پنجابی زبان کا مرثیہ اور جادو

 پنجابی زبان کا مرثیہ اور جادو


کشمیر اور جموں کو پنجاب سے الگ کیا گیا۔ اس کے بعد دھلی اور ھریانہ کو بھی ۔۔۔ انڈیا پاکستان پارٹیشن کے نام پر بعد میں پنجاب کو مزید تقسیم کیا گیا۔

 پوسٹ کو سمجھنے کے لیے آپ کو تاریخ میں علمی غوطہ لگانا پڑے گا۔ اب سرائیکی کے نام پر مزید تقسیم کرنے کی باتیں کی جاتیں ھیں۔


ایوب دور کی مردم شماری سے جب آپ رجوع کرتے ھیں یا برٹش راج کا گزٹ دیکھتے ھیں تو آپ کو سرائیکی زبان کا وجود نہیں ملے گا۔ گورے نے قبضہ کے بعد کلکتہ میں اردو زبان کو جنم دینے کے بعد اسے پنجابیوں پر نازل کرنا شروع کردیا۔ پلان کے مطابق پنجابی علاقوں پر اردو کو زبردستی نافذ کیا گیا۔ یوپی اور دھلی کے بابوؤں کو لیاقت علی خان کے سہارے ساٹھ کی دھائی تک دھڑا دھڑا سندھ اور پاکستان پر مسلط کرکے سندھی ' جوکہ دریائے سندھ کی دھرتی کے جائے پنجابیوں کے بھائی ' بہن یا کزن ھیں۔ ان کو حقوق سے محروم کیا جاتا رھا۔ گنگا جمنا والے انڈس ویلی کے ناگرک پر حاوی ھوگئے۔ 


لیاقت علی خان یوپی کے تھے۔ مگر گورے کی وفاداری کی وجہ سے انہیں کرنال میں جاگیر سے نوازہ گیا اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم بھی بنے۔ مگر انہوں نے نہ آزادانہ الیکشن کروایا۔ نہ ھی ھار کے خوف سے الیکشن کرانے کا سوچا۔ پاکستان بننے کا سب سے زیادہ نقصان پنجابی اور اس کے بعد سندھی کو ھوا۔ سندھ کی ساری مڈل کلاس انڈیا چلے گئی اور سندھ کی معاشی ' سماجی اور علمی پاور کے انڈیا ھجرت کرنے باعث سندھ میں خلاء پیدا ھوگیا۔ جس میں ڈیموگرافک خلاء سب سے اھم ھے۔ جبکہ پنجابی لاکھوں کی تعداد میں شہید ھوئے ' کروڑوں بے گھر ھوئے۔ اس کے ساتھ پنجابی علاقوں کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ 


پنجابی زبان کا جادو یہ ھے کہ؛ اسکول میں پڑھائی نہیں جاتی۔ ابلاغ میں موجود نہیں۔ پنجابی لوگ اردو کی غلامی کے باعث پنجابی میں بات کرتے ھوئے شرماتے ھیں۔ مگر پھر بھی حال یہ ھے کہ؛ 

بالی وڈ کے گانے ھوں یا جگت بازی کا اردو زبان میں مکس کرکے تڑکا لگانا یا پھر کوئی لطیفہ ھو۔ پنجابی بولی آپ کو ھر سطح پر اپنی زرخیزی اور موجودگی کا بھرپور اظہار کرتی ھوئی نظر آتی ھے۔ بابا فرید ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلہے شاہ ' وارث شاہ اور میاں محمد بخش کی دانائی ' اسلوب اور شاعری کو مٹائے مٹایا نہیں جاسکتا۔ 


آخر میں پیشگی ان نابالغوں کے لیے جو کہیں گے کہ؛

 پوسٹ اردو میں کیوں کی ھے؟ 

ان کے لیے میرا جواب یہ کہ؛

 پوسٹ اسی شکوہ کی وجہ سے تحریر کی گئی ھے۔ جسکا رونا رو رھا ھوں۔

 دوسری مثال یہ دینا چاھوں گا کہ؛

 انڈیا میں ھندی پانچ صوبوں کے علاوہ نہیں بولی جاتی۔ جو اس زبان کی جائے پیدائش ھے۔ 

تیسری بات کہ؛

 پانچ سو ملین لوگ انڈیا میں اپنے ھم وطنوں سے بات چیت یا بطور رابطہ زبان انگلش بھاشا کو استعمال کرتے ھیں۔ آخری بات کہ؛

 میں کسی بھی زبان یا کلچر کا مخالف نہیں ھوں۔ یہ پوسٹ پنجابی زبان کے نوحہ کے طور پر تحریر کررھا ھوں۔ اپنے بولی کے چھن جانے کے اسباب کا ذکر کرنا مجھے مطلوب تھا۔ شکریہ

«Malik Imtiaz»

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )