سندھ میں سندھی بولنے والی غیر سندھی قومیں کونسی ھیں ؟؟؟؟

 سندھ میں سندھی بولنے والی غیر سندھی قومیں کونسی ھیں ؟؟؟؟ 


سندھ میں سندھی بولنے والوں کی 5 کیٹیگری ھیں۔


1.ایک تو سماٹ سندھی ھیں ' جو اصل سندھی ھیں۔ یہ ھندو ھیں یا ھندو سے مسلمان ھوئے۔


2. بھٹو ' بھٹی ' مہر ' کلیار ' جویا ' کچھیلا ' کھرل ' سیال ' کھوکھر ' کھیڑے وغیرہ ذاتیں ھیں۔ یہ وہ پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1900 سے بھی بہت پہلے سے سندھ میں رہ رھے ھیں اور اب تو گھر میں اور آپس میں بھی سندھی ھی بولتے ھیں۔


3. آرائیں ' جاٹ ' راجپوت ذات کے وہ پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1901 اور 1932 میں جا کر سندھ میں آباد ھوئے سندھ کی ثقافت اور رسم رواج اختیار کرلینے کے بعد اب سندھی ھی لگتے ھیں اور سندھی زبان بھی بولتے ھیں ' لیکن گھر میں یا آپس میں اب بھی پنجابی ھی بولتے ھیں۔


4. بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1700 میں عباسی کلھوڑا کے سندھ پر حکومت کے دور میں سندھ آنا شروع ھوئے اور عباسی کلھوڑا سے حکومت چھین کر سندھ پر حکومت کرنا شروع کر دی اور مزید بلوچوں کو لا کر سندھ میں زمینیں دے کر آباد کرنا شروع کر دیا۔ یہ گھر میں بلوچی یا سرائیکی لیکن باھر سرائیکی ھی بولتے ھیں اور زیادہ تر اپنے نام کے ساتھ اب بھی بلوچ ضرور لکھتے ھیں۔


5. عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ عربی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں۔ جنھوں نے محمد بن قاسم کے سندھ پر قبضے کے بعد سے عربوں اور ترکوں کے سندھ پر قبضے کے دوران ' مختلف وقتوں میں ایران کے راستے سندھ آکر آستانے اور مزار بنا کر آباد ھونا اور پیری مریدی کرنا یا حکومتی معاملات سے وابستہ ھونا شروع کیا۔


دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں ' عربی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں اور بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کا آپس میں بزنس اور سوشل انٹر ایکشن ھے۔ لیکن دیہی سندھ پر اس وقت سماٹ سندھیوں اور پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کے مقابلے میں عربی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں اور بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کی سوشل ' اکنامک اور پولیٹیکل ڈومینیشن ھے۔


شہری سندھ کے علاقے ' کراچی میں سندھی کے علاوہ پنجابی ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' پٹھان ' راجستھانی ' گجراتی ، یوپی والے اور سی پی والے رھتے ھیں ' جو خود کو سندھی نہیں کہلواتے۔ نہ انکو سندھی آتی ھے اور نہ انکا سندھیوں کے ساتھ بزنس یا سوشل انٹر ایکشن ھے اور نہ وہ سندھی بننے یا خود کو سندھی کہلوانے پر تیار ھیں۔ لیکن شہری سندھ پر اس وقت پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' پٹھان ' بلوچ ' راجستھانی ' گجراتی کے مقابلے میں یوپی والوں اور سی پی والوں کی سوشل ' اکنامک اور پولیٹیکل ڈومینیشن ھے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int