڑھ (اکوڑہ خٹک کا سردار)


63۔ سید مخدوم شاہ جیلانی 


64۔ خانزادہ فتح محمد خان آف نیلب (خٹک)

ڈیرہ جات ڈویژن

ضلع بنّوں۔


65۔ خان عبداللہ، خان بہادر، آف عیسیٰ خیل


66۔ ملک یار محمد خان آف کالاباغ (اعوان)


67۔ میاں سُلطان علی آف میانوالی (عربی النسل) 


68۔ مانی خان، سپرکئی وزیر، آف گڑھی مانی خان (درویش خیل وزیری)

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان۔


69۔ الہ داد خان، سڈوزئی (نواب محمد سرفراز خان کا بیٹا)


70۔ نواب رب نواز خان، علیزئی (درانی) (قندھار کے بھگوڑے مُلتان اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان پر قابض ہوئے)


71۔ نواب حافظ عبداللہ خان، علیزئی (درانی) (قندھار کے بھگوڑے مُلتان اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان پر قابض ہوئے)


72۔ نواب غلام قاسم خان آف ٹانک (کاٹی خیل)


73۔ نواب عطاء محمد خان، خاکوانی


74۔ حافظ سمندر خان، خواجکزئی 


75۔ سردار محمد افضل خان، گنڈاپور


76۔ سردار علاوردی خان آف ہزارہ (قِزلباش)


77۔ سربلند خان، اسماعیل زئی


78۔ غلام سرور خان، سڈوزئی

ضلع ڈیرہ غازی خان۔


79۔ نواب سر امام بخش خان مزاری

کارناموں کی فہرست بہت لمبی ہے صفحہ 602 سے 613 تک ملاحظہ کریں

لب لباب یہ کہ انگریز نے مزاریوں کے انگریز سرکار کے لیے کارناموں کے عوض انہیں ڈیرہ ،راجن پور ملتان اور سندھ میں کشمور تک نوازہ 


80۔ نواب محمد خان، لغاری (بلوچ)


81۔ میاں شاہ نواز خان سرائی آف حاجی پور (کلہوڑو)


82۔ سردار بہادر خان ، کھوسہ (بلوچ)


83۔ سردار میران خان، دریشک (بلوچ)


84۔ سردار جلاب خان ، گُرچانی (بلوچ)


85۔ سردار احمد خان ، سُوری لُنڈ (بلوچ)


86۔ سردار فضل علی خان ، قیصرانی (بلوچ)


87۔ اللہ بخش خان، سڈوزئی


88۔ سردار مزار خان ، تبی لُنڈ (بلوچ)


89۔ محمد ماسو خان نوٹکانی (بلوچ)


90۔ میاں اللہ بخش خان آف تونسہ (عربی النسل برکزئی پیر)


91۔ محمد خان، میرانی (بلوچ)

ضلع مظفرگڑھ


100۔ محمد سیف اللہ خان آف خان گڑھ (پٹھان)


101۔ میاں محبوب خان بہادر، گُرمانی (بلوچ)

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟